Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

نئے صوبوں کے قیام سے پہلے واضح مقصد اور اختیارات کی منتقلی ضروری قرار

نئے صوبوں کے قیام سے پہلے واضح مقصد اور اختیارات کی منتقلی ضروری قرار

پاکستان میں نئے صوبوں یا نئے انتظامی یونٹس کے قیام کی بحث ایک مرتبہ پھر اہمیت اختیار کر رہی ہے، تاہم ماہرین کے مطابق صرف صوبائی حدود تبدیل کرنا یا نئی انتظامی اکائیاں بنانا عوامی فلاح اور معاشی ترقی کی ضمانت نہیں اصل ضرورت اس بات کا تعین کرنا ہے کہ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کا مقصد کیا ہے اور اس سے حاصل کیا کرنا مقصود ہے
حالیہ تحقیقی مطالعات کے مطابق اختیارات کی منتقلی، خصوصاً صحت اور تعلیم کے شعبوں میں مالی وسائل اور فیصلہ سازی کو نچلی سطح تک پہنچانا، انسانی ترقی اور عوامی فلاح کے نتائج بہتر بنا سکتا ہے تاہم مختلف علاقوں کے تجربات سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ صرف اخراجات کے اختیارات منتقل کرنا کافی نہیں، بلکہ مقامی حکومتوں کو اپنے وسائل پیدا کرنے اور آمدنی حاصل کرنے کی صلاحیت بھی دینی ضروری ہے
پاکستان کے لیے مؤثر نظام میں انتظامی اختیارات کے ساتھ مالی اختیارات کی منتقلی بھی شامل ہونی چاہیے مقامی حکومتوں کو اپنے اخراجات پر اختیار رکھنے کے ساتھ ساتھ آمدنی پیدا کرنے کے مناسب ذرائع بھی حاصل ہونے چاہئیں تاکہ وہ مستقل بنیادوں پر عوامی خدمات فراہم کر سکیں
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ جہاں انتظامی کارکردگی، شفافیت اور ادارہ جاتی صلاحیت کمزور ہو وہاں نئی انتظامی اکائیوں کی تعداد بڑھانے سے ترقی کے بجائے مسائل میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے اس لیے نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کا قیام کسی واضح حکومتی مقصد اور مضبوط ادارہ جاتی منصوبہ بندی کے بغیر نہیں ہونا چاہیے
پاکستان میں اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کی بحث اکثر صوبائی حدود میں تبدیلی یا ڈویژنوں کو نئی انتظامی اکائیوں کا درجہ دینے تک محدود رہی ہے، لیکن بنیادی سوال اب بھی یہی ہے کہ اس عمل کی ضرورت کیوں ہے اور اس سے عوام کو کیا فائدہ پہنچے گا
اگر مقصد صحت، تعلیم اور انسانی ترقی کو بہتر بنانا ہے تو ایسا نظام درکار ہوگا جس میں مقامی سطح پر عوام کی شمولیت، جواب دہی اور فیصلہ سازی کو مضبوط بنایا جائے۔ اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہوگا کہ مقامی بااثر طبقات یا غیر جواب دہ سرکاری اہلکار پورے نظام پر قبضہ نہ کر سکیں
اگر مقصد معاشی ترقی، سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع بڑھانا ہے تو پھر اختیارات کی منتقلی کا ڈھانچہ مختلف نوعیت کا ہو سکتا ہے مشرقی ایشیا کے تجربات سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاشی ترقی کے لیے ریاست، سرمایہ اور مقامی انتظامیہ کے درمیان مؤثر رابطہ، مضبوط سرکاری ادارے اور باصلاحیت انتظامی نظام اہم کردار ادا کرتے ہیں
موجودہ صورتحال میں نئے صوبوں یا نئی انتظامی اکائیوں کے قیام کی خواہش بعض حلقوں میں سیاسی ضرورت سے زیادہ جڑی ہوئی دکھائی دیتی ہے، جبکہ حکمرانی کو بہتر بنانے کے واضح مقصد پر نسبتاً کم توجہ دی جا رہی ہے
نئے صوبوں کی مخالفت بھی مختلف سیاسی اور شناختی بنیادوں پر سامنے آ رہی ہے۔ سندھ میں بعض قوم پرست حلقوں کو خدشہ ہے کہ کراچی کو الگ انتظامی اکائی بنانے سے سندھی شناخت اور وسائل پر اثر پڑ سکتا ہے، جبکہ تحریک انصاف کے رہنماؤں کی جانب سے اس نوعیت کی بڑی تبدیلی کے لیے موجودہ حکومت کے اختیار اور سیاسی جواز پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں
ماضی میں بھی اختیارات کی منتقلی اور انتظامی تبدیلیوں کے منصوبے سیاسی اختلافات اور کمزور جواز کے باعث دیرپا ثابت نہیں ہو سکے اس تجربے سے یہ سبق ملتا ہے کہ اگر کسی بڑے انتظامی فیصلے کو عوامی حمایت اور واضح مقصد کے بغیر نافذ کیا جائے تو ایک مفید تصور بھی سیاسی تنازع کا شکار ہو سکتا ہے
اس لیے ایک ممکنہ راستہ یہ ہو سکتا ہے کہ موجودہ صوبوں کے اندر مقامی حکومتوں کو زیادہ مالی اختیارات دیے جائیں اور انہیں مناسب قانونی یا آئینی تحفظ فراہم کیا جائے۔ ایسا نظام نئی انتظامی اکائیاں بنانے کے مقابلے میں زیادہ قابل عمل اور دیرپا ثابت ہو سکتا ہے، بشرطیکہ مقامی حکومتوں کو حقیقی اختیارات، وسائل اور جواب دہی کے مؤثر نظام کے ساتھ کام کرنے کا موقع دیا جائے

قومی خبریں سے مزید