ٹیکساس سینیٹ کے امیدوار ٹالاریکو کا پرانا بیان دوبارہ منظرعام پر، امریکہ میں جمہوریت کو ’پسپائی‘ کا شکار قرار دیا تھا
ٹیکساس سے امریکی سینیٹ کے ڈیموکریٹ امیدوار جیمز ٹالاریکو کا جون 2024 میں دیا گیا ایک بیان دوبارہ منظرعام پر آیا ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکہ اپنی جمہوری پیش رفت میں ’’پسپائی‘‘ کا شکار ہے اور امریکیوں کو اپنی جمہوری نظام کو بہتر بنانے کے لیے مغربی یورپ کے بعض ممالک سے ’’رہنمائی‘‘ حاصل کرنی چاہیے،یہ بیان انہوں نے سینیٹ کا امیدوار بننے سے بہت پہلے 2 جون 2024 کو میڈاس ٹچ نیٹ ورک کے پروگرام ’’دی ویک اینڈ شو‘‘ میں گفتگو کے دوران دیا تھا
ٹالاریکو نے اس انٹرویو میں کہا تھا کہ امریکہ نے جمہوریت کے وعدے کو مکمل طور پر پورا نہیں کیا اور ان کے بقول ’’افسوس کی بات ہے کہ جہاں یہ تجربہ شروع ہوا، وہیں ہم پیچھے جا رہے ہیں‘‘انہوں نے مزید کہا تھا کہ امریکیوں کو بالخصوص مغربی یورپ کے ممالک کو دیکھنا چاہیے تاکہ امریکہ اپنی جمہوری نظام کو مزید بہتر بنانے کے لیے ان سے تحریک حاصل کرسکے
یہ ویڈیو ایسے وقت میں دوبارہ توجہ کا مرکز بنی ہے جب ٹالاریکو ٹیکساس سے امریکی سینیٹ کی نشست کے لیے ڈیموکریٹ امیدوار ہیں،وہ ریپبلکن امیدوار اور ٹیکساس کے اٹارنی جنرل کین پیکسٹن کے مدمقابل ہیں،ٹالاریکو نے اس سال ڈیموکریٹک سینیٹ نامزدگی حاصل کرنے کے لیے نمائندہ جسمن کرکٹ کو شکست دی تھی
ٹالاریکو کے انتخابی ترجمان جے ٹی اینس نے فاکس نیوز کو دیے گئے بیان میں کہا کہ ٹالاریکو اس بات سے متفق ہیں کہ امریکہ دنیا کا عظیم ترین ملک اور ٹیکساس امریکہ کی عظیم ترین ریاست ہے، جبکہ ان کے مطابق ملک کو ایک ’’زیادہ کامل وفاق‘‘ کے لیے مسلسل کام کرنا چاہیے
ٹالاریکو کے ماضی کے بعض دیگر بیانات بھی رواں انتخابی مہم کے دوران زیر بحث آتے رہے ہیں، جن میں امریکی پرچم کو ’’پیچیدہ علامت‘‘ قرار دینے اور مذہب سے متعلق ان کے بعض تبصرے شامل ہیں،ان کے انتخابی ترجمان نے ان بیانات پر بھی وضاحتیں پیش کی ہیں
ٹالاریکو کا 2024 کا بیان بنیادی طور پر امریکی جمہوریت کے معیار اور اس میں بہتری کی ضرورت سے متعلق ان کی رائے پر مبنی تھا،تاہم اب اس پرانے بیان کو 2026 کی ٹیکساس سینیٹ مہم کے تناظر میں دوبارہ نمایاں کیا جا رہا ہے





