جاپان مریخ کے چاند سے نمونے لا کر خلائی تحقیق میں تاریخ رقم کرنے کی تیاری کر رہا ہے
جاپان 20 اکتوبر کو اپنے نئے ایچ 3 راکٹ کے ذریعے مریخ کے چاند فوبوس کی جانب بغیر انسانوں کے خلائی جہاز روانہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اس مشن کا مقصد فوبوس کی سطح سے مٹی اور چٹانوں کے نمونے جمع کرکے زمین پر واپس لانا ہے اگر یہ مشن کامیاب ہوگیا تو یہ مریخ کے چاند سے نمونے لا کر زمین پر پہنچانے والا اپنی نوعیت کا پہلا مشن ہوگا
جاپان کی خلائی تحقیقاتی ایجنسی جاکسا کے اس منصوبے کو مریخ کے چاندوں کی کھوج کا مشن، یعنی ایم ایم ایکس، کا نام دیا گیا ہے خلائی جہاز کو مریخ تک پہنچنے میں تقریباً 1 سال لگے گا وہاں پہنچنے کے بعد یہ فوبوس کے گرد رہ کر اس کا تفصیلی جائزہ لے گا اور تقریباً 3 سال تک مختلف سائنسی سرگرمیاں انجام دے گا منصوبے کے مطابق اس کی سطح سے کم از کم 10 گرام مواد جمع کیا جائے گا اور مشن کے اختتام پر اسے زمین پر واپس لایا جائے گا، جس کے لیے 2031 کا ہدف مقرر کیا گیا ہے
فوبوس مریخ کے 2 چاندوں میں سے بڑا چاند ہے، جبکہ دوسرا چاند ڈیموس کہلاتا ہے فوبوس مریخ کی سطح سے تقریباً 6,000 کلومیٹر کی بلندی پر گردش کرتا ہے اس کی کشش ثقل انتہائی کم ہے، جس کی وجہ سے وہاں خلائی جہاز کو محفوظ انداز میں اتارنا اور نمونے جمع کرنا ایک مشکل مرحلہ ہوگا اسی مقصد کے لیے فرانسیسی نام آئیڈیفکس سے موسوم ایک چھوٹی تحقیقی گاڑی بھی مشن میں شامل کی گئی ہے، جو لینڈنگ سے پہلے سطح کا جائزہ لے گی
اس مشن کی سب سے بڑی اہمیت یہ ہے کہ سائنس دان یہ جاننا چاہتے ہیں کہ مریخ کے دونوں چاند کیسے وجود میں آئے ایک نظریے کے مطابق ماضی میں کوئی بڑا خلائی جسم مریخ سے ٹکرایا تھا اور اس تصادم کے نتیجے میں چاند بنے دوسرے نظریے کے مطابق یہ چاند دراصل ایسے سیارچے ہیں جو مریخ کی کشش ثقل کے باعث اس کے گرد مدار میں آگئے تھے فوبوس سے حاصل ہونے والے نمونوں کے تجزیے سے ان دونوں نظریات میں سے کسی ایک کی تائید کرنے میں مدد مل سکتی ہے
سائنس دانوں کو امید ہے کہ ان نمونوں میں پانی سے متعلق مرکبات، نامیاتی مادے اور نظام شمسی کی ابتدائی تاریخ کے آثار مل سکتے ہیں ان معلومات سے یہ سمجھنے میں بھی مدد مل سکتی ہے کہ زمین، مریخ اور دوسرے پتھریلے سیاروں پر زندگی کے لیے موزوں ماحول کیسے تشکیل پایا تاہم اس مشن کا مقصد زندگی کی موجودگی ثابت کرنا نہیں بلکہ ان حالات اور مادوں کی تاریخ کا سراغ لگانا ہے جنہوں نے زندگی کے ظہور میں ممکنہ کردار ادا کیا
جاپان اس سے پہلے بھی خلاء سے نمونے واپس لانے میں کامیابی حاصل کر چکا ہے اس کا ہایابوسا 2 مشن 2020 میں ایک سیارچے سے 5.4 گرام چٹانی مواد اور گردوغبار زمین پر لایا تھا لیکن موجودہ مشن اس سے زیادہ پیچیدہ ہے، کیونکہ خلائی جہاز کو مریخ کے قریب پہنچنا، اس کے چاند پر اترنا، نمونے جمع کرنا اور پھر مریخ کی کشش ثقل کے اثر سے نکل کر زمین کی طرف واپس آنا ہوگا
اس منصوبے میں امریکا کے خلائی ادارے ناسا، یورپی خلائی ایجنسی، فرانس اور جرمنی کے خلائی اداروں سمیت متعدد جامعات اور ٹیکنالوجی ادارے بھی تعاون کر رہے ہیں مشن میں جمع کیے گئے نمونوں کی مدد سے مستقبل میں مریخ کی انسانی تحقیق کے لیے بھی اہم معلومات حاصل ہونے کی توقع ہے سائنس دان فوبوس کو مستقبل میں مریخ تک جانے والے انسانی مشنوں کے لیے ممکنہ قدرتی خلائی اڈے کے طور پر استعمال کرنے کے امکانات کا بھی جائزہ لینا چاہتے ہیں
دوسری جانب امریکا اور چین مریخ کی سطح سے براہ راست نمونے زمین پر لانے کی کوششوں میں مصروف رہے ہیں ناسا کی پرسیورنس گاڑی 2021 سے مریخ پر کام کرتے ہوئے نمونے جمع کر رہی ہے، لیکن امریکی منصوبے کو مالی اور انتظامی مشکلات کا سامنا رہا ہے چین نے بھی تیان وین 3 مشن کو تقریباً 2028 میں روانہ کرنے اور 2031 کے آس پاس مریخ سے نمونے واپس لانے کا ہدف رکھا ہے
جاپان کا مشن اس عالمی خلائی دوڑ میں ایک اہم قدم ثابت ہوسکتا ہے اگر فوبوس سے نمونے کامیابی کے ساتھ زمین پر پہنچ گئے تو سائنس دانوں کو نہ صرف مریخ کے چاندوں کی تشکیل کے بارے میں نئی معلومات ملیں گی بلکہ نظام شمسی کی ابتدا، سیاروں کی ارتقائی تاریخ اور زمین پر زندگی کے لیے ضروری بنیادی مادوں کی آمد کو سمجھنے کے نئے راستے بھی کھل سکتے ہیں





