Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

پانچ یورپی ممالک نے غیر قانونی تارکینِ وطن کو یورپی یونین سے باہر منتقل کرنے کے منصوبے پر پیش رفت کر لی

پانچ یورپی ممالک نے غیر قانونی تارکینِ وطن کو یورپی یونین سے باہر منتقل کرنے کے منصوبے پر پیش رفت کر لی

ڈنمارک، جرمنی، آسٹریا، یونان اور نیدرلینڈز نے اس سال کے اندر کسی غیر یورپی ملک کے ساتھ معاہدہ کرنے کی کوشش تیز کر دی ہے، جس کے تحت ایسے تارکینِ وطن کے لیے یورپی یونین سے باہر ’’واپسی مراکز‘‘ قائم کیے جائیں گے جنہیں یورپ میں رہنے کا قانونی حق حاصل نہیں اور جنہیں اپنے آبائی ممالک واپس بھیجنا ممکن نہیں،یہ فیصلہ 4 ستمبر کو کوپن ہیگن میں پانچوں ممالک کے وزرائے داخلہ اور ہجرت کے وزرا کے اجلاس میں کیا گیا
منصوبے کے تحت ان مراکز کو کسی ایسے غیر یورپی ملک میں قائم کیا جائے گا جو یورپی ممالک کے ساتھ شراکت داری پر آمادہ ہوں ،تاہم اجلاس کے بعد کسی میزبان ملک کا نام ظاہر نہیں کیا گیا،یورپی ذرائع کے مطابق روانڈا اور یوگنڈا ممکنہ مقامات میں زیر غور ہیں، لیکن پانچوں حکومتوں نے اس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی
ڈنمارک کے وزیر برائے ہجرت مورٹن بودسکو نے کہا کہ پانچوں ممالک سال کے اختتام تک کسی شراکت دار ملک کے ساتھ مشترکہ سمجھوتے تک پہنچنے کی توقع رکھتے ہیں،ڈنمارک کا ہدف ہے کہ 2027 کے دوران پہلے تارکینِ وطن کو ایسے مرکز میں منتقل کیا جا سکے،جرمنی کے وزیر داخلہ الیگزینڈر ڈوبرنٹ نے بھی تصدیق کی کہ پانچوں ممالک رواں سال کسی تیسرے ملک کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں
یہ منصوبہ صرف تارکینِ وطن کو واپس بھیجنے کا روایتی طریقہ نہیں بلکہ یورپی ہجرت پالیسی میں ایک اہم تبدیلی کی علامت ہے،خیال یہ ہے کہ جن افراد کی پناہ کی درخواستیں مسترد ہو چکی ہوں لیکن انہیں فوری طور پر ان کے آبائی ممالک واپس نہ بھیجا جا سکے، انہیں یورپی یونین میں رکھنے کے بجائے بیرونِ یورپ قائم مراکز میں منتقل کیا جائے،یورپی حکومتوں کا مؤقف ہے کہ اس سے غیر قانونی ہجرت اور انسانی اسمگلنگ کی حوصلہ شکنی ہوگی
اس منصوبے کو یورپی پارلیمان کی جون میں منظور کی گئی نئی ہجرت پالیسی سے بھی تقویت ملی ہے، جس میں رکن ممالک کو غیر یورپی ممالک کے ساتھ معاہدوں کے ذریعے بیرونِ یورپ واپسی مراکز قائم کرنے کی گنجائش دی گئی ہے،یورپی یونین کے متعدد ممالک پہلے ہی اس تصور میں دلچسپی ظاہر کر چکے ہیں، جبکہ اٹلی البانیہ میں اس نوعیت کے مراکز قائم کر چکا ہے
لیکن انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس منصوبے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے،کونسل آف یورپ نے جولائی میں ایسے مراکز کو انسانی حقوق کے لیے ’’نمایاں خطرات‘‘ قرار دیا تھا،ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی خبردار کیا ہے کہ یورپ سے باہر قائم یہ مراکز انسانی حقوق کے تحفظ کے حوالے سے ایسے مقامات بن سکتے ہیں جہاں تارکینِ وطن قانونی نگرانی سے دور ہو جائیں
اقوام متحدہ کے ادارۂ برائے پناہ گزین نے بھی کہا ہے کہ اسے ابھی اس منصوبے کی تفصیلات باضابطہ طور پر فراہم نہیں کی گئیں، اس لیے وہ اس پر حتمی تبصرہ نہیں کر سکتا،پانچوں ممالک کا کہنا ہے کہ منصوبہ یورپی اور بین الاقوامی قانون کے مطابق اور متعلقہ عالمی اداروں کے تعاون سے آگے بڑھایا جائے گا
اس منصوبے کی کامیابی کا ایک بڑا سوال یہ بھی ہے کہ آیا غیر یورپی ممالک بڑی تعداد میں ایسے افراد کو قبول کرنے پر تیار ہوں گے یا نہیں،اس سے پہلے برطانیہ کا روانڈا منصوبہ اور ڈنمارک کی اسی نوعیت کی کوشش عملی مشکلات کا شکار ہو چکی ہے،اٹلی کا البانیہ منصوبہ بھی متوقع تعداد کے مقابلے میں بہت محدود رہا ہے اور اس پر بھاری اخراجات کے باعث سوالات اٹھائے گئے ہیں
پانچوں ممالک اب ستمبر کے آخر میں میونخ میں دوبارہ ملاقات کریں گے تاکہ ممکنہ شراکت دار ملک کے ساتھ معاہدے کی طرف مزید پیش رفت کی جا سکے،اگر یہ منصوبہ عملی شکل اختیار کرتا ہے تو یہ یورپ کی کئی دہائیوں پر محیط پناہ گزین اور ہجرت کی پالیسی میں ایک نمایاں تبدیلی ہوگی، کیونکہ پہلی مرتبہ متعدد بڑے یورپی ممالک بیک وقت اس اصول کو آگے بڑھا رہے ہیں کہ یورپ میں رہنے کا قانونی حق نہ رکھنے والے افراد کی واپسی کا انتظام یورپی سرحدوں سے باہر کیا جائے، یاد رہے امریکہ اپنے یہاں مقیم غیر قانونی مقیم کو نکالنے کے لیے پہلے ہی افریقی ممالک سمیت متعدد ممالک سے ایسے معاہدے کرچکا ہے اور ایسے غیر قانونی تارکین وطن کو امریکہ نے ایسے میزبان ممالک میں بھیجنا بھی شروع کردیا ہے

قومی خبریں سے مزید