Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

اچکزئی کا پختونوں کے مسائل کے جمہوری اور آئینی حل پر زور

اچکزئی کا پختونوں کے مسائل کے جمہوری اور آئینی حل پر زور

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ ریاست کو پختونوں کی آواز سننی چاہیے اور ان کے آئینی، سیاسی، معاشی اور قومی حقوق کے مسائل کا حل جمہوری اور آئینی طریقے سے تلاش کرنا چاہیے
کوئٹہ میں جنوبی پشتونخوا کے تین روزہ عوامی جرگے کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ کسی بھی ریاست کو طاقت کے ذریعے مستقل طور پر نہیں چلایا جا سکتا اور نہ ہی عوام کے سیاسی شعور، آئینی حقوق اور وسائل کو ہمیشہ جبر کے ذریعے کنٹرول کیا جا سکتا ہے
انہوں نے کہا کہ پختونوں کو اپنے مسائل عالمی فورمز تک لے جانے پر مجبور نہیں کیا جانا چاہیے ان کے مطابق پختون اس وقت سیاسی غیر یقینی، معاشی مشکلات، بدامنی اور سیاسی و معاشی حقوق سے محرومی کے ایک انتہائی مشکل دور سے گزر رہے ہیں
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ عوامی جرگہ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد اور مختلف سیاسی و فکری حلقوں کو ایک نمائندہ فورم فراہم کرتا ہے جہاں اجتماعی مسائل پر مشاورت کی جا سکتی ہے اور ان کے حل کے لیے تجاویز سامنے لائی جا سکتی ہیں
انہوں نے کہا کہ جرگہ پختونوں کی ایک قدیم روایت ہے جس کے ذریعے ماضی میں اجتماعی مسائل کو باہمی مشاورت سے حل کیا جاتا رہا ہے موجودہ حالات میں سیاسی شعور، مشاورت اور اجتماعی ذمہ داری کے اسی جذبے کو دوبارہ زندہ کرنے کی ضرورت ہے
محمود خان اچکزئی نے سیاسی اور معاشی بحران کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات کو کسی قوم کی مستقل قسمت نہیں سمجھا جا سکتا۔ ان کے مطابق یہ حالات انسانوں کے بنائے ہوئے سیاسی، معاشی اور انتظامی نظام کا نتیجہ ہیں، اس لیے سیاسی جدوجہد، بہتر فیصلوں اور اچھی حکمرانی کے ذریعے انہیں تبدیل کیا جا سکتا ہے
انہوں نے پختونوں کو اپنی داخلی کمزوریوں اور خامیوں کا بھی سنجیدگی سے جائزہ لینے کی ضرورت پر زور دیا
ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا قدرتی وسائل، معدنیات اور اہم جغرافیائی حیثیت سے مالا مال ہے، لیکن یہ وسائل کئی مرتبہ خوشحالی کے بجائے مشکلات اور بدامنی کا ذریعہ بن گئے ہیں
محمود خان اچکزئی نے واضح کیا کہ مقامی آبادیوں کی زمین اور وسائل ان کی رضامندی اور آئینی تحفظ کے بغیر کسی دوسرے فرد، ادارے یا کمپنی کو منتقل یا ان پر قبضہ نہیں کیا جا سکتا انہوں نے زمین اور وسائل سے متعلق معاملات میں شفافیت، آئینی تحفظ اور متاثرہ آبادی کی رضامندی کو ضروری قرار دیا
انہوں نے کہا کہ عوامی جرگہ کسی قوم، نسل یا مذہب کے خلاف نہیں بلکہ برابری، باہمی احترام اور پرامن بقائے باہمی کے اصولوں پر قائم ہے ان کا کہنا تھا کہ پختونوں کی سرزمین کو جنگوں، پراکسی تنازعات یا مختلف طاقتوں کے تزویراتی مفادات کے لیے میدان جنگ نہیں بننا چاہیے
محمود خان اچکزئی نے بلوچستان کے پختون اکثریتی علاقوں میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا انہوں نے سرانان میں پولیس تھانے پر بم حملے اور مزدوروں کے قتل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ریاست کی بنیادی ذمہ داری شہریوں کی جان، مال اور بنیادی حقوق کا تحفظ ہے
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکامی جاری رہی تو بدامنی، بداعتمادی اور ریاست سے دوری کا احساس مزید گہرا ہو سکتا ہے
بلوچ اور پختون آبادیوں کے تعلقات پر بات کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے بلوچوں کو اپنا بھائی قرار دیا اور کہا کہ بلوچستان کو برابری، انصاف، باہمی احترام اور شراکت داری کے اصولوں کے تحت چلایا جانا چاہیے
انہوں نے کہا کہ پختون کوئٹہ میں ہزارہ اور دیگر شہری آبادیوں کو بھی ایک منصفانہ سیاسی اور انتظامی نظام کے تحت صوبے میں ان کے جائز حصے کے ساتھ شامل کرنے کے لیے تیار ہیں
افغانستان کے معاملے پر محمود خان اچکزئی نے کہا کہ علاقائی فورمز پر افغانستان کو اب بھی بڑی حد تک صرف سلامتی کے نقطۂ نظر سے دیکھا جاتا ہے جبکہ افغان عوام کی مناسب نمائندگی اور ان کے مسائل کو خاطر خواہ اہمیت نہیں دی جاتی
انہوں نے کہا کہ خطے میں امن و امان کے مسائل کی تمام تر ذمہ داری صرف افغانستان پر ڈالنا درست نہیں کیونکہ موجودہ صورتحال کے پس منظر میں کئی دہائیوں پر محیط جنگیں، بیرونی مداخلتیں اور بڑی و علاقائی طاقتوں کے درمیان پراکسی تنازعات بھی شامل رہے ہیں
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ سرد جنگ کے دوران افغانستان میں مداخلت کرنے والی طاقتوں اور ان کے مقامی و علاقائی اتحادیوں پر وہاں کی تباہی کی تاریخی ذمہ داری عائد ہوتی ہے
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پختونوں کے سیاسی، معاشی، آئینی اور قومی حقوق کا حل طاقت یا جبر کے بجائے جمہوری جدوجہد، آئینی تحفظ، باہمی مشاورت اور سیاسی مذاکرات کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے

قومی خبریں سے مزید