ٹرمپ کو جتوانے والے عرب امریکی اب ری پبلکنز سے دور، مائیک راجرز کے لیے مشی گن میں خطرے کی گھنٹی
مشی گن کی سینیٹ کی دوڑ نے ری پبلکن پارٹی کے لیے ایک اہم سیاسی حقیقت بے نقاب کردی ہے،جن عرب امریکی ووٹرز نے 2024 کے صدارتی انتخاب میں ڈونلڈ ٹرمپ کو مشی گن جتوانے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا تھا، وہ اب ٹرمپ کے حمایت یافتہ ری پبلکن سینیٹ امیدوار مائیک راجرز سے دور ہوتے دکھائی دے رہے ہیں
2024 کے انتخاب سے صرف 4 دن پہلے ٹرمپ نے ڈیئربورن میں عرب اور مسلم امریکی ووٹروں کو مخاطب کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ ’’مسلم آبادی ٹرمپ کو پسند کررہی ہے،”انتخابی نتائج نے اس دعوے کو تقویت بھی دی،ٹرمپ ڈیئربورن میں تقریباً 42 فیصد ووٹ لے کر کامیاب ہوئے جبکہ کملا ہیرس کو 36 فیصد ووٹ ملے،ڈیئربورن ہائٹس میں بھی ٹرمپ تقریباً 44 فیصد ووٹ کے ساتھ آگے رہے
لیکن 2026 میں سیاسی منظرنامہ نمایاں طور پر بدل چکا ہے،ڈیموکریٹک سینیٹ پرائمری میں عبدالسید کی تاریخی کامیابی میں ڈیئربورن اور ڈیئربورن ہائٹس کے عرب امریکی ووٹ فیصلہ کن ثابت ہوئے،ان دونوں شہروں میں عبدالسید نے حریف ہیلی اسٹیونز پر مجموعی طور پر 16,265 ووٹوں کی برتری حاصل کی، جو ریاست بھر میں ان کی صرف 15,697 ووٹوں کی فتح کے مارجن سے بھی زیادہ تھی
اس کے برعکس ری پبلکن سینیٹ پرائمری میں مائیک راجرز بلا مقابلہ امیدوار تھے اور انہیں ٹرمپ کی حمایت حاصل تھی، لیکن ڈیئربورن میں انہیں تقریباً 3,000 اور ڈیئربورن ہائٹس میں تقریباً 2,000 ووٹ ملے، جبکہ ریاست بھر میں ان کے ووٹ 880,000 سے زیادہ تھے
یہ فرق اس بات کا اشارہ ہے کہ عرب امریکی ووٹرز کی سیاسی طاقت ختم نہیں ہوئی بلکہ اس کا رخ تبدیل ہورہا ہے،ڈیئربورن اور ڈیئربورن ہائٹس اب محض مقامی عرب امریکی مراکز نہیں رہے بلکہ ایسے انتخابی مراکز بن چکے ہیں جو انتہائی معمولی فرق سے ہونے والے ریاستی انتخابات کا نتیجہ بدل سکتے ہیں
نومبر میں راجرز کا مقابلہ عبدالسید سے ہوگا،اگر عرب امریکی ووٹروں کا موجودہ رجحان برقرار رہا تو یہ مقابلہ صرف ری پبلکن اور ڈیموکریٹ امیدواروں کی جنگ نہیں ہوگا بلکہ اس بات کا امتحان بھی ہوگا کہ ٹرمپ 2024 میں جس عرب امریکی سیاسی اتحاد کو اپنے حق میں لانے میں کامیاب ہوئے تھے، کیا وہ اتحاد اب بھی ان کے امیدوار کے ساتھ کھڑا ہے یا غزہ، مشرق وسطیٰ اور دیگر پالیسی اختلافات نے اسے توڑ دیا ہے
مشی گن میں عرب امریکی ووٹر اب محض ایک نسلی یا مذہبی ووٹ بینک نہیں رہے،انتہائی قریبی ریاستی مقابلوں میں وہ فیصلہ کن قوت بن چکے ہیں، اور 2026 کی سینیٹ دوڑ اس طاقت کا اگلا بڑا امتحان ہے





