Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

آواز کی رفتار کے قریب زمین کی طرف جھپٹنے کے باوجود بوئنگ 737 میکس تباہ ہونے سے کیسے بچ گیا؟

آواز کی رفتار کے قریب زمین کی طرف جھپٹنے کے باوجود بوئنگ 737 میکس تباہ ہونے سے کیسے بچ گیا؟

فلائی دبئی کی پرواز FZ1073 میں 30 ستمبر کو پیش آنے والے خوفناک واقعے کی نئی تفصیلات نے ہوا بازی کے ماہرین کو بھی حیران کر دیا ہے،وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق بوئنگ 737 میکس 8 طیارہ ایک انتہائی خطرناک غوطے کے دوران ایسی رفتار اور کششِ ثقل کی قوت کا شکار ہوا جو عام حالات میں طیارے کے ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچانے کے لیے کافی سمجھی جاتی ہے، مگر طیارہ ہوا میں ٹکڑے ٹکڑے ہونے کے بجائے دوبارہ قابو میں آ گیا اور مسافروں سمیت محفوظ لینڈنگ کرنے میں کامیاب رہا
فلائی دبئی کی یہ پرواز دبئی سے تل ابیب جا رہی تھی اور اس میں 170 سے زائد مسافر اور عملے کے ارکان سوار تھے،پرواز تقریباً 34 ہزار فٹ کی بلندی پر سعودی عرب کے اوپر پہنچ چکی تھی جب کاک پٹ میں پیش آنے والے ایک سنگین واقعے کے بعد طیارے نے اچانک انتہائی تیزی سے بلندی کھونا شروع کر دی،فلائٹ ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق طیارہ مختصر وقت میں ہزاروں فٹ نیچے آیا اور ایک مرحلے پر اس کا رخ تقریباً 39 ڈگری تک نیچے کی طرف ہو گیا
وال اسٹریٹ جرنل نے فلائٹ ریڈار24 کے سیکنڈ بہ سیکنڈ سیٹلائٹ ڈیٹا کا تجزیہ کرتے ہوئے بتایا ہے کہ طیارہ اس دوران اپنی معمول کی حد سے کہیں زیادہ رفتار تک پہنچ گیا اور بعض اندازوں کے مطابق آواز کی رفتار کے قریب جا پہنچا،ایک مرحلے پر طیارے کے نیچے آنے کی رفتار اتنی زیادہ تھی کہ اگر یہی کیفیت برقرار رہتی تو وہ انتہائی مختصر وقت میں زمین تک پہنچ سکتا تھا
اس شدید غوطے کے دوران طیارے کی دم کے اہم حصوں کو نقصان پہنچا، تاہم بنیادی ڈھانچہ برقرار رہا،یہی وہ نکتہ ہے جس نے ماہرین کو سب سے زیادہ متوجہ کیا ہے کہ انتہائی زیادہ رفتار، شدید زاویے اور غیر معمولی قوت کے باوجود بوئنگ 737 میکس کا بنیادی ڈھانچہ اس دباؤ کو برداشت کرنے میں کامیاب رہا
طیارے میں موجود افراد کی فوری کارروائی نے بھی ممکنہ تباہی کو ٹالنے میں اہم کردار ادا کیا،دستیاب معلومات کے مطابق کاک پٹ میں پیدا ہونے والے بحران کے بعد مسافروں اور عملے نے مداخلت کی جبکہ طیارے میں موجود اضافی پائلٹس نے بھی کنٹرول سنبھالنے میں مدد دی؟طیارہ بالآخر سعودی عرب کے شہر تبوک کے ہوائی اڈے پر ہنگامی طور پر اتارا گیا
فلائٹ ٹریکنگ کے مطابق طیارہ ایک مرتبہ خطرناک غوطے سے نکلنے کے بعد دوبارہ بلندی کھو بیٹھا اور کافی دیر تک شدید اتار چڑھاؤ کا شکار رہا،بعض مراحل میں طیارے کا ٹرانسپونڈر سگنل بھی غائب ہوا،اس کے باوجود پائلٹس نے تقریباً ایک گھنٹے سے زیادہ پرواز جاری رکھی اور آخرکار طیارے کو محفوظ انداز میں زمین پر اتار لیا
ماہرین کے مطابق اس واقعے سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ جدید مسافر طیاروں کے ڈھانچے کو غیر معمولی حالات کے لیے کس حد تک مضبوط بنایا جاتا ہے،تاہم یہ طے کرنا ابھی باقی ہے کہ طیارے نے عین کتنی رفتار حاصل کی، اس پر کتنی G-force پڑی اور دم کے کون سے حصے کس مرحلے پر متاثر ہوئے،ان سوالات کا حتمی جواب طیارے کے بلیک باکس اور حادثے کی مکمل تکنیکی تحقیقات سے سامنے آئے گا
یوں 30 ستمبر کی فلائی دبئی پرواز کا واقعہ صرف ایک خوفناک کاک پٹ بحران نہیں بلکہ جدید مسافر طیارے کی ساختی برداشت کا بھی غیر معمولی امتحان بن گیا، جس میں بوئنگ 737 میکس ایک ایسے غوطے سے بچ نکلا جس کے بعد طیارے کا ہوا میں سلامت رہنا ہی ایک غیر معمولی واقعہ قرار دیا جا رہا ہے

قومی خبریں سے مزید