مغرب کے دروازے بند، پاکستان کی سب سے بڑی ایکسپورٹ بھی بڑے پیمانے پر شٹ ڈاؤن ہونے کے خطرے سے دوچار
جرمنی میں انتہائی دائیں بازو کی آلٹرنیٹو فار جرمنی، یعنی اے ایف ڈی، نے سیکسنی انہالٹ کے انتخابات میں تقریباً 44.5 فیصد ووٹ حاصل کرکے تاریخی کامیابی حاصل کی ہے، جبکہ چانسلر فریڈرک میرز کی کرسچن ڈیموکریٹک یونین صرف 18.5 فیصد پر رہی۔ اے ایف ڈی کی سیاست میں امیگریشن کے خلاف سخت مؤقف بنیادی حیثیت رکھتا ہے، یہ نتیجہ صرف جرمنی کی سیاست میں تبدیلی نہیں بلکہ پورے مغرب میں امیگریشن کے خلاف بڑھتے ہوئے عوامی دباؤ کی ایک نمایاں علامت ہے
یورپ میں جرمنی، آسٹریا، ڈنمارک، یونان اور نیدرلینڈز مسترد شدہ پناہ گزینوں کو یورپی یونین سے باہر منتقل کرنے کے لیے ’’واپسی مراکز‘‘ کے منصوبے پر آگے بڑھ رہے ہیں، جبکہ روانڈا اور یوگنڈا جیسے ممالک ممکنہ میزبانوں کے طور پر زیرِ غور ہیں، برطانیہ میں ریفارم پارٹی کی بلدیاتی کامیابی مستقبل کے برطانیہ کی امیگریشن پالیسی کا پتہ ابھی سے دے رہی ہے جہاں پہلے ہی اس پر کام شروع ہوچکا ہے ، اسپین میں مراکو سے سرحد ٹوٹنے کے بعد کے احتجاج جس میں لاکھوں شہریوں نے غیر قانونی تارکین وطن کی واپسی کے لیے حکومت پر دباؤ بڑھایا ہے ، اسی طرح امریکہ جو حق پیدائش شہریت کے خلاف بھی عدالتی تنازعات میں الجھا ہوا ہے ، نے بھی بعض ممالک کے شہریوں کے لیے ویزا بانڈ متعارف کرائے ہیں، جن میں 5,000، 10,000 اور 15,000 ڈالر تک کی ضمانت شامل ہے،کینیڈا نے بھی عارضی رہائشیوں کی تعداد کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے
مغرب امیگریشن مکمل طور پر ختم نہیں کر رہا، بلکہ اسے زیادہ انتخابی بنا رہا ہے،سرمایہ رکھنے والے، انتہائی ہنرمند اور مطلوب پیشوں کے لوگوں کے لیے راستے باقی رہیں گے، جہاں تک عرب ممالک کا تعلق ہے متحدہ عرب امارات سے پاکستان کے تعلقات کم سے کم ہوتے نظر آرہے ہیں ، اور سعودی عرب بھی سستی لیبر کے حصول کے لیے صرف پاکستان پر انحصار کرنے کی بجائے بھارت اور بنگلہ دیش کو زیادہ اہمیت دیتا نظر آتا ہے ، اسی کے ساتھ انسانی ایکسپورٹ کرنے والے ممالک میں بھارت اور بنگلہ دیش کے نوجوان پاکستانی نوجوان کے مقابلے میں زیادہ اسکلڈ تصور کیے جاتے ہیں جبکہ چینی اس معاملے میں سب سے آگے ہیں، یوں پاکستان سمیت غریب ملکوں جنکےکے عام نوجوان زیادہ تعلیم یافتہ نہیں کے لیے دروازہ تیزی سے تنگ ہو رہا ہے
یہ پاکستان کے لیے معمولی خبر نہیں
پاکستان کی سب سے بڑی ’’برآمدات‘‘ میں سب سے بڑی برآمد انسانی افرادی قوت ہے، گزشتہ مالی سال پاکستانیوں نے ملک کو 41.6 ارب ڈالر کی ترسیلات زر بھیجیں،یہ رقم لاکھوں خاندانوں کو سہارا دیتی ہے اور پاکستان کے لیے انتہائی اہم زرمبادلہ فراہم کرتی ہے
اب سوال یہ ہے کہ اگر دنیا پاکستانی مزدور، طالب علم، انجینئر، آئی ٹی ماہر، نرس اور دوسرے ہنرمندوں کے لیے اپنے دروازے محدود کرتی گئی تو پاکستان اس خلا کو کیسے پُر کرے گا؟
یہ سوال اس لیے زیادہ خطرناک ہے کہ پاکستان کی تقریباً 64 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر ہے،ملک ہر سال بڑی تعداد میں نوجوان پیدا کر رہا ہے، مگر اتنی صنعت، روزگار اور معاشی مواقع پیدا نہیں کر پا رہا کہ یہ پوری افرادی قوت اندر جذب ہو سکے
یہی پاکستان کا اصل تضاد ہے،پاکستان نے اپنی نوجوان آبادی کو بیرون ملک بھیجنے کو معاشی حکمت عملی بنا لیا، لیکن اندر ایسی معیشت نہیں بنائی جہاں وہی نوجوان اپنی صلاحیت کے مطابق زندگی گزار سکیں
اب اگر بیرون ملک جانے کے راستے بھی بند ہوتے گئے تو دباؤ واپس پاکستان میں آئے گا
اور اس بار معاملہ صرف ڈالر کا نہیں ہوگا،لاکھوں خاندانوں کی آمدنی، نوجوانوں کی امیدیں اور معاشرتی استحکام اس سے متاثر ہوں گے،غربت، بے روزگاری، بدامنی اور سیاسی بے چینی پہلے ہی موجود ہیں،ان کے اوپر بیرون ملک روزگار کے مواقع سکڑنے کا دباؤ ایک خطرناک امتزاج پیدا کر سکتا ہے
یہ تو نہیں کہا جاسکتا کہ اس سے لازماً خانہ جنگی ہوگی، لیکن یہ ضرور ہے کہ نوجوانوں کے لیے باہر بھی راستہ بند ہو اور اندر بھی مستقبل نہ ہو تو ریاست کے لیے اس بڑھتے ہوئے دباؤ کو سنبھالنا انتہائی مشکل ہو سکتا ہے
اس لیے جرمنی کا آج کا انتخاب پاکستان کے لیے ایک دور کی خبر نہیں۔ یہ آنے والی دنیا کا اشارہ ہے
دنیا اگر اپنے دروازے بند کر رہی ہے تو پاکستان کو اب اپنے ملک کے اندر دروازے کھولنے ہوں گے
ورنہ جس انسانی برآمد سے پاکستان برسوں سے اربوں ڈالر حاصل کرتا رہا ہے، وہی اس کی کمزوری بن سکتی ہے، اور ایسے میں ریاست حکومت سیاسی پارٹیاں میڈیا سب کے سب انتظامی یونٹس اور نئے صوبوں کی سیاست میں ہمہ تن مصروف ہیں ، کسی کی نظر و ذہن اس جانب نہ متوجہ ہے نہ اس پر غور کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے اگر عام پاکستانی کا مغرب میں داخل ہونا ہی مشکل ہوگیا تو سائنس ٹیکنالوجی سے آج کی دنیا کے علوم کے ساتھ ڈالر یورو پونڈ کہاں سے آیے گے کہ ملکی صنعت تو آگے بڑھنے کی بجائے بتدریج زوال پزیر ہے اور اسکی بحالی کے دور دور امکانات بھی دکھائ نہیں دیتے





