جنگ کے دوران ایرانی قیادت نیویارک پہنچے گی، نقل و حمل محدود ، لگژری خریداری پر پابندی ، اقوام متحدہ کے باہر نیتن یاہو کے خلاف احتجاج کی تیاری، 55 مظاہروں کے اجازت نامے جاری
نیویارک:امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے ساتویں ماہ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایران کے اسرائیلی و امریکی حملوں سے زندہ بچ جانے والے اعلیٰ حکام کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے امریکہ آنے کی اجازت دے دی ہے،امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق ایرانی وفد کے مرکزی ارکان اور اجلاس میں شرکت کے لیے ضروری عملے کو ویزے دیے جائیں گے،وفد میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور وزیر خارجہ عباس عراقچی شامل ہیں،تاہم واشنگٹن نے واضح کیا ہے کہ اس وفد کی نقل و حرکت پر پابندیاں ہوں گی اور اسے لگژری اور بعض دیگر اشیا کی خریداری کی اجازت نہیں ہوگی،امریکی حکام کے مطابق اس سال ایرانی وفد گزشتہ برس کے مقابلے میں چھوٹا ہوگا
ایرانی وفد کی حتمی مکمل فہرست اور ارکان کی درست تعداد ابھی امریکی یا ایرانی حکام نے عوامی طور پر جاری نہیں کی،دستیاب معلومات کے مطابق اس وقت پزشکیان، عراقچی اور ضروری عملہ ہی کی تصدیق ہوئی ہے، ایرانی صدر اس سے قبل 2024 اور 2025 میں بھی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کرچکے ہیں
امریکہ کا یہ فیصلہ خاص طور پر اہم ہے کیونکہ واشنگٹن اور تہران اس وقت براہ راست جنگ میں ہیں، تاہم اقوام متحدہ کے میزبان ملک کی حیثیت سے امریکہ نے 1947 کے اقوام متحدہ ہیڈکوارٹر معاہدے کے تحت غیر ملکی سفارت کاروں کو اجلاس میں شرکت کی اجازت دینے کی اپنی ذمہ داری کا حوالہ دیا ہے،اس کے برعکس ٹرمپ انتظامیہ نے فلسطینی صدر محمود عباس اور فلسطینی حکام کو رواں اجلاس میں شرکت کے لیے ویزے دینے سے انکار کیا ہے
ایرانی وفد کی آمد ایسے وقت میں ہوگی جب نیویارک میں جنرل اسمبلی کے دوران غیر معمولی سکیورٹی اور احتجاجی سرگرمیوں کی تیاری کی جا رہی ہے،نیویارک پولیس کے مطابق جنرل اسمبلی سے متعلق کم از کم 55 احتجاجی اور عوامی اجتماعات کے لیے اجازت نامے جاری کیے جاچکے ہیں،تاہم یہ 55 مظاہرے صرف ایران یا ایرانی وفد کے خلاف نہیں بلکہ جنرل اسمبلی میں شریک مختلف عالمی رہنماؤں، جنگوں اور دیگر بین الاقوامی معاملات سے متعلق مختلف اجتماعات کا مجموعہ ہیں
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی نیویارک آمد کے خلاف بڑے احتجاج متوقع ہیں۔ نیتن یاہو 23 ستمبر کو نیویارک پہنچنے اور 24 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرنے والے ہیں، جبکہ 25 ستمبر کو ان کی واپسی متوقع ہے،اسرائیلی سفارتی حکام نے ان کی آمد کے دوران بڑے احتجاج کی توقع ظاہر کی ہے، جبکہ نیویارک پولیس نے بھی جنرل اسمبلی کے دوران احتجاجی سرگرمیوں میں اضافے کے لیے خصوصی انتظامات کیے ہیں
نیتن یاہو کے خلاف احتجاج کے لیے اس وقت الگ سے کوئی مستند سرکاری تعداد دستیاب نہیں جس سے یہ بتایا جاسکے کہ صرف ان کے خلاف کتنے مظاہرے ہوں گے،دستیاب سرکاری اور پولیس معلومات میں 55 اجازت یافتہ جنرل اسمبلی سے متعلق اجتماعات کا مجموعی عدد دیا گیا ہے، نہ کہ نیتن یاہو مخالف مظاہروں کی الگ تعداد
نیتن یاہو کی آمد کے موقع پر سکیورٹی بھی انتہائی سخت ہوگی،نیویارک پولیس کے مطابق جنرل اسمبلی کے دوران ہزاروں پولیس اہلکار اقوام متحدہ کے اطراف تعینات کیے جائیں گے، جبکہ نیویارک پولیس کے ساتھ ایف بی آئی، سیکرٹ سروس، محکمہ خارجہ کی ڈپلومیٹک سکیورٹی سروس اور اقوام متحدہ کی سکیورٹی بھی مشترکہ انتظامات میں شامل ہوگی،پولیس کے مطابق اس وقت اقوام متحدہ یا نیویارک شہر کے خلاف کوئی مخصوص یا قابلِ اعتبار خطرہ معلوم نہیں، تاہم احتیاطاً سکیورٹی کا درجہ بڑھایا گیا ہے
اسی دوران میئر زوہران ممدانی نے کہا ہے کہ وہ نیتن یاہو کے خلاف ہونے والے کسی احتجاج میں شرکت کا ارادہ نہیں رکھتے،ممدانی نے یہ بھی کہا کہ انہیں پولیس کی تیاریوں پر اعتماد ہے اور فی الحال کسی مخصوص خطرے کی اطلاع نہیں
اقوام متحدہ کی ہائی لیول ویک 22 سے 29 ستمبر تک جاری رہے گی،ایرانی صدر پزشکیان اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی موجودگی، ایک طرف جاری امریکہ ایران جنگ اور دوسری طرف غزہ اور مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے باعث نیویارک میں اس ہفتے کے دوران سفارتی سرگرمیوں کے ساتھ احتجاج اور سکیورٹی بھی مرکزی توجہ کا موضوع رہے گی





