اوک ویل میں اسلامی ورثے کا مہینہ، مسلمانوں کو اپنے مذہب اور کینیڈین شناخت پر فخر کرنے کا پیغام
اوک ویل میں اسلامی ورثے کے مہینے کی افتتاحی تقریب میں مقامی شہریوں، فنکاروں، کاروباری افراد، کمیونٹی تنظیموں اور سیاسی رہنماؤں نے شرکت کی تقریب کا مقصد اسلامی فن، ثقافت، مذہبی اقدار اور کینیڈین معاشرے میں مسلم کمیونٹی کے کردار کو اجاگر کرنا تھا اس موقع پر نوجوان مسلمانوں کو پیغام دیا گیا کہ وہ اپنے مذہب اور کینیڈین شناخت دونوں پر فخر کریں اور اعتماد کے ساتھ معاشرے میں اپنا کردار ادا کریں
یہ تقریب ہفتے کے روز اوک ویل ٹاؤن ہال کے مرکزی ہال میں منعقد ہوئی، جہاں اسلامی ثقافت سے متعلق فن پارے، کھانے پینے کی اشیا، مختلف مصنوعات کے اسٹال، دلچسپ سرگرمیاں اور کمیونٹی تنظیموں کے تعارفی مراکز قائم کیے گئے تھے۔ شرکا کو اسلامی ثقافت اور مسلم برادری کی سرگرمیوں کے بارے میں جاننے اور ایک دوسرے سے رابطے بڑھانے کا موقع ملا
تقریب کا اہتمام اوک ویل میں قائم تنظیم گلوبل خدمت فورم کے صدر ساجد انجم نے اسلامک سوسائٹی آف نارتھ امریکا کینیڈا کے اشتراک سے کیا۔ مقررین نے اسلامی تعلیمات، معاشرتی اقدار اور مسلم کمیونٹی کی خدمات پر روشنی ڈالی
تقریب میں اوک ویل ویسٹ کے رکن پارلیمنٹ سیما آکن، اوک ویل نارتھ برلنگٹن کی رکن صوبائی اسمبلی ایفی ٹرائیفیلٹاپولوس، اوک ویل کے میئر روب برٹن، کونسلر نیو نندا اور ملٹن کے رکن صوبائی اسمبلی اور وزیر سیاحت، ثقافت و کھیل زی حامد بھی شریک ہوئے مقامی رہنماؤں نے مسلم کمیونٹی کی موجودگی اور خدمات کو تسلیم کرتے ہوئے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ اپنی مذہبی شناخت برقرار رکھتے ہوئے کینیڈا کی ترقی میں حصہ لیں
تقریب میں شریک 20 سالہ فنکارہ عنان الجمل نے اپنے فن پاروں کے ذریعے اسلامی اور خاندانی ثقافت کی عکاسی کی انہوں نے اپنے ہاتھ سے بنائی گئی تصویریں پیش کیں جن میں انجیر، انار اور کھجور جیسے پھل نمایاں تھے۔ یہ پھل ان کی ثقافتی روایات میں خاص اہمیت رکھتے ہیں
عنان الجمل نے بتایا کہ انہیں بچپن ہی سے مصوری کا شوق ہے اور فن سے ان کی دلچسپی خاندانی روایت کا حصہ ہے ان کے مطابق ان کے نانا فنکار تھے اور ان کی والدہ بھی مصوری سے وابستہ رہیں، جس سے انہیں اپنے فن کو آگے بڑھانے کی ترغیب ملی
تقریب میں مصوری کے علاوہ کھانے پینے کی اشیا، بچوں اور نوجوانوں کے لیے دلچسپ سرگرمیوں اور مختلف سماجی تنظیموں کے اسٹالوں نے بھی شرکا کی توجہ حاصل کی ان تنظیموں میں پلرز نامی ادارہ بھی شامل تھا، جس کی نمائندگی نبیحہ احمد اور ہبہ جیلانی نے کی
پلرز نوجوان مسلمانوں کے لیے ایسا پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے جہاں وہ ایک دوسرے سے مل سکتے ہیں، اپنے خیالات کا تبادلہ کر سکتے ہیں اور مسلم کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے کاروباری افراد اور دیگر پیشہ ور لوگوں سے رابطے قائم کر سکتے ہیں
نبیحہ احمد نے کہا کہ مسلمانوں کی اخلاقی اقدار بہت خوبصورت ہیں اور انہیں پوری دنیا کے ساتھ بانٹا جا سکتا ہے ان کا کہنا تھا کہ نئی سوچ، کاروباری سرگرمیوں اور تخلیقی صلاحیتوں کا مقصد صرف مسلمانوں کو فائدہ پہنچانا نہیں ہونا چاہیے بلکہ ان کے ذریعے پوری دنیا کے لوگوں کی زندگیوں میں بہتری لائی جا سکتی ہے
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے رکن پارلیمنٹ سیما آکن نے نوجوانوں کو مخاطب کیا اور کہا کہ انہیں مسلمان ہونے کے ساتھ ساتھ کینیڈین ہونے پر بھی فخر کرنا چاہیے ان کے مطابق نوجوان اپنی مذہبی تعلیمات، اقدار اور اس ملک سے اپنی وابستگی کا پیغام اعتماد کے ساتھ دوسروں تک پہنچا سکتے ہیں
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مذہبی شناخت اور کینیڈین شہریت ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ دونوں ساتھ چل سکتی ہیں مسلمان اپنی مذہبی روایات پر عمل کرتے ہوئے کینیڈا کے معاشرے، معیشت اور سماجی زندگی میں بھرپور حصہ لے سکتے ہیں
اوک ویل میں اسلامی ورثے کے مہینے کی یہ تقریب مختلف ثقافتوں اور مذہبی پس منظر رکھنے والے افراد کو ایک جگہ جمع کرنے کا ذریعہ بنی اس نے مسلم کمیونٹی کے فن، روایات، اخلاقی اقدار اور سماجی خدمات کو نمایاں کرنے کے ساتھ ساتھ باہمی احترام، ثقافتی ہم آہنگی اور کینیڈا کی مشترکہ شناخت کے پیغام کو بھی اجاگر کیا



