نرسوں کے شیڈول میں AI کا گڑبڑ گھوٹالا، طبی عملہ مریضوں کی سلامتی پر سوال اٹھانے لگا
امریکا کے سب سے بڑے ہسپتال نیٹ ورک HCA Healthcare نے نرسوں کی ڈیوٹیوں کا شیڈول بہتر بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت کا سہارا لیا، مگر نرسوں کا کہنا ہے کہ AI نے مسئلہ حل کرنے کے بجائے عملے کی تھکن، غلط تعیناتی اور مریضوں کی دیکھ بھال کے لیے نئے خطرات پیدا کر دیے ہیں
WIRED کی رپورٹ کے مطابق HCA Healthcare نے ٹیکنالوجی کمپنی Palantir کے ساتھ مل کر Timpani نامی AI نظام تیار کیا ہے، جو تقریباً 190 میں سے 130 ہسپتالوں میں نرسوں کے ڈیوٹی شیڈول بنانے کے لیے استعمال ہو رہا ہے،تاہم متعدد نرسوں نے شکایت کی ہے کہ نظام ان کی ترجیحات اور چھٹیوں کی درخواستوں کو نظر انداز کرتے ہوئے مسلسل کئی دنوں کی ڈیوٹیاں لگا دیتا ہے، جس سے وہ ذہنی اور جسمانی طور پر تھک جاتی ہیں
فلوریڈا کی ایک انتہائی نگہداشت کی نرس Amber Retzloff نے وائرڈ کو بتایا کہ انہوں نے مخصوص 12 گھنٹے کی 50 ڈیوٹیاں طلب کیں، لیکن نصف سے زیادہ مرتبہ AI نظام نے انہیں دوسری شفٹوں میں ڈال دیا،بعض اوقات مسلسل تین دن ڈیوٹی لگنے سے وہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئیں
نرسوں کا سب سے سنگین اعتراض یہ ہے کہ AI بعض شفٹوں میں نرسوں کی تعداد کم رکھتا ہے یا تجربہ کار نرسوں اور جونیئر عملے کے درمیان مناسب توازن نہیں رکھتا، خاص طور پر اتوار کے دن،ان کے مطابق اس کا براہ راست اثر مریضوں کی دیکھ بھال پر پڑ سکتا ہے
Retzloff نے ایک حالیہ شفٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ان کے ساتھ کام کرنے والی چاروں نرسیں نسبتاً جونیئر تھیں،وہ واحد سینئر نرس تھیں، جس کے باعث انہیں زیادہ بیمار مریضوں کی دیکھ بھال مؤخر کرکے نئے عملے کی رہنمائی کرنا پڑی
نرسوں کا کہنا ہے کہ پہلے ہسپتال کے مینیجر خود شیڈول بناتے اور نرسوں کی ضروریات کو سامنے رکھتے تھے، لیکن AI نظام کے آنے کے بعد انہیں اپنی شفٹیں تبدیل کرانے یا اعتراضات درج کرانے میں زیادہ وقت صرف کرنا پڑ رہا ہے،بعض نرسوں کے مطابق آخری وقت پر ٹیمیں اور ڈیوٹیاں تبدیل ہونے کے واقعات بھی بڑھ گئے ہیں
HCA Healthcare نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حتمی شیڈول AI نہیں بلکہ نرسنگ لیڈرز طے کرتے ہیں،کمپنی کے ترجمان Harlow Sumerford کے مطابق Timpani کا مقصد مریضوں کی ضرورت کے مطابق درست مہارت اور تجربہ رکھنے والے طبی کارکنوں کو دستیاب رکھنا ہے، جبکہ نرسوں کی شیڈول ترجیحات کو بھی مدنظر رکھا جاتاہے،کمپنی کا کہنا ہے کہ AI کی مدد سے ابتدائی شیڈول زیادہ مؤثر بن رہے ہیں اور 98 فیصد سے زیادہ شیڈولز میں مختلف مہارت اور تجربے کا امتزاج موجود ہوتا ہے
تاہم نرسوں کا کہنا ہے کہ صحت کے شعبے میں صرف کارکردگی بڑھانا کافی نہیں،ان کے بقول جب ایک AI نظام یہ طے کرنے لگے کہ کس وقت کون سی نرس کس مریض کی دیکھ بھال کرے گی تو انسانی اور طبی فیصلے کو نظر انداز کرنے کی صورت میں معاملہ براہ راست مریضوں کی سلامتی تک پہنچ سکتا ہے، وائرڈ کے مطابق Palantir کی ٹیکنالوجی کے حوالے سے دیگر طبی اداروں میں بھی شکایات سامنے آئی ہیں۔ Rayus Radiology میں بھی Palantir کے تیار کردہ ایک نظام کے متعارف ہونے کے بعد شیڈولنگ کی غلطیوں پر ملازمین نے اعتراضات اٹھائے ہیں
نرسوں کا کہنا ہے کہ AI اگر معاون ٹیکنالوجی کے طور پر کام کرے تو فائدہ مند ہو سکتا ہے، لیکن اسے ایسے فیصلوں پر غالب نہیں آنا چاہیے جہاں تجربہ، انسانی فیصلہ اور مریض کی فوری ضرورت بنیادی اہمیت رکھتے ہیں





