ٹرمپ کو پھر عدالتی دھچکا، سی این این، ایم ایس ناؤ اور پولیٹیکو کے صحافیوں کی وائٹ ہاؤس میں رسائی بحال رکھنے کا حکم
واشنگٹن: امریکی وفاقی عدالت نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سی این این، ایم ایس ناؤ اور پولیٹیکو کے صحافیوں کو وائٹ ہاؤس میں داخلے سے روکنے کی کوشش پر حکم امتناع جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ یہ اقدام غالباً امریکی آئین کی پہلی ترمیم کی خلاف ورزی کرتا ہے، جو آزادی اظہار اور صحافت کے تحفظ سے متعلق ہے
امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز کے مطابق، امریکی ضلعی جج ٹموتھی کیلی نے منگل کو تینوں میڈیا اداروں کی درخواست منظور کرتے ہوئے ابتدائی حکم امتناع جاری کیا،اس حکم کے تحت ان اداروں کے صحافیوں کو وائٹ ہاؤس میں داخلے کی اجازت برقرار رہے گی، جب تک مقدمے کی کارروائی جاری ہے
دلچسپ امر یہ ہے کہ جج ٹموتھی کیلی کو خود صدر ٹرمپ نے اپنے دورِ صدارت میں جج مقرر کیا تھا،اپنے 26 صفحات پر مشتمل فیصلے میں جج نے قرار دیا کہ صحافیوں کے وائٹ ہاؤس کے خصوصی اجازت نامے منسوخ کرنے سے ان کے آئین کی پہلی اور پانچویں ترامیم کے تحت حاصل حقوق کی خلاف ورزی کا قوی امکان ہے،پانچویں ترمیم قانونی طریقۂ کار اور حکومتی اقدامات کے خلاف آئینی تحفظ فراہم کرتی ہے
جج کیلی کے مطابق، صدر ٹرمپ کی جانب سے ان صحافیوں کے خصوصی اجازت نامے منسوخ کرنے کا اقدام کسی بھی معقول صحافی یا خبر رساں ادارے کو ایسی خبریں شائع کرنے سے روکنے کا سبب بن سکتا ہے جن پر صدر کو اعتراض ہو،انہوں نے واضح کیا کہ ان اجازت ناموں کی منسوخی اس بات پر نمایاں اثر ڈال سکتی ہے کہ صحافی اپنا کام کس طرح، کس حد تک اور آیا انجام بھی دے سکتے ہیں یا نہیں
عدالت نے صدر ٹرمپ کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان سے یہ تاثر ملتا ہے کہ صحافیوں کی وائٹ ہاؤس تک رسائی ختم کرنے کا مقصد ان کی صدر سے متعلق رپورٹنگ پر اثر انداز ہونا تھا،جج کے مطابق، یہ پہلو اس مؤقف کو تقویت دیتا ہے کہ حکومت کا اقدام صحافیوں کو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں انجام دینے سے روکنے والا ثابت ہو سکتا ہے
یہ فیصلہ وائٹ ہاؤس اور میڈیا اداروں کے درمیان آزادی صحافت، حکومتی احتساب اور صحافیوں کی سرکاری مقامات تک رسائی کے معاملے پر جاری تنازعہ میں ایک اہم پیش رفت ہے،تاہم، یہ مقدمے کا حتمی فیصلہ نہیں بلکہ ابتدائی حکم امتناع ہے، جو عدالتی کارروائی آگے بڑھنے کے دوران نافذ رہے گا





