نیتن یاہو انتخاب ہار گئے تو فلسطینیوں کے بارے میں اسرائیلی پالیسی کتنی بدلے گی؟اسرائیل میں آئندہ ہفتے ہونے والے انتخابات کے نتیجے میں وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کی شکست کی صورت میں فلسطینیوں کے بارے میں اسرائیلی پالیسی میں بڑی تبدیلی کے امکانات محدود دکھائی دیتے ہیں،نیتن یاہو اور ان کے اہم سیاسی حریف گادی آئزن کوٹ دونوں آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی مخالفت کرتے ہیں، جبکہ غزہ کی جنگ اور حماس کے مستقبل کے حوالے سے بھی دونوں کے مؤقف میں نمایاں مماثلت پائی جاتی ہےخبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے اسرائیل پر حملوں کے تین سال بعد بھی دونوں رہنما غزہ کے معاملے پر سخت مؤقف رکھتے ہیں،ان کا کہنا ہے کہ اگر حماس ہتھیار ڈالنے پر آمادہ نہ ہوئی تو غزہ میں دوبارہ جنگ شروع کی جا سکتی ہے،حماس کے منشور میں اسرائیل کی تباہی کا مطالبہ بھی شامل رہا ہےتاہم، دونوں رہنماؤں کے درمیان مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی توسیع کے معاملے پر اختلافات موجود ہیں،ان کے ممکنہ حکومتی اتحادوں میں فرق بھی اسرائیل کی آئندہ پالیسیوں کا رخ متعین کر سکتا ہےمغربی کنارے میں لاکھوں اسرائیلی آبادکار رہتے ہیں،اسرائیل نے یہ علاقہ 1967 کی جنگ میں قبضے میں لیا تھا،بیشتر ممالک ان بستیوں کو بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی سمجھتے ہیں، جبکہ اسرائیل اس قانونی مؤقف سے اختلاف کرتا ہےنیتن یاہو کے دور حکومت میں مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی توسیع تیز ہوئی، جس میں ایسے چھوٹے آبادکاری مراکز بھی شامل ہیں جو ان علاقوں میں قائم کیے گئے جہاں شہری انتظام فلسطینی اتھارٹی کے پاس ہےاسرائیلی انتخابات کے بعد حکومت کی تشکیل میں اتحادی جماعتوں کا کردار اہم ہوگا،اگر نیتن یاہو اقتدار سے باہر ہو جاتے ہیں تو بھی آزاد فلسطینی ریاست، غزہ میں فوجی کارروائیوں اور فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی آبادکاری جیسے بنیادی معاملات پر پالیسی میں بڑی تبدیلی یقینی نہیں،البتہ مغربی کنارے میں بستیوں کی توسیع اور حکومتی ترجیحات کے حوالے سے نئی حکومت کا طرز عمل مختلف ہو سکتا ہے





