پی ایچ پی سافٹ ویئر میں سنگین خامی، دنیا بھر میں ویب سائٹس پر سائبر حملوں کی لاکھوں کوششیں، سرکاری اداروں نے سروسز عارضی طور پر بند کر دیں
دنیا بھر میں ویب سائٹس کو سائبر حملوں کے بڑھتے ہوئے خطرے کا سامنا ہے، جہاں سائبر سکیورٹی کمپنیوں کے مطابق ہیکرز نے پی ایچ پی (PHP) پروگرامنگ لینگویج میں حال ہی میں دریافت ہونے والی ایک سنگین خامی سے فائدہ اٹھانے کی لاکھوں کوششیں کی ہیں،امریکی نیشنل سکیورٹی ایجنسی نے خبردار کیا ہے کہ اس خامی کے ذریعے حملہ آور ویب سرورز کا کنٹرول حاصل کرنے، حساس معلومات چرانے اور آن لائن خدمات میں خلل ڈالنے کی صلاحیت حاصل کر سکتے ہیں
پی ایچ پی دنیا بھر میں تقریباً 70 فیصد ویب سائٹس کے نظام میں استعمال ہوتی ہے،اس میں سامنے آنے والی سکیورٹی خامی کے بعد مختلف ممالک کی حکومتوں اور کمپنیوں نے ممکنہ حملوں سے بچاؤ اور سافٹ ویئر کی اصلاحات نافذ کرنے کے لیے اپنی بعض ویب سائٹس عارضی طور پر آف لائن کر دیں
برطانیہ میں سائبر سکیورٹی کی وزیر لِز لائیڈ نے پارلیمان کو بتایا کہ 32 سرکاری خدمات عارضی طور پر بند کی گئی ہیں،ان کے مطابق یہ اقدام بڑی حد تک احتیاطی تدابیر اور سکیورٹی اپ ڈیٹس نافذ کرنے کے لیے کیا گیا،برطانوی وزیراعظم کے دفتر نے کہا کہ عوام کے لیے دستیاب اہم سرکاری خدمات متاثر نہیں ہوئیں، تاہم بعض محدود خدمات عارضی طور پر بند رہ سکتی ہیں
سکیورٹی ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی خامیوں سے فائدہ اٹھانے والے حملہ آور ویب سائٹس کے نظام میں غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں صارفین کا ڈیٹا چوری ہونے، ویب سائٹس بند ہونے اور آن لائن خدمات متاثر ہونے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے
متاثرہ اداروں کے لیے فوری ترجیح سافٹ ویئر کی سکیورٹی اپ ڈیٹس نافذ کرنا، کمزور نظاموں کی جانچ کرنا اور ممکنہ غیر مجاز رسائی کی نشاندہی کرنا ہے،چونکہ پی ایچ پی دنیا بھر کی بڑی تعداد میں ویب سائٹس کے بنیادی ڈھانچے کا حصہ ہے، اس لیے اس خامی کی شدت اور اس سے بچاؤ کے اقدامات عالمی سطح پر اہمیت اختیار کر گئے ہیں





