حوثی حملوں سے سعودی عرب کا داخلی تحفظ خطرے میں، محتاط قیادت نے یمن میں فوجی کارروائیاں تیز کر دیں
یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کے سعودی ہوائی اڈوں پر حملوں نے ریاض کی سلامتی سے متعلق پالیسی کو نئے دباؤ سے دوچار کر دیا ہے،سعودی عرب کئی ماہ سے امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ سے دور رہنے اور واشنگٹن اور تہران کو تنازعہ ختم کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے، لیکن سعودی ہوائی اڈوں پر مہلک حملوں کے بعد صورت حال تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے
امریکی جریدے کرسچن سائنس مانیٹر کی رپورٹ کے مطابق، سعودی عرب کی قیادت اب اپنی سرزمین کے تحفظ، شہریوں کے اعتماد اور سرمایہ کاروں کو سلامتی کی یقین دہانی کرانے کے لیے یمن میں زیادہ سخت فوجی اقدامات کی جانب بڑھ رہی ہے،رپورٹ میں ایک تجزیہ کار اور سعودی شاہی محل کے قریبی ذرائع کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ حالیہ حملوں نے محتاط سعودی قیادت پر فیصلہ کن کارروائی کے لیے دباؤ بڑھا دیا ہے
رپورٹ کے مطابق، منگل کو سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے یمن میں حوثیوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں میں شدت پیدا کر دی،حوثی دارالحکومت صنعاء سمیت یمن کے بڑے حصوں پر قابض ہیں اور انہیں ایران کی حمایت حاصل ہے،سعودی عرب کی کارروائیوں میں تیزی اس بات کا اشارہ ہے کہ ریاض اپنی سلامتی کے تحفظ کے لیے واشنگٹن کی مطلوبہ مدد کا انتظار کیے بغیر بھی فوجی اقدامات جاری رکھ سکتا ہے
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سعودی ہوائی اڈوں پر حملوں اور اس کے نتیجے میں مسلم زائرین کی ہلاکتوں اور فضائی سفر کی بندش نے کئی برسوں بعد سعودی شہریوں کے تحفظ کے احساس کو براہ راست متاثر کیا ہے،اس صورت حال کے بعد یمن میں فیصلہ کن فوجی کارروائی کے مطالبات بھی زور پکڑ رہے ہیں
اس پیش رفت کے اثرات صرف سعودی عرب اور یمن تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ خطے کی سیاست، امریکہ کے ساتھ سعودی تعلقات اور ایران کی جنگ کو سفارتی ذرائع سے محدود کرنے کی کوششوں پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں،ریاض کے لیے اب بنیادی چیلنج یہ ہے کہ وہ اپنی سرزمین اور شہریوں کو مزید حملوں سے محفوظ بنانے کے ساتھ ساتھ وسیع تر علاقائی جنگ میں براہ راست الجھنے سے بھی کیسے بچتا ہے





