گنیش کمار کے استعفے سے بحران ختم نہیں ہوگا، راہول گاندھی کا دعویٰ: اپوزیشن متحد رہی تو مودی حکومت کا جانا یقینی
نئی دہلی میں اپوزیشن جماعتوں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس رہنما راہول گاندھی نے کہا ہے کہ الیکشن کمشنر گنیش کمار کے استعفے سے بھارت کا سیاسی اور جمہوری بحران ختم نہیں ہوگا، کیونکہ اس کی جڑیں کہیں زیادہ گہری ہیں اور اس کے اثرات ملک کے جمہوری ڈھانچے تک پھیل چکے ہیں،ان کے خطاب کا مرکزی نکتہ یہ تھا کہ بھارت میں مسئلہ محض کسی ایک عہدیدار، انتخابی فیصلے یا ایک ادارے تک محدود نہیں، بلکہ اس بنیادی نظام کا ہے جو عوام کی رائے کو سیاسی طاقت میں تبدیل کرتا ہے،راہول گاندھی نے اپوزیشن رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ جمہوری اقدار اور عوام کے حقِ اظہار کے تحفظ کے لیے متحد ہو کر جدوجہد جاری رکھیں،ان کے مطابق اگر اپوزیشن اسی طرح متحد رہی اور مشترکہ حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھی تو وہ موجودہ مودی حکومت کو اقتدار سے جاتا ہوا دیکھ رہے ہیں۱
راہول گاندھی نے اپنے خطاب کے آغاز میں کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے، مغربی بنگال کی سابق وزیر اعلیٰ ممتا بینرجی، سپریا سولے، بیبی رانی اور دیگر سینئر اپوزیشن رہنماؤں کا خیرمقدم کیا،انہوں نے گزشتہ 3 سے 4 روز کے دوران اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ کی سرگرمیوں اور کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ جمہوریت کے تحفظ کے لیے ان کی جدوجہد اہمیت رکھتی ہے
انہوں نے اپنے خطاب کو بھارت کی آزادی، جمہوری روایات اور عوام کے حقِ حکمرانی کی تاریخی بنیادوں سے جوڑتے ہوئے سابق وزیر اعظم جواہر لعل نہرو کی مشہور تقریر ’’تقدیر سے ملاقات‘‘ کا حوالہ دیا، جو نہرو نے 14 اگست 1947 کو پارلیمنٹ کے مرکزی ہال میں کی تھی
راہول گاندھی نے نہرو کے الفاظ دہراتے ہوئے کہا کہ بھارت، پورے ایشیا اور دنیا کے لیے یہ ایک فیصلہ کن لمحہ تھا،مشرق میں آزادی کا ایک نیا ستارہ طلوع ہو رہا تھا، ایک نئی امید جنم لے رہی تھی اور ایک دیرینہ خواب حقیقت بن رہا تھا،نہرو نے امید ظاہر کی تھی کہ آزادی کا یہ ستارہ کبھی غروب نہ ہو اور عوام کی امیدوں سے کبھی غداری نہ کی جائے
راہول گاندھی نے اسی اقتباس کو دوبارہ دہراتے ہوئے کہا کہ آزادی کے ساتھ نئی امیدیں وابستہ تھیں، لیکن نہرو نے یہ بھی تسلیم کیا تھا کہ اس وقت تاریک بادل بھارت کو گھیرے ہوئے تھے،راہول گاندھی کے خطاب میں اس تاریخی حوالے کی اہمیت یہ تھی کہ انہوں نے آزادی کے وقت قائم ہونے والی جمہوری امیدوں اور آج بھارت کو درپیش سیاسی صورت حال کے درمیان ایک تعلق قائم کرنے کی کوشش کی
انہوں نے کہا کہ وہ 2004 میں سیاست میں آئے تھے، اس وقت بھارت ایک آزاد اور جمہوری ملک تھا،تاہم ان کے مطابق 2014 میں ملک میں ایک بنیادی تبدیلی واقع ہوئی، جس کی اہمیت اس وقت شاید پوری طرح محسوس نہیں کی گئی تھی
راہول گاندھی نے کہا کہ آنے والے وقت میں اس تبدیلی کی حقیقت ہر بھارتی شہری کے سامنے واضح ہو جائے گی،ان کے خطاب میں 2014 کا حوالہ محض حکومت کی تبدیلی کے طور پر نہیں بلکہ اس سیاسی اور ادارہ جاتی تبدیلی کے آغاز کے طور پر سامنے آیا جس کے بارے میں وہ سمجھتے ہیں کہ اس نے بھارتی جمہوریت کی بنیادوں کو متاثر کیا ہے
انہوں نے اپنی تربیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بچپن ہی سے انہیں یہ بات ذہن نشین کرائی گئی تھی کہ سب سے اہم چیز بھارتی عوام کی آواز اور ان کے جذبات کا اظہار ہے،ان کے مطابق انہیں بھارت کی ہر ریاست اور اس کے دارالحکومت کا نام سکھایا گیا اور یہ بتایا گیا کہ زندگی کا سب سے اہم فرض عوام کے حقِ اظہار کا تحفظ ہے
انہوں نے کہا کہ یہ حق کسی ایک ریاست، زبان، تاریخ یا روایت تک محدود نہیں، بلکہ بھارت کے ہر شہری کا حق ہے،ان کے مطابق وہ اسی تصور کو لے کر سیاست میں آئے تھے اور جمہوری ڈھانچہ وہ نظام تھا جو اس بنیادی اصول کی حفاظت کرتا تھا
راہول گاندھی نے کہا کہ بھارت میں انتخابات کا تجربہ رکھنے والے تمام سیاسی رہنما جانتے ہیں کہ انتخابات میں کامیابی بھی ہوتی ہے اور شکست بھی،انہوں نے ممتا بینرجی، ملکارجن کھڑگے اور دیگر رہنماؤں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ سب بار بار انتخابات لڑ چکے ہیں اور جانتے ہیں کہ جمہوری سیاست میں اقتدار حاصل کرنا اور کھونا جمہوریت کی معمول کا حصہ ہے
تاہم ان کے خطاب کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ انتخابی مقابلہ صرف حکومت بنانے یا گرانے کا معاملہ نہیں، بلکہ اس پورے جمہوری نظام کے تحفظ کا سوال بھی ہے جس کے تحت عوام اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں اور سیاسی قیادت کا انتخاب کرتے ہیں
راہول گاندھی کی تقریر میں جمہوریت کے تحفظ، انتخابی عمل پر اعتماد اور اپوزیشن کے اتحاد کو مرکزی اہمیت حاصل رہی،انہوں نے نہرو کی تاریخی تقریر سے آغاز کرتے ہوئے موجودہ سیاسی صورت حال کو آزادی کے وقت عوام سے کیے گئے وعدوں کے تناظر میں پیش کیا اور کہا کہ بھارت کی جمہوری بنیادوں کی حفاظت کے لیے اجتماعی سیاسی جدوجہد ضروری ہے
ان کے خطاب کا سیاسی پیغام واضح تھا: اگر اپوزیشن جماعتیں اپنے اختلافات کے باوجود متحد رہیں، مشترکہ مقاصد کے لیے مل کر کام کریں اور عوام کے حقِ اظہار کے تحفظ کو اپنی جدوجہد کا مرکز بنائیں تو مودی حکومت کے اقتدار سے باہر ہونے کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں،راہول گاندھی کے مطابق یہ لڑائی صرف ایک انتخاب یا ایک سیاسی جماعت کی کامیابی کا معاملہ نہیں، بلکہ اس سوال کا فیصلہ ہے کہ بھارت کا جمہوری نظام کس سمت میں آگے بڑھے گا اور آیا عوام کی آواز اس نظام میں فیصلہ کن حیثیت برقرار رکھ سکے گی یا نہیں، انکا دعوی تھا، ووٹ چوری ہونے کا اندازہ انہیں بہت پہلے ہوگیا تھا مگر ثبوت ملنے تک وہ خاموش رہے ، کہ قبل از وقت بولنے سے جمہوریت کو نقصان پہنچنے کا خدشہ تھا، راہول گاندھی نے کہا ہے ووٹ چوری ہونے سے جمہوری حکومت ہی نہیں آئین بھی معذور ہوگیا اور جب آئین معذور ہوگیا تو پارلیمنٹ کا ۂر فیصلہ ہر قانون غیر قانونی ٹھہرا اور اب اس مسئلے کی جڑیں کیسے کاٹی جائیں گی یہ پورے ہندوستان کو ملکر سوچنا اور فیصلہ کرنا ہوگا





