خانہ جنگی سے پہلے بچوں کی فوج چاہیے‘‘: ایلون مسک آخر کس تباہی سے خوفزدہ ہیں؟
ایلون مسک کی سابق گرل فرینڈ اور ان کے ایک بچے کی والدہ ایشلے سینٹ کلیئر نے ایک نئی دستاویزی فلم میں دعویٰ کیا ہے کہ مسک نے انہیں ایک موقع پر کہا تھا کہ ’’خانہ جنگی سے پہلے بچوں کی ایک فوج چاہیے‘‘یہ جملہ وینس فلم فیسٹیول میں پیش کی جانے والی تقریباً 4 گھنٹے کی دستاویزی فلم ’’مسک‘‘ میں سامنے آیا ہے اور اس نے ایک بنیادی سوال کو پھر زندہ کر دیا ہے،آخر ایلون مسک کے ذہن میں وہ کون سا بحران تھا جس کے آنے سے پہلے وہ اتنی بڑی تعداد میں بچے چاہتے تھے؟
اس سوال کا کوئی سادہ جواب نہیں ہے، کیونکہ مسک نے عوامی سطح پر کبھی یہ نہیں کہا کہ امریکہ میں کسی مخصوص تاریخ کو خانہ جنگی شروع ہونے والی ہے،نہ انہوں نے کسی امریکی شہر یا ریاست کی نشاندہی کی، نہ کوئی تاریخ دی،لیکن گزشتہ تقریباً 15 برس کے ان کے بیانات کو دیکھا جائے تو ایک خاص ذہنی نقشہ ضرور سامنے آتا ہے، جس میں آبادی کا سکڑاؤ، معاشرتی تقسیم، مغربی تہذیب کا زوال، سیاسی تشدد اور انسانی تہذیب کے ممکنہ انہدام ایک دوسرے سے جڑے ہوئے دکھائی دیتے ہیں
مسک کے اس فکری سفر کا شاید سب سے مستقل موضوع آبادی میں کمی ہے،2021 میں انہوں نے کم ہوتی شرح پیدائش کو تہذیب کے لیے ’’سب سے بڑے خطرات‘‘ میں شمار کیا تھا اور اسی سال کہا تھا کہ اگر لوگوں نے زیادہ بچے پیدا نہ کیے تو تہذیب ’’تباہ‘‘ ہو سکتی ہے
2022 میں ان کا مؤقف مزید سخت ہوگیا،انہوں نے ایکس، جو اس وقت ٹوئٹر تھا، پر لکھا کہ کم شرح پیدائش کے باعث آبادی کا انہدام عالمی حدت سے بھی زیادہ بڑا تہذیبی خطرہ ہے،یہ محض ایک وقتی تبصرہ نہیں تھا،وہ اس مؤقف کو بار بار دہراتے رہے اور اسے انسانی تہذیب کے مستقبل سے جوڑتے رہے
مسک کے نزدیک مسئلہ صرف یہ نہیں کہ دنیا میں لوگ کم ہوجائیں گے، بلکہ یہ بھی ہے کہ کم آبادی کے نتیجے میں معیشت، فوج، ٹیکنالوجی، تحقیق اور تہذیبی تسلسل متاثر ہوسکتا ہے،اسی لیے وہ جاپان، اٹلی اور دوسرے کم شرح پیدائش والے معاشروں کے بارے میں بارہا خبردار کرتے رہے ہیں کہ اگر آبادی کا رجحان نہ بدلا تو ان معاشروں کی موجودہ شکل برقرار نہیں رہے گی
یہی سوچ ان کی اپنی نجی زندگی میں بھی غیر معمولی طور پر نمایاں ہوئی،مسک کے 14 بچوں کی تصدیق ہوچکی ہے اور گزشتہ برسوں میں وہ کھلے عام بڑے خاندان کی حمایت کرتے رہے ہیں،ان کے بیانات میں بچے پیدا کرنا صرف ذاتی خواہش نہیں بلکہ انسانی تہذیب کے مستقبل سے متعلق ایک نظریے کے طور پر سامنے آتا ہے، پھر اسی کے ساتھ مسک کی سابق گرل فرینڈ کا یہ کہنا ایلن مسک ایکس پر اپنے تبصروں خیالات کے ذریعے جو انتشار پیدا کررہے ہیں، ان سے بھی معاشرے میں بڑے انتشار کا خدشہ موجود ہے
یہاں ایشلے سینٹ کلیئر کا تازہ دعویٰ خاص اہمیت اختیار کرتا ہے،اگر ان کا بیان درست ہے تو ’’خانہ جنگی سے پہلے بچوں کی فوج‘‘ کا جملہ مسک کی اسی آبادی سے متعلق سوچ کو ایک کہیں زیادہ ڈرامائی اور خطرناک سیاسی پس منظر میں رکھتا ہے،لیکن یہ واضح رہنا چاہیے کہ یہ نجی گفتگو کے بارے میں سینٹ کلیئر کا دعویٰ ہے، مسک کی طرف سے عوامی طور پر تسلیم شدہ بیان نہیں،فلم ساز الیکس گبنی کے مطابق مسک نے دستاویزی فلم میں شرکت نہیں کی
مسک کے خیالات میں دوسرا اہم عنصر معاشرتی اور سیاسی تقسیم ہے،2024 میں برطانیہ میں ساؤتھ پورٹ واقعے کے بعد ہونے والے فسادات کے دوران، جب امیگریشن اور نسلی کشیدگی کے حوالے سے برطانیہ میں شدید ہنگامہ برپا تھا، مسک نے ایکس پر ایک پوسٹ کے جواب میں لکھا: ’’خانہ جنگی ناگزیر ہے”برطانوی حکومت نے اس بیان کی مذمت کی اور اسے صورتحال کو مزید بھڑکانے والا قرار دیا
یہ واقعہ اس لیے اہم ہے کہ یہ پہلی مرتبہ نہیں تھا جب مسک نے مغربی معاشروں کی شدید تقسیم کو انتہائی تباہ کن الفاظ میں بیان کیا،برطانیہ کے فسادات میں غلط معلومات، امیگریشن مخالف جذبات اور مسلم مخالف اشتعال انگیزی نے سڑکوں پر تشدد کو جنم دیا تھا اور مسک کی جانب سے اس بحران پر انتہائی سخت سیاسی تبصرے نے ان کے کردار پر عالمی بحث چھیڑ دی
مسک کی فکری دنیا میں تیسرا بڑا موضوع مغربی تہذیب کا نظریاتی بحران ہے،گزشتہ برسوں میں انہوں نے ’’ووک مائنڈ وائرس‘‘ کی اصطلاح استعمال کرتے ہوئے بائیں بازو کی بعض سماجی اور ثقافتی تحریکوں کو مغربی معاشرے کے لیے خطرہ قرار دیا،ان کا کہنا رہا ہے کہ یہ نظریات روایتی خاندانی ڈھانچے، مذہبی و ثقافتی اقدار اور معاشرتی تسلسل کو کمزور کر رہے ہیں
یہی وجہ ہے کہ 2022 میں ٹوئٹر خریدنے کے بعد مسک نے آزادی اظہار کو اپنی سیاسی شناخت کا مرکزی حصہ بنا لیا،ایکس ان کے لیے صرف ایک کاروباری پلیٹ فارم نہیں رہا بلکہ ایک ایسی جگہ بن گیا جہاں وہ امیگریشن، آبادی، مغربی ثقافت، دائیں بازو کی سیاست اور حکومتوں کی پالیسیوں پر براہ راست اثرانداز ہونے کی کوشش کرتے رہے۔ نئی دستاویزی فلم بھی اسی تبدیلی کو مسک کے کاروباری شخص سے ایک عالمی سیاسی اثر رکھنے والی شخصیت بننے کے سفر کے طور پر پیش کرتی ہے
مسک کی سوچ کا ایک اور پہلو انسانی تہذیب کے مکمل خاتمے کا خوف ہے،یہی سوچ انہیں مریخ پر انسانی آبادی قائم کرنے کے منصوبے کی طرف لے جاتی ہے،ان کے نزدیک انسان اگر صرف زمین تک محدود رہا تو کسی بڑی جنگ، وبا یا عالمی تباہی کی صورت میں پوری انسانی تہذیب بیک وقت خطرے میں پڑ سکتی ہے،مریخ پر انسانی بستیاں قائم کرنا اسی لیے ان کے نزدیک صرف خلائی تحقیق نہیں بلکہ انسانی بقا کی حکمت عملی بھی ہے
یوں دیکھا جائے تو ’’خانہ جنگی‘‘ کا لفظ ان کے فکری سفر میں بالکل اجنبی نہیں ہے،البتہ یہاں ایک انتہائی اہم فرق ہے،مسک نے امریکہ کے بارے میں یہ عوامی پیش گوئی نہیں کی کہ خانہ جنگی ضرور ہونے والی ہے،ان کا سب سے واضح عوامی ’’خانہ جنگی‘‘ والا بیان 2024 میں برطانیہ کے فسادات کے بارے میں تھا،اس لیے سینٹ کلیئر کے موجودہ دعوے کو امریکہ میں کسی یقینی مستقبل کی پیش گوئی قرار دینا شواہد سے آگے بڑھنا ہوگا
مسک کے خیالات کو ایک تسلسل میں رکھا جائے تو تصویر کچھ یوں بنتی ہے،پہلے کم ہوتی شرح پیدائش سے تہذیب کے مستقبل کا خوف، پھر خاندانی اور آبادیاتی زوال کے خلاف زیادہ بچے پیدا کرنے پر زور، اس کے ساتھ مغربی معاشروں میں نظریاتی تقسیم کے بارے میں شدید تشویش، پھر سیاسی اور ثقافتی کشیدگی کو انتہائی زبان میں بیان کرنا، اور آخرکار انسانی تہذیب کو زمین سے باہر لے جانے کی کوشش
اسی پس منظر میں ایشلے سینٹ کلیئر کا یہ کہنا کہ مسک نے ’’خانہ جنگی سے پہلے بچوں کی ایک فوج‘‘ کی بات کی تھی، محض ایک عجیب نجی جملہ نہیں رہتا بلکہ مسک کے کئی برسوں پر پھیلے ہوئے خیالات کے ساتھ جڑ جاتا ہے،لیکن اس کے باوجود اصل سوال کا جواب ابھی نامعلوم ہے،اگر مسک واقعی اس وقت خانہ جنگی کی بات کر رہے تھے تو وہ کس ملک، کس بحران اور کس ممکنہ صورتحال کی طرف اشارہ کر رہے تھے؟
فی الحال دستیاب ریکارڈ اس سوال کا قطعی جواب نہیں دیتا،یہی وہ خلا ہے جسے الیکس گبنی کی نئی فلم نے ایک بڑے سوال میں تبدیل کردیا ہے،کیا مسک واقعی ایک ایسے مستقبل کی تیاری کر رہے ہیں جس میں انہیں تہذیبی انہدام کا خطرہ دکھائی دیتا ہے، یا وہ آبادی، ٹیکنالوجی اور سیاسی انتشار کے بارے میں اپنے انتہائی خیالات کو ایک ایسے نظریے میں جوڑ رہے ہیں جسے وہ انسانی بقا کی جنگ سمجھتے ہیں؟
فلم ’’مسک‘‘ نے اس سوال کو دوبارہ عالمی سطح پر کھڑا کردیا ہے، لیکن اس کا حتمی جواب اب بھی مسک ہی کے پاس ہے،انہوں نے فلم میں براہ راست شرکت نہیں کی اور ان کے ترجمان یا خود مسک کی طرف سے سینٹ کلیئر کے اس مخصوص ’’خانہ جنگی سے پہلے بچوں کی فوج‘‘ والے دعوے کی تصدیق سامنے نہیں آئی





