ریفرنڈم کا نتیجہ کچھ بھی ہو، البرٹا کی علیحدگی کی تحریک جاری رکھنے کا اعلان
کینیڈا کے صوبے البرٹا میں علیحدگی کے حامی رہنماؤں نے اعلان کیا ہے کہ 19 اکتوبر کے ریفرنڈم کا نتیجہ ان کی تحریک کا خاتمہ نہیں ہوگا ان کا کہنا ہے کہ البرٹا کو کینیڈا سے الگ کرنے کا مطالبہ اب صوبے کی سیاست میں نمایاں جگہ بنا چکا ہے اور اگر ووٹرز علیحدگی کے عمل کو آگے بڑھانے کی تجویز مسترد بھی کردیں تو وہ اپنی مہم جاری رکھیں گے
ایڈمنٹن میں البرٹا کی قانون ساز اسمبلی کے باہر ہفتے، 17 اکتوبر کو ہونے والی ریلی میں علیحدگی کی تحریک کے رہنماؤں اور حامیوں نے شرکت کی تحریک کے رہنما کیتھ ولسن نے کہا کہ پیر کے روز جو بھی نتیجہ سامنے آئے، ان کے خیال میں تحریک پہلے ہی کامیابی حاصل کرچکی ہے، کیونکہ علیحدگی کا معاملہ صوبے کی سیاست میں ایک اہم موضوع بن گیا ہے
سابق وزیر اعلیٰ جیسن کینی نے علیحدگی کے حامیوں کو مشورہ دیا تھا کہ اگر وہ ریفرنڈم میں اکثریت حاصل نہ کرسکیں تو انہیں اپنے مطالبے پر نظرثانی کرنی چاہیے تاہم کیتھ ولسن نے اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ تحریک اپنی کامیابیوں کو آگے بڑھائے گی اور اپنے حامیوں کے ساتھ روابط مضبوط کرے گی ان کے مطابق اب علیحدگی کے قانونی امکان اور اس کے سیاسی نتائج پر پہلے سے زیادہ لوگ گفتگو کر رہے ہیں
البرٹا کی علیحدگی کی تحریک کے پیچھے کئی وجوہات ہیں صوبے میں تیل اور گیس کی وسیع صنعت ہے اور علیحدگی کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ وفاقی حکومت کی توانائی، ماحولیاتی تحفظ اور قدرتی وسائل سے متعلق پالیسیاں صوبے کے معاشی مفادات کو نقصان پہنچاتی ہیں ان کا کہنا ہے کہ البرٹا وفاق کو بڑی آمدنی فراہم کرتا ہے، لیکن اوٹاوا صوبے کو اپنے وسائل کے استعمال اور ترقی کے فیصلوں میں مطلوبہ آزادی نہیں دیتا
اس تحریک کو کووڈ 19 کی وبا کے دوران نافذ پابندیوں اور ویکسین سے متعلق حکومتی اقدامات کے مخالف بعض حلقوں کی حمایت بھی حاصل ہوئی۔ 2022 میں اوٹاوا میں ٹرک ڈرائیوروں کے احتجاج میں شامل بعض افراد بھی علیحدگی کی مہم سے وابستہ ہوگئے اس طرح وفاقی اختیارات اور توانائی کی پالیسیوں پر پرانی ناراضی کے ساتھ وفاقی حکومت کے خلاف دیگر سیاسی شکایات بھی تحریک کا حصہ بن گئیں
تاہم البرٹا کی پریمیئر ڈینیئل اسمتھ خود صوبے کی آزادی کی حامی نہیں ہیں انہوں نے ریفرنڈم اس لیے کرایا کہ علیحدگی کے مطالبے پر بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی کا فیصلہ ووٹرز کے ذریعے ہوسکے اسمتھ نے ایک حالیہ رائے شماری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ صوبے کی آزادی کی حمایت تقریباً 22 فیصد تھی، جو ان کے نزدیک اب بھی تشویش کا باعث ہے ان کا مؤقف ہے کہ اگر ووٹرز کینیڈا کے ساتھ رہنے کا فیصلہ کریں تو تمام فریقوں کو نتیجہ قبول کرکے آگے بڑھنا چاہیے
وزیر اعظم مارک کارنی نے بھی البرٹا کی علیحدگی کی مخالفت کی ہے ان کے مطابق علیحدگی کے قانونی عمل کا آغاز بھی کئی سال کی معاشی غیر یقینی صورت حال پیدا کرسکتا ہے امریکا کے ساتھ تجارتی کشیدگی اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کینیڈا کے بارے میں بیانات کے تناظر میں وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ ملک کی تقسیم معاشی اور قومی سلامتی کے مسائل مزید پیچیدہ کرسکتی ہے
یہ بات اہم ہے کہ 19 اکتوبر کا ریفرنڈم البرٹا کی فوری آزادی کے بارے میں براہ راست فیصلہ نہیں ہے ووٹرز سے پوچھا جارہا ہے کہ آیا صوبہ کینیڈا کا حصہ برقرار رہے یا علیحدگی کے بارے میں مستقبل میں ایک پابند ریفرنڈم کرانے کے لیے قانونی عمل شروع کیا جائے اگر علیحدگی کے عمل کے حق میں ووٹ پڑتے ہیں تو بھی صوبے کی آزادی خودبخود عمل میں نہیں آئے گی اور اس کے لیے مزید قانونی اور آئینی مراحل درکار ہوں گے
اس ریفرنڈم کے نتائج سے یہ بھی واضح ہوسکتا ہے کہ البرٹا میں وفاقی حکومت کے خلاف ناراضی کس حد تک سیاسی حمایت میں تبدیل ہوچکی ہے علیحدگی کے حامی اسے صوبے کے حقوق اور خودمختاری کی جدوجہد قرار دیتے ہیں، جبکہ کینیڈا کے ساتھ رہنے کے حامی خبردار کرتے ہیں کہ علیحدگی کی کوشش معاشی استحکام، سرمایہ کاری اور قومی اتحاد کے لیے مشکلات پیدا کرسکتی ہے
کیتھ ولسن اور ان کے ساتھیوں کے تازہ بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ووٹنگ کا نتیجہ ان کی سیاسی سرگرمیوں کو ختم نہیں کرے گا اگر علیحدگی کی تجویز مسترد ہوجاتی ہے تو بھی تحریک کے رہنما وفاقی اختیارات، توانائی کی پالیسیوں اور صوبائی خودمختاری کے معاملات پر اپنی مہم جاری رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں یوں 19 اکتوبر کا ووٹ صرف ایک ریفرنڈم نہیں بلکہ البرٹا اور وفاقی حکومت کے تعلقات کے مستقبل کے لیے بھی اہم سیاسی مرحلہ بن گیا ہے






