سعودی عرب میں حملوں میں شدت، امریکی محکمہ خارجہ کا سفارت کاروں اور ان کے اہل خانہ کو ملک چھوڑنے کا حکم
سعودی عرب میں ڈرون اور میزائل حملوں میں اضافے کے بعد امریکی محکمہ خارجہ نے غیر ہنگامی امریکی سرکاری ملازمین اور ان کے اہل خانہ کو سعودی عرب چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے،حملوں میں تین افراد ہلاک ہو گئے ہیں، جبکہ اہم تنصیبات اور ہوائی اڈوں کو نشانہ بنائے جانے کے بعد خطے میں کشیدگی بڑھ گئی ہے
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق سعودی حکام نے بتایا کہ ایک آئل فیلڈ پر حملے کی کوشش کے دوران فضا میں تباہ کیے گئے ڈرون کا ملبہ گرنے سے دو افراد ہلاک ہوئے، جبکہ دمام کے کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملے میں ایک شخص جان سے گیا
رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک ماہ کے دوران ایران کے حمایت یافتہ یمن کے حوثی گروپ اور سعودی عرب کے درمیان محاذ آرائی میں اضافہ ہوا ہے،حوثیوں نے سعودی حملوں کے جواب میں مملکت کے ہوائی اڈوں، توانائی کی تنصیبات اور فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں،حالیہ دنوں میں ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو نشانہ بنانے والا حملہ بھی کئی برسوں کے دوران مملکت میں ہونے والے مہلک ترین حملوں میں شمار کیا گیا ہے
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب میں غیر ہنگامی امریکی سرکاری ملازمین اور ان کے اہل خانہ کی روانگی کا حکم جاری کیا گیا ہے،ترجمان کے مطابق ایران کی حمایت یافتہ حوثی فورسز نے سعودی عرب کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی ہیں، جن میں شہری ہوائی اڈوں اور دیگر اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے،ان حملوں کے نتیجے میں شہری ہلاکتیں اور سفری سرگرمیوں میں شدید خلل پیدا ہوا ہے
امریکی ترجمان نے خبردار کیا کہ جاری کشیدگی تیزی سے مزید شدت اختیار کر سکتی ہے،امریکی اہلکاروں اور ان کے اہل خانہ کی روانگی کا حکم خطے میں بڑھتے ہوئے سکیورٹی خطرات کے تناظر میں سامنے آیا ہے





