کینیڈا اور یورپی یونین کے درمیان نئی شراکت داری سے کیا بدلے گا؟
کینیڈا اور یورپی یونین اپنے تعلقات کو موجودہ تجارتی اور سیاسی معاہدوں سے کہیں زیادہ وسیع کرنے پر غور کر رہے ہیں، جس میں کینیڈا کو یورپی یونین کا پہلا ایسوسی ایٹ ممبر بنانے کی تجویز بھی شامل ہے یورپی یونین میں اس وقت 27 مکمل رکن ممالک ہیں، تاہم ایسوسی ایٹ ممبرشپ کی کوئی باقاعدہ موجودہ حیثیت نہیں، اس لیے کینیڈا کے لیے ایسا انتظام ایک نئی مثال قائم کرے گا
ایسوسی ایٹ ممبرشپ کا مطلب مکمل یورپی یونین کی رکنیت نہیں ہوگا ممکنہ طور پر کینیڈا کو بعض یورپی معاشی اور تحقیقی پروگراموں تک زیادہ رسائی مل سکتی ہے، جبکہ کچھ معاملات میں یورپی یونین کے قواعد و ضوابط کے ساتھ زیادہ ہم آہنگی بھی درکار ہو سکتی ہے ناروے، آئس لینڈ اور لیختن اسٹائن یورپی یونین کے رکن نہیں لیکن یورپی اکنامک ایریا کے ذریعے یورپی سنگل مارکیٹ تک رسائی رکھتے ہیں، اگرچہ ان کے لیے یورپی قوانین کے ساتھ خاصی ہم آہنگی ضروری ہے
کینیڈا کے نوجوانوں کے لیے یورپ میں تعلیم اور کام کے مزید مواقع پیدا ہونا بھی ممکنہ فوائد میں شامل ہے کینیڈا یورپی یونین کے ایراسمس پروگرام میں شمولیت پر بھی غور کر سکتا ہے، جس سے کینیڈین طلبہ کو یورپ میں طویل مدت تک تعلیم حاصل کرنے اور ممکنہ طور پر مالی معاونت حاصل کرنے کے مواقع مل سکتے ہیں
تجارت کے حوالے سے کینیڈا پہلے ہی یورپی یونین کے ساتھ جامع اقتصادی اور تجارتی معاہدے، سیٹا، کے تحت کام کر رہا ہے یورپی یونین کے مطابق 2025 میں کینیڈا اور یورپی یونین کے درمیان اشیا اور خدمات کی مجموعی تجارت تقریباً 130 ارب یورو تک پہنچ گئی، جبکہ 2016 میں یہ تقریباً 72.1 ارب یورو تھی
نئی شراکت داری میں اہم شعبوں میں اہم معدنیات، توانائی، مصنوعی ذہانت، جدید ٹیکنالوجی، دفاعی صنعت، تحقیق اور مالیاتی خدمات شامل ہو سکتے ہیں کینیڈا یورپ کو توانائی اور اہم معدنیات فراہم کرنے میں کردار ادا کر سکتا ہے جبکہ یورپ کی جدید صنعتی، تحقیقی اور ٹیکنالوجی کی صلاحیتیں کینیڈا کے لیے نئی سرمایہ کاری اور صنعتی مواقع پیدا کر سکتی ہیں
اس تعاون کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ کینیڈا اس وقت امریکہ کے ساتھ تجارتی کشیدگی کے دوران اپنی عالمی شراکت داریوں کو متنوع بنانے کی کوشش کر رہا ہے وزیراعظم مارک کارنی نے 17 ستمبر کو یورپی پارلیمنٹ میں کہا کہ کینیڈا اپنے بین الاقوامی معاہدوں اور شراکت داریوں کا فیصلہ خود کرے گا اور کسی دوسرے ملک کو یہ اختیار نہیں کہ وہ کینیڈا کو بتائے کہ اسے کس کے ساتھ معاہدے کرنے چاہئیں
تاہم ایسوسی ایٹ ممبرشپ کی حتمی شکل ابھی طے نہیں ہوئی یورپی یونین میں اس نوعیت کی رکنیت پہلے سے موجود نہیں، اس لیے کینیڈا اور یورپی یونین کو یہ طے کرنا ہوگا کہ مارکیٹ تک رسائی، قوانین، نقل و حرکت، تعلیم، تجارت اور دیگر شعبوں میں تعاون کی حدود کیا ہوں گی اور اس کے بدلے کینیڈا پر کون سی ذمہ داریاں عائد ہوں گی
یورپی یونین کے ساتھ گہرے تعلقات کا مقصد مکمل یورپی یونین رکنیت حاصل کرنا نہیں بلکہ تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، ٹیکنالوجی، دفاع اور عوامی روابط میں ایسا تعاون پیدا کرنا ہے جس سے کینیڈا کو امریکہ کے علاوہ دیگر بڑی عالمی منڈیوں اور شراکت داروں کے ساتھ اپنے تعلقات مزید مضبوط کرنے کا موقع مل سکے





