سعودی عرب پر حوثی حملوں کے خلاف برطانیہ کے جنگی طیارے تعینات کرنے کا اعلان
برطانیہ نے سعودی عرب پر یمن کے حوثی باغیوں کے بڑھتے ہوئے میزائل اور ڈرون حملوں کے پیش نظر اپنے جدید جنگی طیارے تعینات کرنے کا اعلان کیا ہے برطانوی حکومت کے مطابق رائل ایئر فورس کے ٹائفون جنگی طیارے سعودی شہروں، فضائی حدود اور اہم تنصیبات کے تحفظ کے لیے دفاعی پروازیں کریں گے اس اقدام کا مقصد سعودی عرب کو فضائی حملوں سے بچانے میں مدد دینا ہے، تاہم برطانوی وزارت دفاع نے واضح کیا ہے کہ ان طیاروں کو حوثیوں کے خلاف براہ راست حملے کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا
برطانوی حکومت نے 20 اکتوبر کو اعلان کیا کہ سعودی عرب کو فراہم کی جانے والی فوجی مدد میں مزید اضافہ کیا جا رہا ہے جنگی طیاروں کے علاوہ ایک اٹلس اے 400 ایم فوجی ٹرانسپورٹ طیارہ اور برطانوی فوجی مشیر بھی بھیجے جائیں گے، جو سعودی عرب میں دفاعی سازوسامان کی منتقلی اور سعودی فوجی افسران کی معاونت کریں گے
برطانوی وزیر دفاع ویس اسٹریٹنگ نے کہا کہ سعودی عرب پر مسلسل حملے خطے میں کشیدگی بڑھا رہے ہیں اور ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو نشانہ بنانا صورت حال کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے ان کے مطابق برطانوی ٹائفون طیارے سعودی فضائی حدود کو میزائلوں اور ڈرون حملوں سے محفوظ رکھنے میں مدد دیں گے برطانوی حکومت نے شہری اہداف پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کی اپنے دفاع کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے
رپورٹ کے مطابق رواں ماہ کے آغاز سے ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو تقریباً 20 مرتبہ حملوں کا نشانہ بنایا جا چکا ہے ایک حالیہ حملے میں 13 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہوئے سعودی عرب کے لیے یہ صورت حال اس لیے بھی تشویش ناک ہے کہ ملک کی اہم شہری تنصیبات، ہوائی اڈوں اور تیل کی تنصیبات کو نقصان پہنچنے سے معیشت اور توانائی کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے
یمن میں جاری تنازع اب ایک بار پھر شدت اختیار کر رہا ہے سعودی عرب نے 2015 سے یمن کی تسلیم شدہ حکومت کی حمایت میں فوجی اتحاد کی قیادت کی تھی کئی سال کی لڑائی کے بعد ہونے والی جنگ بندی بھی ستمبر 2026 میں ٹوٹ گئی، جس کے بعد حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ قوتوں کے درمیان جھڑپوں میں اضافہ ہوا حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کی طرف میزائل داغنے اور بحیرہ احمر کے اہم ساحلی علاقوں میں سرگرمیاں بڑھانے سے علاقائی سلامتی اور عالمی تجارت کے لیے خطرات پیدا ہوئے ہیں
اس تنازع کا ایک اہم پہلو ایران کا کردار بھی ہے سعودی عرب، یمن کی حکومت اور امریکا ایران پر حوثیوں کی حمایت کرنے کا الزام لگاتے ہیں، تاہم تہران اس الزام کی تردید کرتا ہے حوثیوں کی کارروائیاں اور ان کے خلاف سعودی عرب کی فوجی سرگرمیاں خطے میں وسیع تر کشیدگی کا سبب بن رہی ہیں
برطانیہ اس سے پہلے بھی سعودی عرب کے فضائی دفاع میں مدد دینے کے لیے دفاعی سازوسامان اور فوجی معاونت فراہم کر چکا ہے ستمبر میں برطانوی حکومت نے سعودی طیاروں کو فضا میں ایندھن فراہم کرنے کے لیے رائل ایئر فورس کا وائجر طیارہ بھیجنے کا اعلان کیا تھا اب ٹائفون جنگی طیاروں اور اضافی فوجی معاونت کی فراہمی اس تعاون کو مزید وسعت دے گی
برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی صرف علاقائی سلامتی کا مسئلہ نہیں بلکہ عالمی توانائی کی فراہمی، تجارتی راستوں اور قیمتوں پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے بحیرہ احمر اور خلیجی خطے میں جہاز رانی متاثر ہونے سے تیل کی ترسیل مہنگی ہو سکتی ہے، جس کے اثرات دنیا کے دوسرے ممالک میں بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں
تاہم برطانیہ نے اپنے نئے فضائی مشن کو دفاعی کارروائیوں تک محدود رکھنے کا اعلان کیا ہے اس سے واضح ہوتا ہے کہ لندن فی الحال سعودی عرب کی فضائی حفاظت میں مدد دینا چاہتا ہے، جبکہ یمن میں جاری جنگ کے وسیع تر اثرات اور خطے میں مزید فوجی تصادم کے امکانات بدستور برقرار ہیں





