Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

آئس لینڈ کے عوام نے یورپی یونین میں شمولیت کے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے سے انکار کردیا

آئس لینڈ کے عوام نے یورپی یونین میں شمولیت کے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے سے انکار کردیا

آئس لینڈ کے عوام نے ریفرنڈم میں یورپی یونین میں شمولیت کے لیے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی تجویز مسترد کردی ہے۔ حتمی نتائج کے مطابق 52.8 فیصد ووٹروں نے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے خلاف ووٹ دیا جبکہ 47.2 فیصد نے اس کے حق میں رائے دی
یہ ریفرنڈم براہ راست یورپی یونین میں شمولیت کے بارے میں نہیں تھا بلکہ اس سوال پر تھا کہ آیا آئس لینڈ کو یورپی یونین میں شامل ہونے کے لیے معطل مذاکرات دوبارہ شروع کرنے چاہئیں۔ یہ مذاکرات تقریباً 13 سال سے معطل تھے
ریفرنڈم میں ووٹ ڈالنے کی شرح 82.5 فیصد رہی، جو عوام کی جانب سے اس معاملے میں غیر معمولی دلچسپی کی عکاسی کرتی ہے نتیجے کے بعد حکومت نے عوامی فیصلے کا احترام کرنے کا اعلان کیا ہے
یورپی یونین میں شمولیت کے مخالفین کی سب سے بڑی تشویش آئس لینڈ کی خودمختاری اور ماہی گیری کے شعبے سے متعلق تھی ماہی گیری آئس لینڈ کی معیشت میں انتہائی اہم کردار ادا کرتی ہے اور مخالفین کو خدشہ تھا کہ یورپی یونین کی مشترکہ ماہی گیری پالیسی کے تحت ملک اپنے سمندری وسائل اور مچھلی کے شکار کے کوٹے پر موجودہ اختیار کھو سکتا ہے
مخالفین کا یہ بھی مؤقف تھا کہ آئس لینڈ پہلے ہی یورپی معاشی علاقے کا حصہ ہے، جس کے ذریعے اسے یورپی منڈی تک رسائی حاصل ہے، جبکہ وہ شینگن معاہدے کے ذریعے آزادانہ سفری نظام سے بھی منسلک ہے۔ ان کے مطابق موجودہ تعلقات برقرار رکھتے ہوئے یورپی یونین کی مکمل رکنیت کے بغیر بھی اہم معاشی فوائد حاصل کیے جا رہے ہیں
یورپی یونین میں شمولیت کے حامیوں کا کہنا تھا کہ موجودہ عالمی معاشی اور جغرافیائی سیاسی حالات میں یورپی یونین کے ساتھ مزید قریبی تعلقات آئس لینڈ کو معاشی استحکام اور سیاسی تحفظ فراہم کر سکتے ہیں۔ حامیوں نے مہنگائی، بلند شرح سود اور عالمی تجارتی غیر یقینی صورتحال کے تناظر میں یورپی یونین کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنے کو اہم قرار دیا
آئس لینڈ کی موجودہ حکومت نے بھی مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے حق میں مہم چلائی تھی، تاہم ریفرنڈم میں عوام نے اس تجویز کو معمولی فرق سے مسترد کردیا
نتیجے کے بعد آئس لینڈ کی وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت عوام کے فیصلے کا احترام کرے گی اس فیصلے کے نتیجے میں موجودہ حکومت کے دور میں یورپی یونین میں شمولیت کے مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کا امکان ختم ہوگیا ہے
ریفرنڈم کا نتیجہ یورپی یونین کے لیے بھی ایک دھچکا قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ آئس لینڈ کو یورپی اتحاد میں ممکنہ نئے رکن کے طور پر اہم سمجھا جاتا تھا تاہم آئس لینڈ اور یورپی یونین کے درمیان موجودہ معاشی اور سفری تعلقات برقرار رہیں گے
آئس لینڈ نے 2009 میں یورپی یونین کی رکنیت کے لیے درخواست دی تھی اور مذاکرات 2010 میں شروع ہوئے تھے، لیکن بعد میں سیاسی اختلافات کے باعث یہ عمل روک دیا گیا اب تازہ ریفرنڈم کے نتیجے میں آئس لینڈ نے ایک مرتبہ پھر یورپی یونین کی مکمل رکنیت کی جانب فوری پیش رفت سے گریز کا فیصلہ کیا ہے

قومی خبریں سے مزید