امریکی وسط مدتی انتخابات سے قبل ڈیموکریٹس عدالت پہنچ گئے، ٹرمپ انتظامیہ پر مودی کی طرح ووٹ خارج کرنے اور ریاستوں کے انتخابی اختیارات میں مداخلت کا الزام
امریکا میں 3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے صرف دو ہفتے قبل ڈیموکریٹک پارٹی کی قیادت نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے خلاف وفاقی عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا ہے،ڈیموکریٹس نے الزام عائد کیا ہے کہ انتظامیہ ریاستوں کے انتخابی اختیارات پر قبضہ کرنے اور ریاستی و مقامی انتخابی حکام کو مبینہ غیر قانونی مطالبات تسلیم کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش کر رہی ہے
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق منگل کو واشنگٹن کی وفاقی عدالت میں دائر کیے گئے مقدمے میں عدالت سے درخواست کی گئی ہے کہ انتظامیہ کو قانونی طور پر رجسٹرڈ ووٹروں کے نام انتخابی فہرستوں سے خارج کرنے اور انہیں ووٹ ڈالنے سے روکنے سے منع کیا جائے
مقدمے میں ڈیموکریٹک سینیٹ کے اقلیتی رہنما چک شومر اور ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما حکیم جیفریز سمیت دیگر افراد درخواست گزار ہیں،انہوں نے عدالت سے یہ فیصلہ دینے کی بھی استدعا کی ہے کہ انتظامیہ نے 3 نومبر کے انتخابات سے قبل ریاستی انتخابی حکام کو مقدمات اور فوجداری کارروائی کی دھمکیاں دے کر غیر قانونی اقدام کیا ہے
مقدمے میں امریکی محکمہ انصاف کی ریاست کیلیفورنیا میں حالیہ کارروائی کا حوالہ بھی دیا گیا ہے،محکمہ انصاف نے وہاں ریاستی انتخابی حکام کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا تاکہ ایسے افراد کے ڈاک کے ذریعے بھیجے گئے ووٹوں کی گنتی روکی جا سکے جنہیں وفاقی حکومت نے ممکنہ طور پر غیر امریکی شہری قرار دیا ہے، جب تک ان کی امیگریشن حیثیت کی تصدیق نہ ہو جائے
ڈیموکریٹس نے اپنی درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ صدر ٹرمپ ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے امریکی انتخابات اور انتخابی دھاندلی کے بارے میں غلط معلومات پھیلاتے رہے ہیں،ان کے مطابق انتخابی دھاندلی سے متعلق ان دعوؤں کو بارہا غلط ثابت کیا گیا، لیکن اس کے باوجود یہ سلسلہ جاری رہا۔
یہ مقدمہ امریکی انتخابات کے انتظام میں وفاقی حکومت اور ریاستوں کے اختیارات کے درمیان جاری قانونی تنازعے کو نمایاں کرتا ہے،امریکا میں انتخابات کا انتظام بنیادی طور پر ریاستی اور مقامی حکام کی ذمہ داری ہے، جبکہ وفاقی حکومت انتخابی قوانین کے نفاذ اور شہری حقوق کے تحفظ کے حوالے سے اپنا کردار ادا کرتی ہے،عدالت کا فیصلہ اس بات پر اثر انداز ہو سکتا ہے کہ انتخابات سے پہلے ووٹر رجسٹریشن، ووٹوں کی گنتی اور انتخابی حکام کے اختیارات سے متعلق وفاقی حکومت کی مداخلت کی قانونی حدود کیا ہوں گی، وفاقی حکومت نے کیلی فورنیا میں 20,000 سے زائد ووٹروں کو ممکنہ طور پر غیر امریکی شہری قرار دے کر ان کے ڈاک کے ذریعے بھیجے گئے ووٹوں کی گنتی روکنے کی درخواست کی،ریاستی حکام نے ان کی شہریت کی تصدیق کے بغیر ووٹ روکنے پر اعتراض کیا
اسی طرح نیواڈا میں وفاقی حکام نے پہلے 16,000 افراد کو ممکنہ غیر شہری قرار دیا، لیکن ریاستی انتخابی حکام کی جانچ میں فراہم کردہ 185 ناموں والے تمام افراد امریکی شہری نکلے
جبکہ پنسلوانیا میں بھی وفاقی حکومت نے جولائی میں تقریباً 15,000 افراد کی جانچ کا مطالبہ کیا تھا، لیکن دستیاب رپورٹ میں ان کے نام ووٹر فہرستوں سے خارج کیے جانے کی تصدیق نہیں ہے
نیو جرسی بھی وفاقی حکومت کے ان دعوؤں میں آیا ہے جن کے مطابق وہاں ممکنہ غیر شہری ووٹر رجسٹرڈ ہیں، تاہم نام کاٹنے کی مصدقہ تعداد سامنے نہیں آئی
واضع رہے کسی ووٹر کو مشتبہ قرار دینا، اس کی رجسٹریشن ختم کرنا اور اس کا ووٹ شمار ہونے سے روکنا تین الگ معاملات ہیں،موجودہ رپورٹس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ان چاروں ریاستوں میں قانونی طور پر رجسٹرڈ ووٹروں کے نام واقعی حذف کیے جا چکے ہیں





