ایران کا امریکی اڈے اور آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں پر حملہ، خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی
ایران اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ میں ایک بار پھر شدید کشیدگی پیدا ہوگئی ہے۔ ایران کے پاسداران انقلاب نے اردن میں امریکی فوج کے زیر استعمال ایک اڈے پر بیلسٹک میزائل داغنے اور آبنائے ہرمز کے قریب 10 بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ کارروائی امریکہ کی جانب سے 5 ایرانی تیل بردار جہازوں کو تباہ کیے جانے کے بعد کی گئی
امریکی فوج کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب نے گزشتہ 2 روز کے دوران ایک امریکی بحری جنگی جہاز کو 2 مرتبہ بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی امریکہ نے اس کے جواب میں 5 ایرانی تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنایا اور امریکی حکام کے مطابق حملے سے پہلے جہازوں کے عملے کو نکلنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ کسی امریکی فوجی کے زخمی یا ہلاک ہونے کی اطلاع نہیں دی گئی
ایران نے اس کارروائی کے جواب میں اردن کے علاقے الازرق کے قریب امریکی فوج کے استعمال ہونے والے اڈے پر میزائل حملہ کیا۔ اردن کی فوج کے مطابق 20 ایرانی بیلسٹک میزائل داغے گئے جن میں سے 18 کو فضائی دفاعی نظام نے روک لیا، جبکہ 2 میزائل غیر آباد علاقوں میں گرے حکام کے مطابق حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا
ایران کے پاسداران انقلاب نے اس کے علاوہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والے 10 بحری جہازوں کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جن میں 2 امریکی جہاز اور 8 تیل بردار جہاز شامل ہیں ایران نے آبنائے ہرمز کے بعض حصوں کو خطرناک اور ممنوع قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ امریکی ہدایات پر وہاں سے گزرنے والے جہازوں کے خلاف مزید کارروائی کی جا سکتی ہے
آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین تیل کی ترسیلی راستوں میں شامل ہے اور اس کے ذریعے عالمی منڈی تک بڑی مقدار میں تیل پہنچتا ہے۔ موجودہ کشیدگی کے باعث یہاں بحری آمدورفت پہلے ہی معمول سے کم ہوگئی ہے۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق منگل کو صرف 6 تجارتی بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے جبکہ گزشتہ 10 دن کی اوسط 12 جہاز روزانہ تھی
کشیدگی میں اضافے کا براہ راست اثر عالمی تیل کی قیمتوں پر بھی پڑا ہے برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 100 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئی ہے، کیونکہ عالمی منڈی کو خدشہ ہے کہ آبنائے ہرمز میں مسلسل حملوں سے تیل کی ترسیل مزید متاثر ہوسکتی ہے
صورتحال اس وقت مزید پیچیدہ ہوگئی ہے کیونکہ خطے میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروہ بھی سعودی عرب میں توانائی کے مراکز اور دیگر اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ اس طرح امریکی اور ایرانی حملوں کے ساتھ ساتھ خلیج اور بحیرہ احمر میں بھی تجارتی اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو خطرات بڑھ گئے ہیں





