مودی 76 کے ہوگئے، مگر سیاسی سفر میں آسان راستہ انہیں کبھی نہیں ملا
نئی دہلی:بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی آج 76 برس کے ہوگئے،ان کے سیاسی سفر پر نظر ڈالی جائے تو 2026 کو ان کے کیریئر کے مشکل ترین برسوں میں شمار کرنے والے تجزیہ کاروں کی کمی نہیں، تاہم مودی کی سیاسی زندگی کی پوری تاریخ بتاتی ہے کہ مشکلات ان کے لیے کوئی نئی بات نہیں،ان کے کئی اہم سیاسی مراحل بحران، سخت سیاسی مقابلے اور غیر یقینی حالات کے درمیان گزرے، لیکن ہر بار وہ ایک نئے مرحلے میں داخل ہونے میں کامیاب رہے
بھارتی میڈیا کا کہنا ہے مودی نے اپنی سیاسی شناخت بھارتیہ جنتا پارٹی اور گجرات کی سیاست سے بنائی اور طویل عرصے تک گجرات کے وزیر اعلیٰ رہے،2001 میں ریاست کی قیادت سنبھالنے کے بعد انہیں متعدد سیاسی اور انتظامی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا،2002 کے گجرات فسادات ان کے سیاسی سفر کا ایک انتہائی متنازعہ باب بنے، جس کے اثرات برسوں تک ملکی سیاست میں برقرار رہے،مودی نے اپنی حکومت کے کردار کا دفاع کیا، جبکہ ناقدین نے ان پر شدید سوالات اٹھائے
2014 میں مودی نے قومی سیاست میں بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی کو لوک سبھا میں واضح اکثریت دلائی اور وزیر اعظم بنے،2019 کے انتخابات میں بی جے پی نے اپنی نشستیں مزید بڑھائیں، جس سے مودی کی سیاسی حیثیت مزید مضبوط ہوئی،تاہم 2024 کے انتخابات میں بی جے پی اپنی تنہا اکثریت برقرار نہ رکھ سکی اور حکومت بنانے کے لیے اتحادی جماعتوں پر انحصار کرنا پڑا
اسی پس منظر میں 2026 کو مودی کے لیے ایک مختلف سیاسی مرحلہ قرار دیا جا رہا ہے،ان کی حکومت کو معیشت، روزگار، مہنگائی، وفاقی سیاست اور اپوزیشن کے دباؤ سمیت مختلف مسائل پر سیاسی سوالات کا سامنا ہے،تاہم مودی کی سیاسی تاریخ یہ ظاہر کرتی ہے کہ ان کے کیریئر میں کامیابی کے بڑے مراحل بھی اکثر ایسے ادوار کے بعد آئے جب ان کے سامنے سیاسی مشکلات موجود تھیں
76 سال کی عمر میں مودی کا سیاسی سفر اب بھی بھارت کی سیاست کے مرکزی محوروں میں شامل ہے،ان کی داستان کا نمایاں پہلو یہی ہے کہ اقتدار تک پہنچنے اور اسے برقرار رکھنے کا سفر مسلسل آسان راستے کے بجائے بحرانوں، سخت مقابلوں اور بدلتے ہوئے سیاسی حالات سے گزرتا رہا ہے، تاہم آزاد اور غیر جانبدار تجزیہ نگار بھارتی وزیراعظم کی سیاست کو انتہا پسند متعصب مذہبی سیاست قرار دیتے ہیں جس میں عقیدت ایمان جنون دکھا کر عوام کو بے وقوف بنایا جاتا ہے اور بلاشبہ مودی اس طرز سیاست میں ابھی تک کامیابی کے جھنڈے گاڑے چلے جارہے ہیں





