APPNA فال میٹنگ: ناچ گانے کھانے سے مجرے اور ممبرز کے بائیکاٹ ، مئیر کی شرکت کے خواب تک ، ایک باوقار تنظیم کے زوال کی عبرت ناک داستان
نیویارک: (خصوصی رپورٹ) پاکستانی نژاد امریکی ڈاکٹرز کی تنظیم اپنا کی فال میٹنگ تین روز جاری رہنے کے بعد میریٹ ہوٹل ٹائمز اسکوائر نیویارک سٹی میں اختتام پذیر ہو گیئ، جہاں نیویارک کے مئیر زوہران ممدانی کو لانے کی ہر کوشش ناکام ٹھہری ، اور مئیر کے ویڈیو پیغام پر اپنا کی سالانہ فال میٹنگ کے شرکاء کو گزارہ کرنا پڑا ، جبکہ تنظیم کے عہدے داروں نے مئیر کی آمد کی امید پر ایک خصوصی کیک بھی تیار کروایا تھا جس پر مئیر زوہران ممدانی کا نام کندہ تھا، میٹنگ میں جولائ کے سالانہ کنونش کی روایت برقرار رکھتے ہوئے یہاں بھی امریکہ کی کسی بڑی سیاسی شخصیت نے اپنا کے ایونٹ میں شرکت نہیں کی جبکہ ماضی میں مقامی کانگریس مین، سینیٹرز اور ریاستی گورنر ایسے پروگرامز میں بھرپور شرکت کرتے رہے ہیں ، کنونشن میں ڈاکٹرز کی حاضری بھی ماسوائے آخری ڈنر نائٹ انتہائ مایوس کن رہی، جبکہ آخری روز گالا ڈنر میں حاضرین کی ایک بڑی تعداد کمیونٹی کے عام طبقے اور خاندانوں سے تھا، تیسرے اور چوتھے درجے کے گلوکاروں، میوزک گروپس کی پرفارمنس پاکستان کی بزرگ اداکارہ و رقاصہ و اداکارہ میرا اور دوسرے ایونٹس بھاری رقم کے ٹکٹوں اور ہوٹل وغیرہ پر خرچ کر کے اپنا کنونشن میں آنے والے کیلئے مایوسی کا باعث تھے ، تاہم دو دن گانوں اور میوزک کی تھاپ پر بعض عمر رسیدہ منچلے مرد و خواتین ڈاکٹرز نے اپنا ناچ گانے کا شوق پورا کیا، میٹنگ کے پورے دورانیے میں نوجوان باخصوص بورن امریکن پاکستانی ڈاکٹرز چکھنے سونگھنے کو بھی میسر نہیں تھے، پاکستان کی بزرگ اداکارہ میرا نے فال میٹنگ کے پہلے روز مجرا پیش کرکے اپنا میں نئی روایت قائم کی جس پر متعدد ڈاکٹرز نے اپنے تبصروں میں کہا ہے ، پہلے اپنا ناچ گانوں کھانوں اور کپڑوں کی خریداری کے لیے مشہور تھی اب اپنا میں مجرے کی نئی روایت قائم کرکے تنظیم کے وقار اور اسکی میچورٹی پر ایک بڑا اور نیا حملہ کیا گیا ہے ، یہاں یہ امر دلچسپی سے ہرگز خالی نہیں بزرگ رقاصہ میرا مجرے کے دوران کئی بار سانس پھولنے کے باعث کئی بار انتہائ خوبصورت طریقے سے رکتی رہیں ، جبکہ متعدد ڈاکٹروں نے بزرگ رقاصہ و اداکارہ میرا سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے کہا ہے ، پاکستان میں مذہبی گھٹن نے جہاں دوسرے سیاسی سماجی شعبے تباہ کیے وہیں انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کی تباہی کے باعث ہمارے آرٹسٹوں کو روٹی کمانے کے لیے اس سطح تک جانے پر مجبور کردیا ہے جس کا ایک مظاہرہ میرا کا مجرا تھا ، میٹنگ جہاں مجرے سے قبل فیشن شو کا بھی اہتمام بھی کیا گیا، پہلے روز حاضری انتہائ کم تھی ، جبکہ آخری روز حاضرین کی بوریت کا یہ عالم تھا کہ سٹیج سے غیر ضروری طویل تقریروں اور گزارشات پر توجّہ نہ ہونے کے برابر تھی، ڈنر کا آغاز ٹھیک پونے سات بجے کردیا گیا تھا تاہم طویل تقاریر ، ایوارڈز کی تقسیم تک ساڑھے تین گھنٹے اسٹیج پر دھما چوکڑی ہوتی رہی ، جس سے تنگ آکر حاضرین کی ایک اچھی خاصی تعداد اٹھ کر چلی گئی ، تقریب میں کھانے کے بعد میوزک کے آغاز تک تقریباً ایک چوتھائ سے زائد افراد اٹھ کر جاچکے تھے ، پاکستان کے سفیر جو اپنا کے ماضی کے پروگرامز میں بِلا ناغہ شریک ہوتے رہے ہیں اس مرتبہ غیر حاضر تھے، بعض واقفان حال کے مطابق سفیر پاکستان مشکل حالات میں امریکہ میں سفارتکاری کرنے کے بعد اپنی امریکہ تعیناتی کے آخری دور میں ہیں اور سیکرٹری خارجہ نہ بنائے جانے پر خاصے مایوس نظر آتے ہیں، نیویارک میں پاکستان کے قونصل جنرل جو اپنے قیام کے دوران جنرل کمیونٹی کے بجائے بعض مخصوص لوگوں میں گھرے رہے، جنکے زیر سایہ پاکستانیوں کو سروسز اور سہولیات فراہم کرنے کی ذمہ دار پاکستانی قونصلیٹ کی کارکردگی بھی غیر تسلی بخش رہی ، اپنا کنونشن میں رات گئے تک موجود رہے اور مخصوص لوگوں کے ساتھ خوش گیپیوں میں مصروف رہے اور مگر اُنہیں شدید کوشش کے باوجود منتظمین نے اسٹیج پر مدعو نہیں کیا، اپنا تنظیم جو ماضی میں پاکستانی کمیونٹی کی ہی نہیں عالمی برادری میں پاکستان کی انتہائی متحرک اور با اثر تنظیم سمجھی جاتی تھی اور جسکی قیادت قدآور فعال شخصیات کیا کرتی تھیں ، اب تیزی سے تنزلی کی طرف گامزن ہے جسکی ایک جھلک حالیہ فال میٹنگ میں نظر آئی، جبکہ امسال کا سالانہ کنونش جو ہر سال روائیتی طور پر جولائ کے پہلے ہفتے میں منعقد ہوتا ہے ، بھی اپنی بد انتظامی اور عہدے داروں کی اقربا پروری کے باعث پہلے ہی تنظیم کے ممبرز حلقوں میں زیر بحث ہے،ادھر اپنا کے ذمہ دار زرائع نے بتایا ہے ، اپنا کا ایک ڈاکٹرز گروپ میٹنگ کے آخری روز اچانک ڈنر ہال سے واک آؤٹ کرگیا جس نے تنظیم کے بعض معاملات پر سنگین الزامات لگائے ہیں، ان الزامات میں امسال ہونے والے بورڈ آف ڈائریکٹ اور دو ہزار اٹھائئس کے صدارتی عہدے کے لیے ہونے والے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات بھی شامل ہیں جنکے پسمنظر میں انتخابات میں شکست کھانے والے دو صدارتی امیدواروں سمیت پانچ افراد نے انتخابی عمل کی شفافیت پر خدشات کا اظہار کرتے ہوئے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے ، میٹنگ کے گالا ڈنر کا بائیکاٹ کرنے والے گروپ کا تعلق لانگ آئ لینڈ نیویارک سے بتایا جاتا ہے، جن میں نیویارک کے ممتاز پاکستانی ڈاکٹر اسلم شیخ ، ڈاکٹر گھمن ، ڈاکٹر جاوید احمد اور دیگر ڈاکٹر شامل تھے جنہوں نے رات گئے کوئنز کے علاقے جیکسن ہائٹس کے ایک پاکستانی ریسٹورانٹ جاکر کھانا کھایا ، تاہم بائیکاٹ کرنے والے ڈاکٹروں کے چند اراکین ہال میں آتے جاتے بھی دیکھے گئے ، روائتی طور پر اپنا کی سالانہ فال میٹنگ جس شہر میں منقعد کی جاتی ہے اس شہر کا اپنا کا مقامی چیپٹر اپنی سالانہ تقریب فال میٹنگ کے سے الحاق کے ذریعے کرتا رہا ہے تاہم نیویارک چیپٹر جس نے دو ہفتے قبل ہی سالانہ تقریب منقعد کی تھی اپنا سینٹر کی فال میٹنگ سے الحاق کے ذریعے منعقد کرنے سے صاف انکار کردیا تھا






