مسلم اسکولوں کے سربراہ کا بڑا مطالبہ: برطانیہ کے بچوں کو 9/11 کی حقیقت بتائیں، سازشی نظریات سے بچائیں
لندن : برطانیہ میں مسلم اسکولوں کے ایک اہم تعلیمی رہنما نے 9/11 کے دہشت گرد حملوں کے بارے میں ایک غیر معمولی اور دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسکولوں کو اس واقعے پر خاموشی اختیار کرنے کے بجائے بچوں کو اس کی حقیقت، انسانی تباہی اور اس کے بعد پیدا ہونے والے حالات کے بارے میں کھل کر تعلیم دینی چاہیے، کیونکہ اگر اساتذہ اس موضوع سے گریز کریں گے تو نوجوان انٹرنیٹ پر گردش کرنے والے سازشی نظریات اور غلط معلومات کو سچ سمجھ سکتے ہیں
ایسوسی ایشن آف مسلم اسکولز کے چیئرمین اشفاق چودھری نے برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف سے گفتگو میں کہا کہ 2001 کے حملوں کو ’’ایمانداری، حساسیت اور تاریخی حقائق کی سخت پابندی‘‘ کے ساتھ پڑھایا جانا چاہیے،ان کے مطابق نوجوانوں کو خاص طور پر یہ سمجھانا ضروری ہے کہ 9/11 صرف ایک سیاسی یا عسکری واقعہ نہیں تھا بلکہ اس کے پیچھے حقیقی انسانی جانوں کا نقصان تھا
انہوں نے کہا کہ انٹرنیٹ پر 9/11 سے متعلق بے شمار سازشی نظریات موجود ہیں اور نوجوان اپنی معلومات کا بڑا حصہ آن لائن ذرائع سے حاصل کرتے ہیں،اس لیے اسکولوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کو ان نظریات کو پرکھنے اور غلط معلومات کو مسترد کرنے کی صلاحیت دیں
اشفاق چودھری نے خاص طور پر اس بات پر زور دیا کہ تدریس کا مرکزی محور حملوں کا انسانی نقصان ہونا چاہیے،ان کے مطابق بچوں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ متاثر ہونے والے عام شہری تھے، خاندان تھے اور بچے تھے، اور کسی بھی سیاسی یا مذہبی بحث میں ان انسانی جانوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب برطانیہ 11 ستمبر 2001 کے حملوں کی 25ویں برسی کی تیاری کر رہا ہے،ان حملوں میں 2,997 افراد ہلاک ہوئے تھے، جب القاعدہ سے وابستہ دہشت گردوں نے مسافر طیاروں کو ہائی جیک کرکے نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر اور پینٹاگون سے ٹکرا دیا تھا
اس معاملے کا ایک اور حساس پہلو یہ ہے کہ 9/11 کے بارے میں سازشی نظریات برطانیہ میں بھی خاصی تعداد میں لوگوں تک پہنچ چکے ہیں،کنگز کالج لندن اور بی بی سی کے لیے 2022 میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق تقریباً 24 فیصد برطانوی شہریوں نے کہا کہ انہیں یہ بات ’’یقینی یا ممکنہ طور پر درست‘‘ لگتی ہے کہ امریکی حکومت کے بعض اہلکاروں نے 9/11 میں مدد کی یا جان بوجھ کر حملے نہ روکے تاکہ امریکہ مشرق وسطیٰ میں جنگ شروع کر سکے
اشفاق چودھری کا مؤقف اسی لیے اہم ہے کہ وہ ایک ایسی تعلیمی تنظیم کی قیادت کرتے ہیں جو برطانیہ کے تقریباً 180 مسلم اسکولوں کی نمائندگی کرتی ہے،انہوں نے کہا کہ ان کا ادارہ ’’سنس 9/11‘‘ نامی تنظیم کے ساتھ مزید تعاون کرے گا، جو اسکولوں کے لیے حملوں اور ان کے بعد کے حالات پر تدریسی مواد فراہم کرتی ہے،یہ مواد یونیورسٹی کالج لندن کے ادارہ تعلیم کے تعاون سے تیار کیا گیا ہے
یہ بحث صرف 9/11 کی تاریخ تک محدود نہیں،امریکہ اور برطانیہ دونوں میں نئی نسل کے لیے یہ سوال اہم ہوتا جا رہا ہے کہ دہشت گردی کی تاریخ کس طرح پڑھائی جائے، اور اس دوران مسلمانوں کو اجتماعی طور پر موردِ الزام ٹھہرانے سے کیسے بچا جائے،امریکہ میں حالیہ تعلیمی بحثوں میں بھی 9/11 کی تدریس، اسلاموفوبیا اور مسلم طلبہ کے ساتھ امتیازی سلوک کے سوالات دوبارہ نمایاں ہوئے ہیں
دلچسپ بات یہ ہے کہ برطانوی مسلم تعلیمی رہنما کی یہ اپیل ایک ایسے وقت سامنے آئی ہے جب خود 9/11 کے بارے میں نئی نسل میں معلومات کم ہوتی جا رہی ہیں اور سوشل میڈیا پر سنجیدہ تاریخی واقعات بھی مختصر ویڈیوز، میمز اور سازشی دعووں میں تبدیل ہو رہے ہیں،گارڈین نے بھی 9/11 کی 25ویں برسی سے پہلے ایک نئی دستاویزی فلم کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ حملوں کے بعد پیدا ہونے والی سازشی سوچ نے آج کے وسیع تر غلط معلومات کے ماحول کو تشکیل دینے میں کردار ادا کیا
یوں برطانیہ میں ایک مسلم تعلیمی رہنما کا پیغام خاصا واضح ہے،9/11 جیسے حساس واقعہ پر خاموشی مسلمانوں کو نہیں بچاتی، بلکہ خلا کو سازشی نظریات اور غلط معلومات کے لیے چھوڑ دیتی ہے
اور شاید اسی لیے اس بیان کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ ایک مسلم اسکولوں کے سربراہ نے خود مطالبہ کیا ہے کہ نئی نسل کو 9/11 کی حقیقت سے دور رکھنے کے بجائے اسے تاریخ، شواہد اور انسانی نقصان کے تناظر میں کھل کر پڑھایا جائے





