Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

اسپرٹ ایئرلائنز جس کے خاتمے سے چند لمحے پہلے تک کسی کو معلوم نہ تھا، وہ اچانک اڑان بھرنا بند کردے گی ، اب اس کے جہاز، روٹس اور اربوں ڈالر کے اثاثوں کا کیا ہوگا؟

اسپرٹ ایئرلائنز جس کے خاتمے سے چند لمحے پہلے تک کسی کو معلوم نہ تھا، وہ اچانک اڑان بھرنا بند کردے گی ، اب اس کے جہاز، روٹس اور اربوں ڈالر کے اثاثوں کا کیا ہوگا؟

واشنگٹن: امریکہ کی کم قیمت فضائی سفر کے لیے مشہور اسپرٹ ایئرلائنز اب آسمانوں میں موجود نہیں، لیکن اس کا خاتمہ ابھی مکمل نہیں ہوا،2 مئی کو ایئرلائن نے اچانک اعلان کیا کہ وہ اپنا فضائی آپریشن مستقل طور پر بند کر رہی ہے، اور اس کے بعد ایک چھوٹی سی ٹیم اس کمپنی کے باقی ماندہ اثاثوں، جائیداد، طیاروں، پروازوں کے اوقات اور دیگر حقوق کو ایک ایک کر کے فروخت اور منتقل کرنے میں مصروف ہے،بلومبرگ کے مطابق یہ عمل اس لحاظ سے غیر معمولی ہے کہ ایک بڑی ایئرلائن کو کسی دوسری کمپنی میں ضم کیے بغیر مکمل طور پر ختم کرنا کئی دہائیوں بعد پیش آنے والا واقعہ ہے
اسپرٹ کے خاتمے کے بعد کمپنی کی نمائندگی اب خود ایئرلائن کے بجائے اس کے قانونی اثاثوں کی جانب سے کی جا رہی ہے،نیویارک کی وفاقی دیوالیہ عدالت میں اس کے وکیل نے جولائی میں جج کو بتایا کہ کمپنی کے جہازوں، جائیداد، ہوائی اڈوں پر پروازوں کے اوقات اور حتیٰ کہ ٹو ٹریکٹرز تک کی نیلامی کا عمل جاری ہے،فلوریڈا میں واقع اسپرٹ کے سابق مرکزی دفتر میں اب صرف ایک محدود عملہ باقی رہ گیا ہے جو کمپنی کے معاملات سمیٹ رہا ہے
بلومبرگ کے مطابق اسپرٹ کا مکمل خاتمہ امریکہ کی تجارتی ہوا بازی میں ایک انوکھا اور نایاب واقعہ ہے،آخری مرتبہ اس حجم کی کوئی بڑی امریکی ایئرلائن مکمل طور پر ختم ہوئی تھی تو وہ پین ایم تھی، جو تقریباً 35 سال پہلے بند ہوئی،عام طور پر بڑی ایئرلائنز مالی بحران میں دوسری کمپنیوں میں ضم ہو جاتی ہیں، جیسا کہ ٹی ڈبلیو اے امریکن ایئرلائنز کا حصہ بنی اور ایئر ٹران ساؤتھ ویسٹ میں شامل ہو گئی،اسپرٹ کے معاملے میں ایسا نہیں ہوا
اسپرٹ کے چیف ایگزیکٹو ڈیو ڈیوس نے بلومبرگ کو بتایا کہ کمپنی کئی ماہ سے اس امکان کی تیاری کر رہی تھی کہ اگر اسے بچانے کی کوششیں ناکام ہوئیں تو اسے مکمل طور پر بند کرنا پڑے گا،جنوری 2026 میں کمپنی نے ایک خصوصی ٹیم قائم کی تھی جس میں آپریشنز، انسانی وسائل، ہوائی اڈوں، ٹیکنالوجی، عملے کی منصوبہ بندی اور قانونی شعبوں کے اعلیٰ عہدیدار شامل تھے،اس ٹیم نے اس منصوبے کو اندرونی طور پر پلان چارلی کا نام دیا تھا
اسپرٹ کی مالی مشکلات اچانک پیدا نہیں ہوئی تھیں،کمپنی کا آخری منافع بخش سال 2019 تھا،اس کے بعد بڑی امریکی ایئرلائنز نے کم قیمت سفر کی حکمت عملی کو اپنایا، جس سے اسپرٹ کے کاروباری ماڈل پر دباؤ بڑھا،کمپنی نے ایندھن کی بچت کے لیے نئے طیارے خریدے، مگر ان میں نصب پراٹ اینڈ وٹنی انجنوں میں خرابی سامنے آنے کے بعد متعدد طیارے طویل عرصے تک پروازوں سے باہر رہے،اس کے نتیجے میں پہلے سے قرضوں میں دبی کمپنی کی مالی مشکلات مزید بڑھ گئیں
پھر فروری میں ایران کی جنگ شروع ہونے کے بعد جیٹ ایندھن کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہوا،ڈیوس کے مطابق صرف ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے اسپرٹ کی نقدی کی پوزیشن پر تقریباً 50 ملین ڈالر ماہانہ کا اضافی بوجھ ڈال دیا،اس وقت کمپنی پہلے ہی دیوالیہ پن کی کارروائی کے دوسرے مرحلے سے گزر رہی تھی اور اسے دوبارہ منافع بخش بنانے کی کوشش جاری تھی
آخری امید امریکی حکومت کی جانب سے مجوزہ 500 ملین ڈالر کے ہنگامی مالیاتی پیکیج سے وابستہ تھی، لیکن 30 اپریل کو اسپرٹ کے بانڈ ہولڈرز نے اس منصوبے کی شرائط مسترد کر دیں،اسی روز امریکی وزیر تجارت ہاورڈ لٹنک نے ڈیوس کو بتایا کہ حکومت کی جانب سے اس سے بہتر پیشکش نہیں آئے گی،ڈیوس کے مطابق اسی لمحے انہیں اندازہ ہو گیا کہ کمپنی کو بچانا ممکن نہیں رہا
اس کے بعد پلان چارلی پر عمل شروع ہوا، مگر اس انداز میں کہ آخری لمحے تک کمپنی کی معمول کی سرگرمیاں جاری رہیں،انتظامیہ جانتی تھی کہ اگر اسپرٹ نے پہلے ہی اعلان کر دیا کہ وہ بند ہونے والی ہے تو طیاروں کے مالکان اپنے جہاز واپس مانگیں گے، سپلائرز خدمات روک سکتے ہیں، ملازمین بددل ہو سکتے ہیں اور پوری کمپنی کا آپریشن چند گھنٹوں میں افراتفری کا شکار ہو سکتا ہے
اسی لیے کمپنی نے ایسا وقت منتخب کیا جب زیادہ سے زیادہ طیارے زمین پر ہوں،1 مئی کو دوپہر کے بعد طویل پروازیں منسوخ ہونا شروع ہوئیں، جن میں لاطینی امریکہ اور کیریبین جانے والی پروازیں بھی شامل تھیں،رات کی کئی پروازیں روانگی سے چند گھنٹے پہلے منسوخ کر دی گئیں،مقصد یہ تھا کہ جب کمپنی آخری مرتبہ اپنے دروازے بند کرے تو کوئی اسپرٹ طیارہ فضا میں نہ ہو اور بیرون ملک موجود جہازوں کو واپس لانے کا مسئلہ پیدا نہ ہو
2 مئی کی صبح جب اعلان ہوا تو اسپرٹ کی پروازیں ہمیشہ کے لیے رک چکی تھیں،کمپنی کے تقریباً 17,000 براہِ راست اور بالواسطہ ملازمین میں سے بڑی تعداد فوری طور پر بے روزگار ہو گئی،مسافروں اور عملے کے ان افراد کو بھی اپنے گھروں تک پہنچنے کے لیے دوسرے ذرائع تلاش کرنا پڑے جو اس وقت سفر میں تھے
لیکن ایئرلائن کا مر جانا اس کے اثاثوں کے ختم ہونے کے برابر نہیں،اسپرٹ کے زیادہ تر ایئربس اے320 اور اے321 طیارے لیز پر تھے، اس لیے ان کے مالکان کو طیارے واپس کرنے پڑ رہے ہیں،دوسری طرف کمپنی کے ہوائی اڈوں پر حاصل پروازوں کے اوقات، جائیداد، سامان، گاڑیوں اور دیگر معاہداتی حقوق کی الگ الگ قیمت ہے،یہی وجہ ہے کہ اسپرٹ کے خاتمے کے بعد بھی اس کی باقی ماندہ کمپنی کو ختم کرنے میں کئی مراحل درکار ہیں
بلومبرگ کی رپورٹ اس پورے عمل کو ایک ایسے کاروبار کی آخری رسومات کے طور پر پیش کرتی ہے جس نے کئی دہائیوں تک امریکی فضائی سفر کی ایک مخصوص شکل متعارف کرائی،انتہائی کم کرایہ، محدود سہولیات اور اضافی خدمات کے لیے الگ ادائیگی،لیکن وقت کے ساتھ بڑی ایئرلائنز نے بھی کم قیمت مسافروں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے اسی ماڈل کے کئی حصے اختیار کر لیے، جبکہ اسپرٹ کے اپنے مالی مسائل، انجنوں کی خرابی، بھاری قرض اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے اس کے لیے دوبارہ کھڑا ہونا مشکل بنا دیا
اب سوال یہ نہیں کہ اسپرٹ دوبارہ پرواز کرے گی یا نہیں،سوال یہ ہے کہ اس کے پیچھے بچ جانے والی ہر چیز کہاں جائے گی،اس کے طیارے دوسرے آپریٹرز کے پاس، اس کے ہوائی اڈوں کے پرواز اوقات ممکنہ طور پر دوسری ایئرلائنز کے پاس، اس کی جائیداد نئے خریداروں کے پاس اور اس کے باقی اثاثے نیلامیوں کے ذریعے مختلف ہاتھوں میں منتقل ہو رہے ہیں،ایک ایئرلائن جس کا بنیادی کام لوگوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانا تھا، اب خود ایک ایسے اثاثوں کے مجموعے میں تبدیل ہو چکی ہے جسے مختلف حصوں میں تقسیم کر کے فروخت کیا جا رہا ہے، اپسرا کے بیڑے میں کل 131 جہاز، تھے جن میں سے اڑتالیس کمپنی کی ملکیت تھے جبکہ 83 طیارے لیز پر تھے ، سپرٹ کے پاس 16 ممالک میں 89 مقامات پر پروازوں کے رائٹس تھے اور تقریباً 6 ارب ڈالر کے اثاثے، مگر 8.08 ارب ڈالر کے واجبات اور تقریباً 2.09 ارب ڈالر کا منفی خالص اثاثہ تھا

قومی خبریں سے مزید