عوام کی عزتِ نفس اور جمہوریت خطرے میں، معروف ماہرِ معاشیات کا نسخہ: زندگی کی بنیادی ضروریات ہر شخص کی پہنچ میں لائی جائیں
معروف جرمن ماہرِ معاشیات ازابیلا ویبر کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی معاشی ناہمواری، بڑی کمپنیوں کے ہاتھوں دولت اور منڈیوں کا ارتکاز، اور بنیادی ضروریات کی مسلسل بڑھتی قیمتیں جمہوریت کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہیں،ان کے نزدیک غربت، عدم مساوات اور انتہائی دائیں بازو کی سیاست کا مقابلہ کرنے کے لیے محض نظریاتی بحثیں کافی نہیں، بلکہ حکومتوں کو عام شہریوں کی زندگی میں حقیقی بہتری لانے والے عملی اقدامات کرنا ہوں گے
برطانوی اخبار دی گارڈین میں جمعہ 16 اکتوبر 2026 کو شائع ہونے والے انٹرویو کے مطابق ویبر معاشیات کے روایتی طریقۂ کار پر تنقید کرتی ہیں،ان کا کہنا ہے کہ بہت سے ماہرینِ معاشیات کسی نظریے کی درستگی ثابت کرنے میں اس قدر مصروف رہتے ہیں کہ معاشرے کو درپیش حقیقی مسائل کے مطابق حل تلاش کرنے میں لچک کا مظاہرہ نہیں کرتے
ویبر اس صورت حال کا موازنہ دندان سازوں سے کرتی ہیں،ان کے مطابق دانتوں کے ڈاکٹر مریض کے شدید درد کے وقت نظریاتی بحث میں نہیں الجھتے، بلکہ اس تکلیف کا علاج کرنے کی کوشش کرتے ہیں،وہ بتاتی ہیں کہ معروف برطانوی ماہرِ معاشیات جان مینارڈ کینز نے بھی معاشیات اور دندان سازی کے درمیان یہ مثال پیش کی تھی،ویبر اسی تصور کو آگے بڑھاتے ہوئے کہتی ہیں کہ معاشی پالیسیوں کا مقصد نظریاتی پاکیزگی کے بجائے لوگوں کے حقیقی مسائل حل کرنا ہونا چاہیے
ویبر کے مطابق دنیا کی بڑی آبادی کے لیے موجودہ معاشی صورت حال ناقابلِ برداشت ہوتی جارہی ہے،دولت اور آمدنی میں بڑھتا ہوا فرق، بڑی کمپنیوں کی بڑھتی ہوئی طاقت اور معاشی وسائل کا چند ہاتھوں میں سمٹنا ایسے مسائل ہیں جو جمہوری نظام کے استحکام کو متاثر کرسکتے ہیں
وہ موسمیاتی بحران کو بھی اسی مسئلے کا حصہ قرار دیتی ہیں،ان کے مطابق ماحولیاتی تباہی کے دوران بڑی کمپنیاں بعض حالات میں غیر معمولی منافع کماتی ہیں، جبکہ عام شہریوں کی زندگی کے بنیادی ماحولیاتی وسائل متاثر ہوتے ہیں،ان کے نزدیک یہ تضاد معاشی نظام کی ترجیحات پر بنیادی سوالات اٹھاتا ہے
ویبر کی فکر کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ زندگی کی بنیادی ضروریات کو عام شہریوں کے لیے قابلِ برداشت بنانا محض معاشی پالیسی کا معاملہ نہیں، بلکہ انسانی وقار اور جمہوریت کے تحفظ کا مسئلہ بھی ہے،جب لوگ خوراک، رہائش اور دیگر لازمی اخراجات پورے کرنے کے لیے مسلسل جدوجہد کرتے ہیں تو ان کا موجودہ سیاسی اور معاشی نظام پر اعتماد کمزور ہوسکتا ہے
ان کے مطابق انتہائی دائیں بازو کی سیاسی قوتیں بھی اسی بے چینی سے فائدہ اٹھاتی ہیں،جب روایتی سیاسی جماعتیں لوگوں کے معاشی مسائل کا قابلِ اعتماد حل پیش کرنے میں ناکام رہتی ہیں تو عوام میں غصہ اور مایوسی بڑھ سکتی ہے، جسے سیاسی تحریکیں اپنے حق میں استعمال کرتی ہیں
ویبر کے خیالات معاشیات میں اس وسیع تر بحث سے جڑے ہیں کہ حکومتوں کو مہنگائی، منڈیوں میں اجارہ داری، دولت کی غیر مساوی تقسیم اور موسمیاتی بحران جیسے مسائل سے نمٹنے کے لیے کس حد تک براہِ راست مداخلت کرنی چاہیے،ان کا مؤقف یہ ہے کہ معاشی پالیسیوں کو زمینی حقائق کے مطابق ڈھالنا ضروری ہے، نہ کہ کسی ایک نظریے کو ہر صورت نافذ کرنے کی کوشش کی جائے
ان کی تجویز کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ ایک ایسا معاشی نظام تشکیل دیا جائے جس میں بنیادی ضروریات کی فراہمی عام لوگوں کی مالی استطاعت کے مطابق ہو،ان کے نزدیک اس سے نہ صرف لوگوں کی عزتِ نفس کا تحفظ ہوسکتا ہے بلکہ جمہوریت پر اعتماد بحال کرنے اور انتہا پسند سیاسی رجحانات کے پھیلاؤ کو روکنے میں بھی مدد مل سکتی ہے





