ٹرمپ کا یہودیوں کے خلاف توہین آمیز لفظ کا دوبارہ استعمال، سینیٹر راجر مارشل کے دفاع میں متنازع بیان
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز ریاست کنساس میں انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر راجر مارشل کے دفاع میں یہودیوں کے خلاف توہین آمیز سمجھے جانے والے لفظ ’’شائی لاک‘‘ (Shylock) کا استعمال کیا،ٹرمپ ایک ایسی رپورٹ پر ردعمل دے رہے تھے جس میں کہا گیا تھا کہ مارشل نے بطور ڈاکٹر کام کرتے ہوئے واجب الادا رقم کی عدم ادائیگی پر سیکڑوں مریضوں کے خلاف مقدمات دائر کیے تھے
ٹرمپ نے کہا کہ اس رپورٹ کے ذریعے مارشل کو ’’کسی شرمیلے شائی لاک جیسے شخص‘‘ کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے،راجر مارشل ریاست کنساس سے تعلق رکھنے والے ری پبلکن سینیٹر ہیں اور یہودی نہیں ہیں
لفظ ’’شائی لاک‘‘ ولیم شیکسپیئر کے مشہور ڈرامے ’’دی مرچنٹ آف وینس‘‘ کے ایک یہودی کردار کا نام ہے،اس کردار کو سود پر قرض دینے والے شخص کے طور پر پیش کیا گیا ہے،تاہم، یہ لفظ تاریخی طور پر یہودیوں کے خلاف توہین آمیز انداز میں استعمال ہوتا رہا ہے اور اسے یہودیوں کے بارے میں منفی دقیانوسی تصورات سے جوڑا جاتا ہے
ٹرمپ اس سے پہلے بھی گزشتہ سال ایک تقریر میں یہی لفظ استعمال کر چکے ہیں،اس وقت وہ استحصالی بینکاروں پر تنقید کرتے ہوئے اپنی داخلی پالیسیوں سے متعلق ایک بڑے بل کی حمایت کر رہے تھے،ان کے اس بیان پر متعدد یہودی تنظیموں نے اعتراض کیا تھا،ٹرمپ نے اس وقت کہا تھا کہ انہیں معلوم نہیں تھا کہ اس لفظ کے یہود مخالف مفہوم بھی ہیں
یہودیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم اینٹی ڈیفیمیشن لیگ نے تعلیمی رہنمائی میں شیکسپیئر کے اس کردار کا ذکر کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ شائی لاک کی منفی تصویر کشی کو تمام یہودیوں سے جوڑنا نقصان دہ دقیانوسی تصورات کو تقویت دے سکتا ہے
این بی سی نیوز کے مطابق، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کے تازہ بیان پر تبصرے کی درخواست کا فوری جواب نہیں دیا





