Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

مصنوعی ذہانت نے خوبصورتی کا ایسا جسم بنا دیا جو حقیقت میں موجود ہی نہیں: ماہرین کو خدشہ، نئی ڈیجیٹل دنیا انسان کو اپنے جسم سے متنفر کر رہی ہے

مصنوعی ذہانت نے خوبصورتی کا ایسا جسم بنا دیا جو حقیقت میں موجود ہی نہیں: ماہرین کو خدشہ، نئی ڈیجیٹل دنیا انسان کو اپنے جسم سے متنفر کر رہی ہے

انٹرنیٹ پر خوبصورتی اور فٹنس کا وہ معیار جس کے پیچھے انسان برسوں سے بھاگتا رہا، اب ایک نئی اور کہیں زیادہ طاقتور شکل اختیار کر رہا ہے،فرق صرف اتنا ہے کہ جس جسم کو دیکھ کر لوگ اب خود کو کمتر سمجھنے لگے ہیں، ممکن ہے وہ جسم حقیقت میں کسی انسان کا ہو ہی نہیں
امریکی خبر رساں ادارے ایکسیوس کی تازہ رپورٹ کے مطابق مصنوعی ذہانت سے بنائے گئے ایسے مجازی فٹنس اور خوبصورتی کے کردار تیزی سے سوشل میڈیا پر پھیل رہے ہیں جن کے جسم غیر معمولی حد تک پتلے، متناسب اور ’’کامل‘‘ دکھائی دیتے ہیں،بعض مصنوعی کردار خود کو صحت، فٹنس یا خوبصورتی کے ماہر کے طور پر پیش کرتے ہیں اور مصنوعات بھی فروخت کرتے ہیں، جبکہ بعض جسمانی تبدیلیوں اور وزن کم کرنے کے مشورے دیتے ہیں
نفسیاتی ماہرین کے مطابق اصل خطرہ یہ ہے کہ انسانی دماغ یہ جاننے کے باوجود کہ تصویر مصنوعی ہے، اس کے اثر سے مکمل طور پر محفوظ نہیں رہتا
سانتا کلارا یونیورسٹی کی سماجی ادراک اور تقابل کی تجربہ گاہ سے وابستہ ماہر کیٹی برچ مین کے مطابق جب کوئی انتہائی خوبصورت یا انتہائی پتلا مجازی کردار لوگوں کے سامنے مسلسل پیش کیا جاتا ہے تو وہ آہستہ آہستہ جسمانی خوبصورتی کا نیا معیار بن سکتا ہے،پھر دوسرے مصنوعی کردار بھی اسی معیار کے مطابق بنائے جاتے ہیں اور یوں ایک ایسا چکر شروع ہوجاتا ہے جس میں حقیقی انسانی جسم مسلسل ’’کم تر‘‘ دکھائی دینے لگتا ہے
یہ مسئلہ نیا نہیں،2000 کی دہائی کے آغاز میں فیشن میگزینوں اور مشہور شخصیات کی غیر حقیقی تصاویر پر یہی بحث ہوئی تھی کہ حد سے زیادہ تراشے ہوئے جسم نوجوانوں میں اپنے جسم کے بارے میں عدم اطمینان پیدا کرتے ہیں،لیکن مصنوعی ذہانت نے اس مسئلے کو ایک نئی سطح پر پہنچا دیا ہے
پہلے ایک رسالے کو کسی ماڈل کی تصویر کو تبدیل کرنے کے لیے فوٹو ایڈیٹر، وقت اور پیسہ درکار ہوتا تھا،اب ایک مصنوعی ذہانت کا نظام چند لمحوں میں ایسا جسم تخلیق کرسکتا ہے جو انسانی جسم کی عام حیاتیاتی حدود سے بھی آگے نکل جائے
اور یہاں ایک انتہائی اہم نفسیاتی فرق پیدا ہوتا ہے
پہلے انسان کسی خوبصورت انسان سے اپنا موازنہ کرتا تھا، اب وہ ایک ایسے جسم سے موازنہ کر رہا ہے جو کسی انسان کے جسم کی نمائندگی ہی نہیں کرتا
ایکسیوس نے متعدد سوشل میڈیا پوسٹس کا جائزہ لیا جن میں مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ جسمانی تبدیلیاں اور فٹنس کردار نظر آئے،بعض مواد میں مصنوعی ہونے کے واضح اشارے موجود تھے جبکہ بعض میں یہ بات آسانی سے معلوم نہیں ہوتی کہ تصویر حقیقی ہے یا مصنوعی
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہی اب اصل مسئلہ ہے،اگر صارف یہ نہ جان سکے کہ جس جسم کو وہ دیکھ رہا ہے وہ حقیقی ہے یا الگورتھم کا بنایا ہوا، تو وہ اس معیار کو اپنے لیے قابل حصول سمجھ سکتا ہے
اس کے بعد جسمانی عدم اطمینان پیدا ہوسکتا ہے
کوئی شخص خود کو بہت موٹا سمجھ سکتا ہے، کوئی اپنے عضلات کو ناکافی تصور کرسکتا ہے، کوئی اپنے چہرے کو غیر خوبصورت سمجھ سکتا ہے اور کوئی اپنی عمر یا جسمانی ساخت کو ایک ایسی ڈیجیٹل تصویر سے ملانے کی کوشش کرسکتا ہے جو حقیقت میں کبھی موجود ہی نہیں تھی
یہ اثر خاص طور پر نوجوانوں کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے کیونکہ ان کے لیے جسمانی شناخت ابھی تشکیل پا رہی ہوتی ہے
لیکن مصنوعی ذہانت کا یہ اثر صرف نوجوان خواتین تک محدود نہیں،پہلے جسمانی خوبصورتی کی بحث میں خواتین پر دباؤ زیادہ نمایاں سمجھا جاتا تھا، مگر اب مردوں کے لیے بھی انتہائی عضلاتی، کم چربی والے اور غیر معمولی طور پر تراشے ہوئے جسموں کو مثالی بنانے والی ڈیجیٹل تصاویر تیزی سے پھیل رہی ہیں
اس کے ساتھ وزن کم کرنے والی نئی ادویات اور سوشل میڈیا کے ’’ویلنس‘‘ کلچر نے بھی جسمانی معیار کو تبدیل کیا ہے،ایکسیوس کے مطابق مصنوعی ذہانت، وزن کم کرنے والی ادویات اور ٹک ٹاک جیسے پلیٹ فارم ایک ایسے ماحول کو تقویت دے رہے ہیں جس میں انتہائی دبلا جسم دوبارہ خوبصورتی اور صحت کی علامت کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے
لیکن سائنس دانوں کے لیے سب سے دلچسپ سوال یہ ہے کہ انسان جانتے ہوئے بھی مصنوعی جسم سے متاثر کیوں ہوتا ہے؟
اس کا تعلق انسانی نفسیات کے ایک بنیادی اصول سے ہے،سماجی تقابل
انسان عام طور پر اپنی قدر اور حیثیت کا اندازہ دوسروں سے موازنہ کرکے لگاتا ہے،اگر اسے بار بار اپنے سے زیادہ خوبصورت، زیادہ کامیاب یا زیادہ صحت مند نظر آنے والے لوگ دکھائی دیں تو وہ اپنے بارے میں منفی تصور پیدا کرسکتا ہے
مصنوعی ذہانت اس عمل کو ختم نہیں کرتی بلکہ ممکنہ طور پر اسے مزید تیز کرتی ہے، کیونکہ اب الگورتھم ایسے جسم بنا سکتا ہے جو حقیقت میں بہت کم یا تقریباً کسی انسان میں موجود ہی نہیں
اس کا مطلب یہ ہے کہ آنے والے برسوں میں جسمانی خوبصورتی کا سب سے بڑا مقابلہ شاید انسان بمقابلہ انسان نہیں ہوگا، بلکہ انسان بمقابلہ مصنوعی ذہانت کے تخلیق کردہ مثالی جسم ہوگا
اسی دوران انسانی رویے کے حوالے سے ایک اور اہم تحقیق بھی سامنے آئی ہے،سائنسی جریدے ٹرانسلیشنل سائیکائٹری میں شائع ہونے والی نئی تحقیق میں سائنس دانوں نے سماجی طور پر کٹ جانے، جینیاتی رجحانات اور خون میں موجود حیاتیاتی پروٹینز کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا ہے،تحقیق کے مطابق سماجی تنہائی یا دوسروں سے گہرا تعلق نہ ہونے کا تجربہ خودکشی کے خیالات کے خطرے کے ساتھ جڑا ہوا دکھائی دیتا ہے، جبکہ جینیاتی اور حیاتیاتی عوامل بھی اس خطرے کو متاثر کرسکتے ہیں
یہ تحقیق اس تصور کو مزید پیچیدہ بناتی ہے کہ تنہائی صرف ’’اداس ہونے‘‘ کا نام نہیں،انسانی دماغ اور جسم سماجی تعلقات سے گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں اور سماجی رابطے میں طویل کمی جسمانی اور ذہنی صحت دونوں پر اثر ڈال سکتی ہے
فرانس کے اخبار لے موندے نے بھی اسی ہفتے تنہائی کو ایک بڑھتے ہوئے عالمی صحت کے بحران کے طور پر اجاگر کیا ہے،رپورٹ میں عالمی اور قومی مطالعات کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ تنہائی کا تعلق ڈپریشن، ادراکی صلاحیت میں کمی، دل کی بیماریوں اور قبل از وقت موت کے زیادہ خطرے سے ہے
یوں ستمبر 2026 کی تازہ سائنسی تصویر میں انسانی رویے کے دو بظاہر مختلف مگر گہرے طور پر جڑے ہوئے مسئلے سامنے آ رہے ہیں
ایک طرف انسان دوسروں سے جڑنے کی خواہش رکھتا ہے، دوسری طرف مصنوعی دنیا اسے اپنے ہی جسم سے دور کر رہی ہے
سوشل میڈیا پر ایک مصنوعی کردار لاکھوں لوگوں کی توجہ حاصل کرسکتا ہے،وہ نہ بوڑھا ہوتا ہے، نہ تھکتا ہے، نہ اس کا وزن بڑھتا ہے اور نہ اسے حقیقی انسانی جسم کی حدود کا سامنا ہوتا ہے،اگر ایسے کردار مستقبل کے سوشل میڈیا کے بڑے ستارے بن گئے تو خوبصورتی، صحت اور جسم کے بارے میں انسانی تصور بھی ان کے مطابق ڈھل سکتا ہے
یہی وجہ ہے کہ ماہرین اب صرف یہ سوال نہیں پوچھ رہے کہ مصنوعی ذہانت انسان کے کام کتنے لے گی؟
ایک نیا سوال بھی سامنے آ رہا ہے
کیا مصنوعی ذہانت انسان کو یہ بتانا شروع کر دے گی کہ اسے کیسا دکھائی دینا چاہیے؟
اگر جواب ہاں میں ہے تو مسئلہ صرف ٹیکنالوجی کا نہیں ہوگا،یہ انسانی نفسیات، خود اعتمادی، جسمانی شناخت اور معاشرے میں خوبصورتی کے پورے تصور کا مسئلہ بن جائے گا
اور شاید اس نئی دنیا کا سب سے بڑا تضاد یہی ہوگا کہ انسان ایسی مشینیں بنا رہا ہے جو حقیقی انسان سے زیادہ خوبصورت دکھائی دیتی ہیں، جبکہ اسی دوران حقیقی انسان اپنی شکل و صورت کو ان غیر حقیقی جسموں کے مقابلے میں ناپنا شروع کر رہا ہے

قومی خبریں سے مزید