Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

کیرالا کی معیشت کو من موہن سنگھ جیسے بڑے اصلاحاتی فیصلوں کی ضرورت ہے، وی ڈی ستھیسن

کیرالا کی معیشت کو من موہن سنگھ جیسے بڑے اصلاحاتی فیصلوں کی ضرورت ہے، وی ڈی ستھیسن

کیرالا اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر وی ڈی ستھیسن نے کہا ہے کہ ریاست کی معیشت ایک ایسے اہم موڑ پر کھڑی ہے جہاں روایتی طریقہ کار سے ہٹ کر بڑے معاشی اصلاحات کی ضرورت ہے،انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں کیرالا کو ایسی پالیسیوں کی ضرورت ہے جو معیشت کو نئی سمت دے سکیں اور طویل مدت میں مالی استحکام اور ترقی کی بنیاد مضبوط کریں
وی ڈی ستھیسن سے جب پوچھا گیا کہ کیا وہ 1991 میں بھارت کے معاشی بحران کے دوران اصلاحات متعارف کرانے والے سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر من موہن سنگھ جیسا کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تو انہوں نے اس تقابل کو اپنی ذمہ داری سے جوڑتے ہوئے کہا کہ کیرالا بھی اس وقت ایک ایسے اصلاحاتی مرحلے میں داخل ہو رہا ہے جہاں روایتی طریقوں سے آگے بڑھنے اور نئے معاشی فیصلے کرنے کی ضرورت ہے
ڈاکٹر من موہن سنگھ نے 1991 میں وزیر خزانہ کی حیثیت سے بھارت میں وسیع معاشی اصلاحات متعارف کرائیں، جن کے نتیجے میں معیشت میں لائسنسنگ اور بعض حکومتی پابندیوں میں کمی، نجی شعبے کے لیے زیادہ گنجائش اور بیرونی سرمایہ کاری کے دروازے کھولنے سمیت اہم تبدیلیاں ہوئیں،بعد کے برسوں میں ان اصلاحات کو بھارتی معیشت کی ساخت تبدیل کرنے والے اہم اقدامات میں شمار کیا گیا
ستھیسن کے مطابق من موہن سنگھ سے موازنہ کسی شخصیت کی نقل کرنے کے بجائے اس ذمہ داری کی طرف اشارہ ہے کہ موجودہ معاشی مسائل سے نمٹنے کے لیے روایتی سیاسی اور انتظامی طریقوں سے آگے بڑھا جائے،ان کا کہنا تھا کہ کیرالا کو ایسے نئے اصلاحاتی اقدامات کی ضرورت ہے جو ریاست کی معاشی صلاحیت کو بہتر بنائیں اور مستقبل کے لیے زیادہ پائیدار معاشی بنیاد فراہم کریں
ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کیرالا کی معیشت میں مالی دباؤ، سرکاری اخراجات اور آمدنی میں توازن جیسے مسائل پر مسلسل بحث جاری ہے،ستھیسن کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ریاست میں معاشی پالیسی کے حوالے سے محض معمولی تبدیلیوں کے بجائے وسیع تر اصلاحات کا مطالبہ سیاسی بحث کا اہم حصہ بنتا جا رہا ہے

قومی خبریں سے مزید