Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

پاکستان میں انٹرنیٹ کی کمزور رسائی، سیٹلائٹ انٹرنیٹ سے دور دراز علاقوں میں بہتری کی امید

پاکستان میں انٹرنیٹ کی کمزور رسائی، سیٹلائٹ انٹرنیٹ سے دور دراز علاقوں میں بہتری کی امید

پاکستان میں انٹرنیٹ تک رسائی میں گزشتہ برسوں کے دوران نمایاں اضافہ ہوا ہے، تاہم ملک کے بیشتر علاقوں میں انٹرنیٹ کی رفتار اور دستیابی اب بھی قابل اعتماد نہیں بڑے شہروں سے باہر نکلتے ہی موبائل سگنلز کمزور ہونے لگتے ہیں جبکہ دور دراز علاقوں میں تیز رفتار انٹرنیٹ کی سہولت مزید محدود ہے
اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2026 کے اختتام تک پاکستان میں تقریباً 164 ملین براڈ بینڈ رابطے موجود تھے، جن میں سے 159.5 ملین موبائل انٹرنیٹ کے ذریعے تھے مستقل انٹرنیٹ رابطوں کی تعداد تقریباً 4.4 ملین ہے، جبکہ فائبر انٹرنیٹ کے رابطے جون تک بڑھ کر 2.88 ملین ہو چکے تھے اس کے باوجود ملک کے 8 فیصد سے بھی کم گھرانے فائبر نیٹ ورک سے منسلک ہیں
فائبر انٹرنیٹ کے پھیلاؤ میں سب سے بڑی رکاوٹ اس کی لاگت ہے ایک گھر تک فائبر پہنچانے پر تقریباً 60,000 سے 120,000 روپے خرچ آتا ہے کیبل، آپٹیکل نیٹ ورک ٹرمینل اور دیگر ضروری سامان بڑی حد تک درآمد کیا جاتا ہے، جس پر تقریباً 70 فیصد محصولات بھی عائد ہوتے ہیں صارف عام طور پر ابتدائی طور پر صرف 10,000 سے 15,000 روپے ادا کرتا ہے، جبکہ باقی سرمایہ کاری انٹرنیٹ فراہم کرنے والی کمپنی کو برداشت کرنا پڑتی ہے
یہ صورتحال خاص طور پر ان علاقوں میں مسئلہ بن جاتی ہے جہاں آبادی کم اور آمدنی محدود ہو ایسے علاقوں میں انٹرنیٹ کمپنیوں کے لیے فائبر بچھانا یا بڑی تعداد میں ٹاورز لگانا معاشی طور پر فائدہ مند نہیں رہتا
سیٹلائٹ انٹرنیٹ ایسے علاقوں کے لیے ایک متبادل راستہ فراہم کر سکتا ہے اس ٹیکنالوجی میں صارف کے مقام تک کیبل پہنچانے کی ضرورت نہیں ہوتی اور دور دراز علاقوں میں ایک سیٹلائٹ ٹرمینل کے ذریعے انٹرنیٹ فراہم کیا جا سکتا ہے
تاہم سیٹلائٹ انٹرنیٹ کے اپنے مسائل بھی ہیں۔ اس کی رفتار روایتی فائبر کے مقابلے میں بعض حالات میں کم ہو سکتی ہے اور اس کی ماہانہ لاگت عام گھریلو صارف کے لیے اب بھی زیادہ ہے اس لیے فی الحال اسے فائبر کا مکمل متبادل قرار دینے کے بجائے ایک اضافی سہولت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے
پاکستان کے بلوچستان، بالائی گلگت بلتستان اور کم آبادی والے دیگر علاقوں میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ کے لیے خاصا امکان موجود ہے ان علاقوں میں جہاں فائبر یا موبائل ٹاور لگانا مشکل اور مہنگا ہے، سیٹلائٹ کے ذریعے انٹرنیٹ فراہم کرنا زیادہ قابل عمل ہو سکتا ہے
اس کے علاوہ دور دراز کاروباری مراکز، ہنگامی حالات، سیلاب، ہوا بازی، سمندری سرگرمیوں اور ایسے مقامات جہاں مستقل انٹرنیٹ رابطے کی ضرورت ہوتی ہے، وہاں بھی سیٹلائٹ انٹرنیٹ اہم کردار ادا کر سکتا ہے
پاکستان میں تقریباً 60,000 موبائل ٹاورز میں سے 18 فیصد سے بھی کم فائبر نیٹ ورک سے منسلک ہیں۔ 2032 تک اس شرح کو تقریباً 35 فیصد تک پہنچانے کا ہدف ہے اس صورتحال میں دور دراز ٹاورز تک رابطہ پہنچانے کے لیے سیٹلائٹ ٹیکنالوجی بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہے
دنیا کے دیگر ممالک کے تجربات سے بھی سیٹلائٹ انٹرنیٹ کی مختلف سطحوں پر طلب سامنے آئی ہے نائجیریا میں مارچ 2026 تک تقریباً 92,000 صارفین سیٹلائٹ انٹرنیٹ استعمال کر رہے تھے اور بعض بڑے شہروں میں طلب اتنی بڑھ گئی کہ نئے صارفین کے اندراج کو عارضی طور پر محدود کرنا پڑا۔ اس کے برعکس بنگلہ دیش میں آغاز کے 9 ماہ بعد صارفین کی تعداد صرف 3,990 رہی
پاکستان میں مستقل براڈ بینڈ کی رفتار بھی عالمی معیار سے کافی پیچھے ہے ملک میں مستقل براڈ بینڈ کی اوسط رفتار تقریباً 18.21 میگا بٹس فی سیکنڈ ہے جبکہ عالمی اوسط 125.59 میگا بٹس فی سیکنڈ کے قریب ہے
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں مستقل انٹرنیٹ کے 4.7 فیصد سے بھی کم رابطوں کی تشہیری رفتار 30 میگا بٹس فی سیکنڈ سے زیادہ ہے جبکہ 100 میگا بٹس فی سیکنڈ سے زیادہ رفتار رکھنے والے رابطے نصف فیصد سے بھی کم ہیں
ماہرین کے مطابق سیٹلائٹ انٹرنیٹ موبائل نیٹ ورک کے مقابلے میں براہ راست بڑا خطرہ نہیں بلکہ مختلف ضرورت پوری کرنے والی ٹیکنالوجی ہے اس کا زیادہ اثر ان سروسز پر پڑ سکتا ہے جو دور دراز مقامات، کاروباری اداروں اور متبادل رابطوں کے لیے پہلے ہی سیٹلائٹ یا دیگر مخصوص نظام استعمال کر رہی ہیں
سیٹلائٹ ٹیکنالوجی میں مسلسل ترقی، سیٹلائٹ بھیجنے کی لاگت میں کمی اور نئے نیٹ ورکس کے آنے سے مستقبل میں اس سہولت کی صلاحیت مزید بڑھنے کا امکان ہے۔ پاکستان کے لیے اصل چیلنج یہ ہوگا کہ ضابطہ کاری، بنیادی ڈھانچے اور قیمتوں کو اتنی تیزی سے بہتر بنایا جائے کہ سیٹلائٹ انٹرنیٹ ان علاقوں تک بھی پہنچ سکے جہاں روایتی انٹرنیٹ کا پھیلاؤ مشکل ہے

قومی خبریں سے مزید