Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

اٹلی میں مہنگائی کے خلاف احتجاج پُرتشدد، میلان میں 500 فوجی تعینات کرنے کا فیصلہ، حکومت کے نئے سخت سکیورٹی اقدامات کی تیاری

اٹلی میں مہنگائی کے خلاف احتجاج پُرتشدد، میلان میں 500 فوجی تعینات کرنے کا فیصلہ، حکومت کے نئے سخت سکیورٹی اقدامات کی تیاری
اٹلی کی حکومت نے مہنگائی اور بڑھتے ہوئے اخراجاتِ زندگی کے خلاف احتجاج کے دوران توڑ پھوڑ، لوٹ مار اور پولیس کے ساتھ جھڑپوں کے بعد میلان میں 500 فوجی تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے،وزیرِاعظم جورجیا میلونی کی دائیں بازو کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ ریاست امن و امان کی بحالی کے لیے سخت کارروائی کرے گی،ہفتے کے روز مزید مظاہروں کی منصوبہ بندی کے پیش نظر حکومت نئے سکیورٹی اقدامات بھی تیزی سے نافذ کرنے کی تیاری کر رہی ہے
برطانوی اخبار گارڈین کے مطابق، ہفتے اور اتوار کو میلان میں ہونے والے ہنگاموں کے دوران پولیس نے 271 نوجوانوں کو حراست میں لیا،نقاب پوش نوجوانوں نے کوڑے کے ڈبوں کو آگ لگائی، دکانوں میں توڑ پھوڑ کی اور کھڑکیاں توڑ دیں،شہر کے مشہور گرجا گھر ڈوومو کے آس پاس کے علاقے میں بھی دکانوں اور املاک کو نقصان پہنچایا گیا
پولیس نے پُرتشدد ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور واٹر کینن استعمال کئیے ،یہ واقعات ایک ایسے احتجاج کے دوران پیش آئے جو ابتدا میں پُرامن تھا، لیکن مظاہرین کے ایک گروہ کی جانب سے تشدد شروع ہونے کے بعد صورت حال بگڑ گئی
اطالوی ذرائع ابلاغ کے مطابق، حکومت نئے اقدامات کے تحت کم عمر افراد کی حفاظتی حراست کی مدت بڑھانے، نوجوانوں کے پرتشدد گروہوں کے خلاف کارروائی سخت کرنے اور ایسے افراد کے اجتماعات پر پابندی لگانے کی تجاویز پر غور کر رہی ہے جنہیں عوامی نظم و ضبط کے لیے خطرہ سمجھا جائے گا
ان اقدامات کے ذریعے حکومت کا مقصد مزید ہنگاموں اور لوٹ مار کو روکنا ہے، تاہم ان کی تفصیلات اور عملی نفاذ کے بارے میں مزید معلومات سامنے آنا باقی ہیں
مہنگائی اور روزمرہ اخراجات میں اضافے کے خلاف احتجاج نے اٹلی میں حکومت کے لیے امن و امان کے ساتھ ساتھ عوامی بے چینی سے نمٹنے کا مسئلہ بھی پیدا کر دیا ہے،میلان میں فوج کی تعیناتی اور مجوزہ سخت قوانین اس بات کی علامت ہیں کہ حکومت آنے والے مظاہروں کے دوران کسی بڑے تصادم کو روکنے کے لیے سکیورٹی انتظامات مزید سخت کرنا چاہتی ہے

قومی خبریں سے مزید