جرمنی میں انتہائی دائیں بازو کی اے ایف ڈی کی تاریخی فتح، سیکسنی انہالٹ میں 44.5 فیصد ووٹ
جرمنی کی انتہائی دائیں بازو کی جماعت آلٹرنیٹو فار جرمنی (اے ایف ڈی) نے مشرقی ریاست سیکسنی انہالٹ کے انتخابات میں تاریخی کامیابی حاصل کر لی ہے،ابتدائی نتائج کے مطابق اے ایف ڈی نے 44.5 فیصد ووٹ حاصل کیے، جو 2021 کے انتخابات میں ملنے والے 20.8 فیصد ووٹوں سے دوگنے سے بھی زیادہ ہیں،یہ جماعت کا کسی بھی جرمن ریاستی انتخاب میں اب تک کا سب سے بڑا نتیجہ ہے
چانسلر فریڈرک میرز کی جماعت کرسچن ڈیموکریٹک یونین صرف 18.5 فیصد ووٹ حاصل کر سکی،یہ 2021 کے 37.1 فیصد کے مقابلے میں تقریباً نصف ہے اور ریاست میں جماعت کے لیے تاریخی گراوٹ سمجھی جا رہی ہے
ابتدائی تخمینوں میں بائیں بازو کی جماعت دی لنکے تقریباً 9.4 سے 9.5 فیصد، گرین پارٹی تقریباً 8.9 فیصد اور سوشل ڈیموکریٹس تقریباً 8.2 فیصد پر ہیں
تاہم اے ایف ڈی کی بڑی انتخابی کامیابی کے باوجود ایک اہم سوال ابھی باقی ہے: کیا وہ ریاستی حکومت بنا سکے گی؟ ریاستی پارلیمان کی کل 83 نشستوں میں سادہ اکثریت کے لیے 42 نشستیں درکار ہیں، اور ابتدائی تخمینوں کے مطابق اے ایف ڈی 44.5 فیصد ووٹ کے باوجود ممکنہ طور پر اس حد سے ذرا نیچے رہ سکتی ہے،معاملہ اس بات پر بھی منحصر ہے کہ چھوٹی جماعت بی ایس ڈبلیو 5 فیصد کی پارلیمانی حد عبور کرتی ہے یا نہیں
اگر اے ایف ڈی کو اکثریت نہ مل سکی تو حکومت سازی انتہائی پیچیدہ ہو سکتی ہے، کیونکہ مرکزی دھارے کی جماعتیں اب تک اے ایف ڈی کے ساتھ اتحاد کرنے سے انکار کرتی رہی ہیں،جرمنی میں نازیوں کی شکست کے بعد یہ طے کرلیا گیا تھا ، ملک کی لبرل پارٹیاں کسی بھی حالت میں کسی دائیں گروپ کی پارٹی سے کوئ اتحاد نہیں کریں گی ، اس صورت میں انتخابی فتح کے باوجود اے ایف ڈی کے لیے حکومت بنانا آسان نہیں ہوگا
یہ نتیجہ فریڈرک میرز کی وفاقی حکومت کے لیے بھی ایک بڑا سیاسی دھچکا ہے،سیکسنی انہالٹ کا انتخاب اس لحاظ سے خاص اہمیت رکھتا تھا کہ اے ایف ڈی کو روکنے اور مشرقی جرمنی میں اپنی سیاسی گرفت برقرار رکھنے کی میرز کی حکمت عملی کا یہ ایک اہم امتحان تھا
اگر اے ایف ڈی واقعی ریاستی حکومت بنانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ دوسری جنگ عظیم کے بعد جرمنی کی تاریخ میں ایک غیر معمولی تبدیلی ہوگی، کیونکہ پہلی مرتبہ انتہائی دائیں بازو کی یہ جماعت کسی جرمن ریاست کی حکومت کی قیادت کر سکتی ہے۔





