Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

فرانس اور اٹلی میں پُرتشدد ہنگاموں کے بعد ہنگری اور پولینڈ کی سخت امیگریشن پالیسیوں کا دفاع، یورپ میں تارکینِ وطن پر بحث تیز

فرانس اور اٹلی میں پُرتشدد ہنگاموں کے بعد ہنگری اور پولینڈ کی سخت امیگریشن پالیسیوں کا دفاع، یورپ میں تارکینِ وطن پر بحث تیز

فرانس اور اٹلی میں گاڑیوں اور تاریخی عمارتوں کو آگ لگانے، توڑ پھوڑ اور پُرتشدد احتجاج کی تصاویر سامنے آنے کے بعد یورپ میں امیگریشن پالیسیوں پر بحث شدت اختیار کر گئی ہے،ہنگری اور پولینڈ کی قیادت ان واقعات کو سخت سرحدی پالیسیوں کے دفاع کے لیے پیش کر رہی ہے اور مؤقف اختیار کر رہی ہے کہ تارکینِ وطن کی آمد پر سخت کنٹرول ضروری ہے
امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کی رپورٹ کے مطابق، ہنگری اور پولینڈ طویل عرصے سے تارکینِ وطن کی آمد محدود رکھنے کی پالیسیوں پر عمل پیرا ہیں،ان پالیسیوں کے باعث دونوں ممالک کے یورپی یونین کے ساتھ تنازعات بھی رہے ہیں،ہنگری میں سابق وزیرِاعظم وکٹر اوربان کی حکومت نے غیر قانونی اور غیر منظم ہجرت روکنے کے لیے سخت اقدامات کیے، جبکہ پولینڈ کو بھی 2025 میں امیگریشن سے متعلق معاملات پر یورپی یونین کی جانب سے پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا
یورپی ادارے یورو اسٹیٹ کے دستیاب اعداد و شمار کے مطابق، 2025 میں فرانس میں بیرونِ ملک پیدا ہونے والے افراد کی تعداد تقریباً ایک کروڑاور اٹلی میں تقریباً 70 لاکھ تھی،اس کے مقابلے میں پولینڈ میں ایسے افراد کی تعداد تقریباً 10 لاکھ جبکہ ہنگری میں 7 لاکھ سے کم تھی،ان اعداد و شمار میں یورپی یونین کے دوسرے رکن ممالک میں پیدا ہونے والے افراد بھی شامل ہیں،پولینڈ میں بیرونِ ملک پیدا ہونے والی آبادی کا تقریباً نصف یوکرین سے تعلق رکھتا تھا
فرانس میں ہونے والے تشدد پر ردعمل دیتے ہوئے ہنگری کے وزیرِاعظم پیٹر میگیار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ یورپ ہنگری پر بھروسہ کر سکتا ہے۔ انہوں نے بے مقصد تباہی اور بلاجواز تشدد کی مذمت کرتے ہوئے اپنے ملک کے مؤقف کو یورپی سلامتی اور نظم و ضبط سے جوڑا
فاکس نیوز کی رپورٹ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے قومی سلامتی کے مشیر مائیک والٹز کی جانب سے فرانس کے ہنگاموں کو بڑے پیمانے پر امیگریشن سے جوڑنے کا بھی ذکر کیا گیا ہے،اس طرح یہ واقعات صرف فرانس میں امن و امان کا مسئلہ نہیں رہے بلکہ یورپ اور امریکہ میں امیگریشن کی پالیسیوں پر جاری سیاسی بحث کا حصہ بن گئے ہیں
تاہم، فرانس اور اٹلی میں ہونے والے تشدد کو تارکینِ وطن کی پوری آبادی سے منسوب کرنے کے لیے انفرادی واقعات اور ذمہ دار افراد کے بارے میں شواہد ضروری ہیں،بیرونِ ملک پیدا ہونے والے باشندوں کی مجموعی تعداد بذاتِ خود جرائم یا بدامنی کی شرح ثابت نہیں کرتی،اسی طرح ہنگری اور پولینڈ میں تارکینِ وطن کی تعداد نسبتاً کم ہونے سے یہ نتیجہ بھی خودبخود اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ اس کی وجہ صرف سخت امیگریشن پالیسیاں ہیں
یورپ میں جاری اس بحث کا بنیادی سوال یہ ہے کہ حکومتیں سرحدوں پر کنٹرول، پناہ گزینوں کے حقوق، معاشی ضروریات اور عوامی سلامتی کے درمیان توازن کس طرح قائم کرتی ہیں،فرانس اور اٹلی کے ہنگاموں نے ان اختلافات کو مزید نمایاں کر دیا ہے

قومی خبریں سے مزید