کراچی کی صفائی پر اربوں روپے خرچ، پھر بھی شہر دنیا کے بدترین شہروں میں شامل
کراچی میں صفائی اور کچرا اٹھانے کے لیے گزشتہ کئی برس کے دوران اربوں روپے خرچ کیے جانے کے باوجود شہر کی حالت میں نمایاں بہتری نہیں آسکی کراچی 2021 میں دنیا کے کم قابلِ رہائش شہروں میں 7ویں نمبر پر تھا، جبکہ 2026 میں یہ تنزلی کے بعد 4ویں بدترین شہر بن گیا ہے اور 173 شہروں کی فہرست میں 170ویں نمبر پر ہے
گزشتہ 5 برس کے دوران سندھ حکومت کی جانب سے صرف کچرا اٹھانے والے ٹھیکیداروں کو تقریباً 126 ارب روپے ادا کیے گئے، جبکہ 2017 سے اب تک کراچی میں کچرا اٹھانے اور سڑکوں کی صفائی پر مجموعی خرچ کا تخمینہ 160 سے 170 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے سندھ بھر میں اس مد میں مجموعی اخراجات 190 ارب روپے سے تجاوز کر چکے ہیں
آلودگی کے عالمی اشاریے میں بھی کراچی کی صورتحال انتہائی خراب ہے شہر کا آلودگی اشاریہ 89.5 میں سے 100 بتایا گیا ہے اس پیمانے میں ہوا کا معیار، پینے کے پانی کی دستیابی، کچرے کی تلفی، صفائی، پانی کی آلودگی، شور، روشنی، سبز مقامات اور مجموعی ماحول جیسے عوامل شامل ہوتے ہیں
2016 میں سندھ حکومت نے کراچی میں کچرا اٹھانے اور سڑکوں کی صفائی کی ذمہ داری بلدیاتی اداروں سے لے کر غیر ملکی کمپنیوں کو ٹھیکوں کے ذریعے منتقل کی تھی معاہدوں کے تحت گھروں سے کچرا اٹھانا، سڑکوں اور گلیوں کی صفائی، کچرے کو منتقل کرنے والے مراکز تک پہنچانا، لینڈ فل سائٹس پر منتقلی، صفائی کے عملے اور مشینری کی فراہمی اور گاڑیوں کی نگرانی سمیت متعدد ذمہ داریاں شامل تھیں
معاہدوں میں ناقص کارکردگی پر جرمانے اور گاڑیوں کی جی پی ایس کے ذریعے نگرانی کا نظام بھی رکھا گیا تھا، جبکہ شکایات کو 8 گھنٹے کے اندر حل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا لیکن عملی صورتحال میں شہر کے متعدد علاقوں میں گھروں سے کچرا اٹھانے کا نظام اب بھی غیر مؤثر ہے، خالی پلاٹ کچرے کے ڈھیروں میں تبدیل ہوچکے ہیں اور سڑکوں، نالوں اور کھلی جگہوں پر کچرا جمع ہوتا رہتا ہے
رپورٹ کے مطابق حکومت نے 2017 کے بعد سے ٹھیکیداروں کی کارکردگی جانچنے کے لیے آزاد تھرڈ پارٹی تصدیقی ادارہ بھی مقرر نہیں کیا، جس کے باعث کارکردگی کی آزادانہ جانچ کا نظام مؤثر طور پر غیر فعال رہا آڈیٹر جنرل کی 2018 سے 2025 تک کی رپورٹس میں بھی سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ سے متعلق اربوں روپے کے نقصانات، جرمانے وصول نہ کیے جانے، عملے کی کمی اور اضافی ادائیگیوں جیسے معاملات کی نشاندہی کی گئی ہے
ایک قومی سطح کے گھریلو سروے کے مطابق کراچی کے 65 فیصد شہریوں نے کچرا اٹھانے کی سہولت پر عدم اطمینان کا اظہار کیا، جبکہ 22 فیصد نے بتایا کہ ان کے علاقوں میں یہ سہولت سرے سے موجود ہی نہیں یوں 87 فیصد گھرانے یا تو کچرا اٹھانے کے نظام سے غیر مطمئن تھے یا انہیں یہ سہولت دستیاب نہیں تھی
اس کے باوجود 2025-26 میں کچرا اٹھانے والے ٹھیکیداروں کی سالانہ ادائیگی 28.3 ارب روپے سے بڑھا کر 40.3 ارب روپے کردی گئی، یعنی تقریباً 42 فیصد اضافہ ہوا
اعداد و شمار یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ جب کراچی کی صفائی پر مسلسل اربوں روپے خرچ کیے جارہے ہیں تو پھر شہر میں کچرے کے ڈھیر کیوں برقرار ہیں دستیاب شواہد کے مطابق مسئلہ صرف فنڈز کی کمی کا نہیں بلکہ نگرانی، معاہدوں پر عمل درآمد، جرمانوں کی وصولی اور اداروں کے درمیان جواب دہی کے نظام سے بھی جڑا ہوا ہے





