کینیڈا متحد رہے تو زیادہ مضبوط ہوگا، البرٹا کی علیحدگی کے خلاف۔ووٹ دیں
: کارنی
کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے یوم تشکر کے پیغام میں البرٹا کے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ کینیڈا کے ساتھ رہنے کو ترجیح دیں، کیونکہ ملک کو معاشی، سلامتی اور خودمختاری کے حوالے سے سنگین چیلنجز درپیش ہیں انہوں نے خبردار کیا کہ کینیڈا سے علیحدگی کی راہ اختیار کرنے سے ایک طویل اور غیر یقینی عمل شروع ہو سکتا ہے
کارنی نے اپنے پیغام میں کہا کہ کینیڈا اس وقت بڑے قومی منصوبوں پر کام کر رہا ہے، جن میں ہزاروں نئے گھروں کی تعمیر، تیز رفتار ریل کا منصوبہ اور البرٹا سے بحرالکاہل کے ساحل تک نئی تیل پائپ لائن شامل ہیں ان کے مطابق یہ منصوبے البرٹا سمیت پورے ملک میں روزگار، سرمایہ کاری اور معاشی مواقع پیدا کر سکتے ہیں
کارنی نے اپنے پیغام میں کہا کہ وہ البرٹا میں پلے بڑھے اور ایڈمنٹن کے سینٹ فرانسس زیویئر ہائی اسکول میں تعلیم حاصل کی انہوں نے اسی اسکول کی جماعت میں بیٹھ کر ویڈیو پیغام ریکارڈ کیا اور کہا کہ وہ ان دنوں البرٹا واپس آتے رہتے ہیں، کیونکہ وہاں ایسے بڑے منصوبے شروع کیے جا رہے ہیں جو مستقبل میں لوگوں کے لیے مستقل معاشی مواقع پیدا کر سکتے ہیں
انہوں نے کہا کہ کینیڈا اختلافات اور تقسیم کی بنیاد پر بڑے منصوبے مکمل نہیں کر سکتا ان کے بقول ملک کو معیشت، قومی سلامتی اور طرز زندگی کے حوالے سے حقیقی خطرات کا سامنا ہے، اس لیے اتحاد پہلے سے زیادہ اہم ہو گیا ہے انہوں نے البرٹا کے عوام کو یاد دلایا کہ کئی نسلوں سے اس صوبے کے لوگوں نے کینیڈا کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے اور یہ ملک ان سب کا مشترکہ وطن ہے
البرٹا میں علیحدگی کا معاملہ اب ایک اہم سیاسی بحث بن چکا ہے۔ 19 اکتوبر کو صوبے کے عوام سے پوچھا جائے گا کہ آیا وہ کینیڈا کا حصہ رہنا چاہتے ہیں یا صوبے کی علیحدگی پر ایک الگ، پابند ریفرنڈم کرانے کے قانونی عمل کی طرف بڑھنا چاہتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ 19 اکتوبر کی رائے شماری خود علیحدگی کے بارے میں حتمی فیصلہ نہیں بلکہ اگلے مرحلے سے متعلق ہے
البرٹا میں علیحدگی کی تحریک کو کئی برسوں سے حمایت حاصل رہی ہے اس تحریک کے حامیوں کی شکایت ہے کہ وفاقی حکومت صوبے کے مفادات، خصوصاً تیل و گیس کی صنعت اور قدرتی وسائل سے متعلق معاملات میں، ان کے تحفظات کو مناسب اہمیت نہیں دیتی تحریک کے رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ صوبے کو وفاقی حکومت کے ساتھ مذاکرات میں زیادہ اختیار اور اپنے مستقبل کے فیصلوں میں زیادہ آزادی ملنی چاہیے
دوسری جانب البرٹا کی پریمیئر ڈینیئل اسمتھ کینیڈا سے علیحدگی کی حمایت نہیں کرتیں، اگرچہ انہوں نے صوبے کے عوام کو اس معاملے پر اپنی رائے دینے کا موقع فراہم کیا ہے ان کے مطابق حالیہ رائے عامہ کے جائزوں میں علیحدگی کے حامیوں کی تعداد تقریباً 22 فیصد بتائی گئی ہے، جو ان کے خیال میں اب بھی زیادہ ہے۔ ایک حالیہ لیجر سروے کے مطابق 70 فیصد البرٹا کے رہائشیوں نے کینیڈا کے ساتھ رہنے کی حمایت کی، جبکہ اگست میں یہ شرح 65 فیصد تھی یہ اعداد رائے عامہ کی ایک مخصوص وقت کی تصویر ہیں اور آئندہ ووٹنگ کے نتیجے کی ضمانت نہیں
کارنی کے پیغام کے بعد کنزرویٹو پارٹی کے رہنما پیئر پوئیلیورے کے بھی اس ہفتے البرٹا جانے کا پروگرام ہے وہ کیلگری میں خطاب کرتے ہوئے صوبے کے عوام سے کینیڈا کے ساتھ رہنے کی حمایت کرنے کی اپیل کریں گے اس سے قبل وہ امریکا کے شہر ڈیٹرائٹ میں کاروباری رہنماؤں اور ذرائع ابلاغ سے ملاقات کریں گے، جہاں ان کا مقصد کینیڈا اور امریکا کے درمیان تجارتی محصولات ختم کرنے اور گاڑیوں کی صنعت کے لیے ایک نئے تجارتی معاہدے کی تجویز کو آگے بڑھانا ہے
البرٹا کی علیحدگی کا سوال ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تجارتی پالیسیوں اور کینیڈا کو امریکا کی 51ویں ریاست بنانے سے متعلق ان کے بیانات نے دونوں ملکوں کے تعلقات میں تناؤ پیدا کیا ہے کینیڈا کی وفاقی حکومت امریکا پر تجارتی انحصار کم کرنے اور دوسرے ممالک کے ساتھ کاروباری تعلقات بڑھانے کی کوشش بھی کر رہی ہے
کارنی کی حکومت البرٹا سے برٹش کولمبیا کے بحرالکاہلی ساحل تک نئی پائپ لائن کو توانائی کی برآمدات کے لیے ایک اہم منصوبہ قرار دیتی ہے اس منصوبے کا مقصد کینیڈا کے تیل کے لیے نئی منڈیوں تک رسائی بڑھانا اور امریکا پر انحصار کم کرنے میں مدد دینا ہے تاہم، اس منصوبے کی تعمیر، مالی وسائل، ماحولیاتی تحفظ اور مقامی مقامی اقوام کے حقوق سے متعلق مشاورت جیسے معاملات بھی اہم ہیں
قانونی طور پر بھی صوبے کی علیحدگی کا عمل سادہ نہیں ہوگا کینیڈا کی سپریم کورٹ نے 1998 میں واضح کیا تھا کہ کوئی صوبہ یک طرفہ طور پر ملک سے الگ نہیں ہو سکتا علیحدگی کے لیے واضح عوامی مینڈیٹ اور وفاقی حکومت کے ساتھ آئینی مذاکرات درکار ہوں گے۔ اس لیے اگر مستقبل میں علیحدگی کے حق میں ووٹ پڑ بھی جائے تو اس کا مطلب فوری طور پر ایک آزاد ملک کا قیام نہیں ہوگا
کارنی کے یوم تشکر کے پیغام کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ البرٹا کے عوام کو یاد دلایا جائے کہ صوبے کے معاشی مفادات اور کینیڈا کی قومی یکجہتی کو ایک دوسرے کے مخالف سمجھنے کے بجائے مشترکہ ترقی کے راستے تلاش کیے جا سکتے ہیں ان کا مؤقف ہے کہ موجودہ عالمی حالات میں کینیڈا کی طاقت اس کے اتحاد میں ہے اور ملک کے بڑے معاشی منصوبوں کی کامیابی کے لیے وفاقی حکومت اور صوبوں کے درمیان تعاون ضروری ہے



