مشی گن سینیٹ دوڑ میں راجرز اور السید میں سخت مقابلہ، ڈیٹرائٹ مباحثے سے نئی بحث چھڑ گئی
مشی گن کی خالی ہونے والی امریکی سینیٹ نشست کے لیے ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز اور ڈیموکریٹک امیدوار عبدالسید کے درمیان مقابلہ تازہ ترین سرویز میں انتہائی قریب دکھائی دے رہا ہے، جبکہ ڈیٹرائٹ میں طے شدہ انتخابی مباحثے میں راجرز کی عدم شرکت نے انتخابی مہم میں ایک نیا تنازعہ پید کر دیا ہے
واشنگٹن پوسٹ اور جارج میسن یونیورسٹی کے Schar School کے 10 سے 14 ستمبر تک کیے گئے تازہ سروے میں ممکنہ ووٹرز میں عبدالسید کو 48 فیصد اور مائیک راجرز کو 45 فیصد حمایت حاصل ہوئی،تین فیصد پوائنٹس کا فرق اس سروے کی 3.9 فیصد کی غلطی کی حد کے اندر ہے،سروے میں 53 فیصد ممکنہ ووٹرز نے کہا کہ وہ اگلے سال سینیٹ میں ڈیموکریٹس کا کنٹرول چاہتے ہیں
اسی ہفتے جاری ہونے والے Emerson College/Nexstar کے تازہ سروے میں السید کو 48 فیصد جبکہ راجرز کو 46 فیصد حمایت ملی اور 4 فیصد ووٹرز غیر فیصلہ شدہ تھے،سروے میں تعلیمی سطح کے لحاظ سے نمایاں فرق بھی سامنے آیا،چار سالہ کالج ڈگری نہ رکھنے والے ووٹرز میں راجرز کو 48 فیصد کے مقابلے میں السید کو 45 فیصد حمایت ملی، جبکہ کالج گریجویٹس میں السید 53 فیصد اور راجرز 42 فیصد پر تھے
اس سے قبل اگست میں AARP کے سروے میں بھی دونوں امیدواروں کے درمیان معمولی فرق سامنے آیا تھا، جہاں ممکنہ ووٹرز میں السید 48 فیصد اور راجرز 47 فیصد پر تھے،تاہم 50 سال یا اس سے زیادہ عمر کے ووٹرز میں راجرز کو 52 فیصد جبکہ السید کو 43 فیصد حمایت حاصل ہوئی تھی
تازہ سرویز سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں امیدواروں کے لیے اپنی اپنی جماعت سے باہر کے ووٹرز اہم ہوں گے،واشنگٹن پوسٹ کے سروے میں 44 فیصد ممکنہ ووٹرز نے السید کے بارے میں مثبت رائے ظاہر کی جبکہ راجرز کے لیے یہ شرح 39 فیصد تھی،دوسری جانب 48 فیصد ووٹرز نے السید کو اپنے لیے ’’بہت زیادہ لبرل‘‘ قرار دیا، جبکہ 43 فیصد نے راجرز کو ’’بہت زیادہ قدامت پسند‘‘ کہا
مقابلے کا ایک اہم پہلو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت اور مشی گن کی معیشت ہے،واشنگٹن پوسٹ کے سروے میں تقریباً 60 فیصد ممکنہ ووٹرز نے ٹرمپ کی کارکردگی سے عدم اطمینان کا اظہار کیا، جبکہ 48 فیصد نے مہنگائی اور روزمرہ اخراجات کو اپنا سب سے اہم مسئلہ قرار دیا،مشی گن کی کینیڈا سے گہری تجارتی وابستگی کے باعث امریکی کینیڈین تجارتی تنازعہ اور ٹیرف بھی انتخابی مہم میں اہم موضوع بن چکے ہیں
اسی ماحول میں 15 ستمبر کو ڈیٹرائٹ کے Fox 2 کی جانب سے منعقد کیا جانے والا مباحثہ خاص توجہ کا مرکز بنا،عبدالسید نے دعوت قبول کرلی تھی، لیکن راجرز نے پروگرام میں شرکت نہیں کی،راجرز کی مہم نے مباحثے کے میزبان روپ راج پر جانبداری کا الزام عائد کرتے ہوئے شرکت سے انکار کیا، جبکہ راج نے جانبداری کی تردید کی،مباحثے میں السید اکیلے شریک ہوئے اور راجرز کے لیے خالی نشست موجود رہی
راجرز سابق رکنِ کانگریس ہیں اور انہیں صدر ٹرمپ کی حمایت حاصل ہے، جبکہ السید سابق ریاستی عہدیدار اور مشی گن ڈیموکریٹک سینیٹ امیدوار ہیں،ریپبلکن حلقے السید کے ترقی پسند پالیسی مؤقف کو انتخابی مہم میں نمایاں کر رہے ہیں، جبکہ السید اپنی مہم میں مہنگائی، صحت عامہ، اجرتوں اور مشی گن کی معیشت جیسے موضوعات پر توجہ دے رہے ہیں
مجموعی طور پر تازہ ترین پولنگ میں دونوں امیدواروں کے درمیان فرق معمولی ہے: واشنگٹن پوسٹ میں السید 48-45، Emerson/Nexstar میں السید 48-46، جبکہ اگست کے AARP سروے میں السید 48-47 پر تھے،یہ اعداد کسی حتمی انتخابی نتیجے کی پیش گوئی نہیں کرتے، لیکن اس وقت کی عوامی رائے میں مقابلے کی قربت کو ظاہر کرتے ہیں





