Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ایم کیو ایم پاکستان کا مؤقف، نئے صوبے اور انتظامی یونٹ پاکستان کی ضرورت ہیں

ایم کیو ایم پاکستان کا مؤقف، نئے صوبے اور انتظامی یونٹ پاکستان کی ضرورت ہیں

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان نے ایک بار پھر ملک میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹ بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بڑھتی ہوئی آبادی اور موجودہ مسائل کے باعث انتظامی نظام میں تبدیلی اب ضروری ہو چکی ہے پارٹی کے سربراہ خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ پاکستان کو تقسیم نہیں کیا جا سکتا، صرف صوبوں اور انتظامی یونٹوں کی تعداد میں اضافہ کیا جا سکتا ہے
حیدرآباد میں دفاعی دن کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ آئین میں صوبوں کی حدود تبدیل کرنے کا طریقہ موجود ہے اور آئین اس کی اجازت بھی دیتا ہے ان کے مطابق آبادی بڑھنے کے ساتھ نئے اضلاع، ڈویژن اور صوبے بنانا انتظامی ضرورت بن چکا ہے
انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان صرف اپنے لیے الگ صوبے کا مطالبہ نہیں کر رہی بلکہ پورے ملک میں آبادی اور انتظامی ضرورت کے مطابق نئے انتظامی یونٹ بنانے کی بات کر رہی ہے ان کا کہنا تھا کہ جہاں نئے صوبے بنیں گے وہاں ان کے علاقے میں بھی نیا انتظامی یونٹ بننا چاہیے
خالد مقبول صدیقی نے 18ویں آئینی ترمیم پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس ترمیم کے ذریعے اختیارات نچلی سطح تک منتقل ہونے چاہییں تھے، لیکن عملی طور پر اختیارات عوام تک پہنچنے کے بجائے طاقتور جاگیردار طبقے کے پاس ہی جمع ہو گئے
انہوں نے کہا کہ عام آدمی کو حقیقی آزادی اور اپنے مسائل کے حل کے لیے فیصلہ سازی میں براہ راست اختیار ملنا چاہیے ان کے مطابق حکومت اور عوام کے درمیان فاصلہ کم کرنا ضروری ہے
ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ملک نے بیرونی سطح پر اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں، لیکن اندرونی طور پر حکمرانی کے مسائل اب بھی موجود ہیں ان کے مطابق کئی علاقوں میں بنیادی سہولتوں کی کمی ہے، بچے نالوں میں گر کر جان سے جا رہے ہیں، بعض لوگوں کو بیماریوں سے بچاؤ کی ضروری ویکسین تک دستیاب نہیں اور عوام بنیادی مسائل کا شکار ہیں
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ وفاق کی جانب سے صوبوں کو اس سال اخراجات کے لیے 8,884 ارب روپے دیے گئے، اس کے باوجود بڑی تعداد میں لوگ بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں ان کے مطابق یہ صورتحال خراب حکمرانی کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے اور انتظامی نظام میں بنیادی تبدیلی کے بغیر مسائل حل نہیں ہوں گے
فاروق ستار نے بھی نئے انتظامی نظام اور اصلاحات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اب ایسا نظام ہونا چاہیے جس میں فیصلہ سازی عوام کے قریب ہو اور حکومت اور عام شہری کے درمیان فاصلے کم کیے جائیں
ایم کیو ایم پاکستان کا کہنا ہے کہ نئے صوبوں اور مضبوط مقامی حکومتوں کا مقصد ملک کو تقسیم کرنا نہیں بلکہ انتظامی معاملات بہتر بنانا، وسائل کی منصفانہ تقسیم یقینی بنانا اور عوام کو اپنے علاقوں کے فیصلوں میں زیادہ اختیار دینا ہے

قومی خبریں سے مزید