امریکا نے سعودی عرب کو 48 ایف 35 جنگی طیارے فروخت کرنے کی منظوری دے دی
امریکا نے سعودی عرب کو 48 جدید ایف 35 جنگی طیارے فروخت کرنے کی ممکنہ منظوری دے دی ہے امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت تقریباً 24.3 ارب ڈالر ہے اور اس میں 48 طیاروں کے ساتھ 49 انجن، مواصلاتی آلات، اسپیئر پارٹس، تربیت اور دیگر معاون سامان شامل ہوگا
تاہم یہ معاہدہ ابھی مکمل نہیں ہوا۔ امریکی محکمہ خارجہ نے اس ممکنہ فروخت سے کانگریس کو آگاہ کردیا ہے اور امریکی قانون کے تحت ارکان کانگریس کو اس معاہدے کا جائزہ لینے اور اعتراض کرنے کے لیے 30 دن کا وقت حاصل ہوگا۔ حتمی منظوری کے بعد ہی معاہدہ آگے بڑھ سکے گا
ایف 35 کو جدید ترین خفیہ ٹیکنالوجی رکھنے والے جنگی طیاروں میں شمار کیا جاتا ہے اس کی ایسی صلاحیتیں ہیں جن کی مدد سے اسے دشمن کے ریڈار سے شناخت کرنا مشکل ہوتا ہے سعودی عرب کئی برس سے ان طیاروں کے حصول میں دلچسپی رکھتا تھا اور اپنی فضائیہ کو جدید بنانے کے لیے یہ طیارے حاصل کرنا چاہتا ہے
امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ مجوزہ فروخت سعودی عرب کی دفاعی صلاحیت بہتر کرے گی، امریکی افواج کے ساتھ اس کے فوجی تعاون میں اضافہ کرے گی اور اسے موجودہ اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت فراہم کرے گی امریکی حکومت کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس فروخت سے خطے میں فوجی توازن متاثر نہیں ہوگا
سعودی عرب کو ایف 35 طیاروں کی فروخت کا معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کہ مشرق وسطیٰ میں اس وقت صرف اسرائیل کے پاس یہ طیارے موجود ہیں اسرائیل کی جانب سے سعودی عرب کو ایف 35 فراہم کیے جانے کے حوالے سے تحفظات سامنے آتے رہے ہیں، کیونکہ امریکا کی دیرینہ پالیسی کے مطابق اسرائیل کو خطے میں اپنی فوجی برتری برقرار رکھنے کی ضمانت دی جاتی ہے
امریکی انٹیلی جنس سے متعلق بعض خدشات بھی سامنے آئے ہیں کہ سعودی عرب اور چین کے بڑھتے ہوئے تعلقات کے باعث ایف 35 کی حساس ٹیکنالوجی چین تک پہنچنے کا خطرہ ہوسکتا ہے بعض امریکی قانون سازوں نے اسی بنیاد پر مجوزہ معاہدے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے، تاہم یہ واضح نہیں کہ کانگریس میں مخالفت معاہدے کو روکنے کے لیے کافی ہوگی یا نہیں
یہ معاہدہ سعودی عرب اور امریکا کے درمیان وسیع تر دفاعی تعاون کا بھی حصہ ہے سعودی عرب پہلے ہی امریکی ساختہ ایف 15 سمیت مختلف جنگی طیارے استعمال کرتا ہے جبکہ امریکا نے 2025 میں سعودی عرب کے ساتھ تقریباً 142 ارب ڈالر کے دفاعی پیکیج پر بھی اتفاق کیا تھا





