امریکی تجارتی جنگ پر کینیڈا کا جوابی وار، ڈیوڈ ایبی نے کہا مہربانی کو کمزوری نہ سمجھا جائے
کینیڈا اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی تجارتی کشیدگی کے دوران برٹش کولمبیا کے پریمیئر ڈیوڈ ایبی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تجارتی پالیسی کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ کینیڈا دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا ان کا کہنا تھا کہ امریکا کی جانب سے غیر منصفانہ محصولات کے جواب میں کینیڈا کو اپنے کارکنوں، کاروباروں اور معیشت کے تحفظ کے لیے جوابی اقدامات جاری رکھنے چاہییں
کینیڈا کے نئے جوابی محصولات 8 ستمبر سے نافذ ہوگئے ہیں اور ان کا مقصد امریکی محصولات کے مقابلے میں کینیڈین صنعتوں اور کاروباروں کو تحفظ فراہم کرنا ہے وفاقی حکومت نے امریکا سے آنے والی متعدد اشیا پر جوابی محصولات عائد کیے ہیں، جبکہ برٹش کولمبیا نے اپنی سطح پر بھی امریکی مصنوعات کے خلاف اضافی اقدامات کیے ہیں
ڈیوڈ ایبی نے کہا کہ برٹش کولمبیا امریکی شراب کی سرکاری دکانوں میں فروخت پر عائد پابندی برقرار رکھے گا۔ صوبائی حکومت نے پہلے ہی امریکی ریاستوں سے آنے والی متعدد شراب کی مصنوعات کو سرکاری دکانوں کی شیلف سے ہٹا دیا تھا اور امریکی مصنوعات کے بجائے کینیڈین مصنوعات کی خریداری کو ترجیح دینے کی پالیسی اختیار کی تھی
ایبی نے موجودہ صورتحال کو صرف تجارتی تنازع نہیں بلکہ کینیڈا کی خودمختاری اور قومی مفاد کا معاملہ بھی قرار دیا۔ انہوں نے امریکا کی جانب سے کینیڈا کو اپنے ساتھ ضم کرنے کی دھمکیوں اور مسلسل سخت بیانات کے تناظر میں کہا کہ برٹش کولمبیا کینیڈا کا حصہ ہے اور اسے کسی دوسرے ملک کی ریاست بننے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا
اسی پیغام کو نمایاں کرنے کے لیے برٹش کولمبیا نے امریکا سے ملنے والی سرحدی گزرگاہوں پر نئے خیر مقدمی بورڈ لگانے کا اعلان کیا ہے ان میں ایک بورڈ پر یہ پیغام درج ہے کہ برٹش کولمبیا مضبوط اور اپنے تشخص پر فخر کرنے والا کینیڈا کا صوبہ ہے اور کبھی امریکا کی 51ویں ریاست نہیں بنے گا
ایبی نے اپنے بیان میں 11 ستمبر 2001 کے حملوں کے بعد کینیڈا کی جانب سے امریکی شہریوں کے ساتھ کیے گئے برتاؤ کا حوالہ بھی دیا ان کے مطابق اس وقت ہزاروں امریکی مسافر مختلف وجوہات کی وجہ سے کینیڈا میں رک گئے تھے اور کینیڈین شہریوں نے ان کے لیے اپنے گھروں اور برادریوں کے دروازے کھول دیے تھے ان کا کہنا تھا کہ کینیڈا کی مہربانی اور انسانی ہمدردی اس کی طاقت ہے، اسے کمزوری نہیں سمجھنا چاہیے
تجارتی جنگ کا اثر دونوں ملکوں کی معیشتوں پر پڑنے کا خدشہ بھی بڑھ گیا ہے۔ ڈیوڈ ایبی نے خبردار کیا ہے کہ محصولات کے نتیجے میں دونوں جانب کاروبار متاثر ہوسکتے ہیں اور بعض شعبوں میں روزگار کے مواقع کم ہوسکتے ہیں انہوں نے کینیڈین شہریوں پر زور دیا کہ جہاں ممکن ہو مقامی مصنوعات اور خدمات خریدیں تاکہ ملکی کاروبار کو سہارا دیا جاسکے
برٹش کولمبیا کی معیشت کے لیے امریکا خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ صوبے کی متعدد صنعتیں امریکی منڈی سے گہرا تعلق رکھتی ہیں لکڑی، معدنیات، توانائی، زراعت اور دیگر شعبوں میں دونوں ملکوں کے درمیان طویل عرصے سے تجارت جاری ہے۔ امریکی محصولات میں اضافے سے برٹش کولمبیا کی برآمدی صنعتوں پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے
خاص طور پر لکڑی کی صنعت پہلے ہی امریکی محصولات سے شدید متاثر ہوئی ہے۔ برٹش کولمبیا سے امریکا جانے والی لکڑی پر مختلف اضافی محصولات کے نتیجے میں بعض کمپنیوں نے اپنی بقا کے بارے میں خدشات ظاہر کیے ہیں صوبائی حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر تجارتی رکاوٹیں طویل عرصے تک برقرار رہیں تو جنگلات سے وابستہ کمیونٹیز میں روزگار اور کاروبار متاثر ہوسکتے ہیں
ڈیوڈ ایبی نے اس سے پہلے یہ تجویز بھی دی تھی کہ کینیڈا امریکی محصولات کے جواب میں مزید سخت اقدامات پر غور کرے۔ ان میں امریکا سے آنے والے بعض اہم تجارتی سامان کے راستوں کو محدود کرنا اور امریکا سے آنے والی کوئلے کی ترسیل کے حوالے سے اقدامات شامل ہیں ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکا کینیڈین کارکنوں اور کاروباروں کو نقصان پہنچانے کے لیے تجارتی طاقت استعمال کررہا ہے تو کینیڈا کے پاس بھی جواب دینے کے لیے مختلف راستے موجود ہونے چاہییں
برٹش کولمبیا کی حکومت نے اس سے قبل امریکی تجارتی دباؤ کے مقابلے کے لیے کئی اقدامات کا اعلان کیا تھا صوبائی حکومت نے سرکاری خریداری میں کینیڈین کمپنیوں کو ترجیح دینے، امریکی مصنوعات پر انحصار کم کرنے اور نئی عالمی منڈیوں میں برٹش کولمبیا کی مصنوعات کے لیے مواقع تلاش کرنے کا منصوبہ بنایا تھا
حکومت کے مطابق امریکا کے ساتھ تجارتی انحصار کم کرنے کے لیے ایشیا، یورپ اور دیگر عالمی منڈیوں میں برآمدات بڑھانا بھی ضروری ہے تاہم یہ تبدیلی فوری طور پر ممکن نہیں کیونکہ امریکا اور کینیڈا کے درمیان سرحد کے آرپار ہر روز اربوں ڈالر کی اشیا اور خدمات کی تجارت ہوتی ہے اور دونوں ملکوں کی صنعتیں کئی دہائیوں سے ایک دوسرے کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں
اس صورتحال میں کینیڈا کے سامنے ایک مشکل توازن بھی موجود ہے ایک طرف حکومت کو امریکی تجارتی دباؤ کا جواب دینا ہے، دوسری طرف ایسے اقدامات سے اپنے ہی کاروباروں اور صارفین کو اضافی مہنگائی اور قیمتوں کے بوجھ سے بچانا ہے محصولات کا مقصد مخالف ملک پر اقتصادی دباؤ ڈالنا ہوتا ہے، لیکن ان کا کچھ حصہ بالآخر درآمد کنندگان، کاروباروں اور صارفین تک بھی پہنچ سکتا ہے
ڈیوڈ ایبی کا مؤقف ہے کہ کینیڈا کو امریکا کے ساتھ تعلقات ختم کرنے کے بجائے ایک زیادہ متوازن اور باوقار تجارتی تعلق قائم کرنا چاہیے ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان تاریخی دوستی اپنی جگہ اہم ہے، لیکن دوستی کا مطلب یہ نہیں کہ کینیڈا اپنے معاشی مفادات یا خودمختاری پر سمجھوتا کرے
موجودہ کشیدگی اب صرف محصولات تک محدود نہیں رہی بلکہ دونوں ممالک کے درمیان سیاسی تعلقات، قومی خودمختاری، صنعت، روزگار اور مستقبل کی تجارتی حکمت عملی بھی اس تنازع کا حصہ بن چکی ہے۔ کینیڈا کی وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتیں اب امریکی منڈی پر انحصار کم کرنے اور نئی منڈیوں تک رسائی بڑھانے کی کوشش کررہی ہیں، جبکہ ڈیوڈ ایبی نے واضح کردیا ہے کہ برٹش کولمبیا بھی اس جوابی حکمت عملی میں پیچھے نہیں ہٹے گا
ایبی کا تازہ پیغام بنیادی طور پر یہی ہے کہ کینیڈا امریکا کے ساتھ تنازع نہیں چاہتا، لیکن اگر اس پر اقتصادی دباؤ ڈالا جاتا ہے تو وہ خاموش بھی نہیں رہے گا۔ ان کے مطابق کینیڈا کی نرمی، انسانی ہمدردی اور تاریخی دوستی کو کمزوری سمجھنا ایک بڑی غلطی ہوگی





