بھارت میں نوجوانوں کی مزاحمت، حکومت کے خلاف بڑھتے دباؤ پر ریاستی ردعمل کا خدشہ
جنوبی ایشیا میں نوجوانوں کی سیاسی سرگرمیوں میں اضافہ ایک اہم تبدیلی کے طور پر سامنے آ رہا ہے بھارت میں نوجوانوں کی جانب سے شروع ہونے والی ’’کاکروچ‘‘ تحریک نے حکومتی پالیسیوں، تعلیمی نظام، روزگار اور سیاسی جواب دہی کے سوالات کو نمایاں کر دیا ہے
یہ تحریک ابتدا میں امتحانات میں بے ضابطگیوں اور نوجوانوں کے مستقبل سے متعلق بڑھتی ہوئی بے چینی کے خلاف ایک طنزیہ مہم کے طور پر سامنے آئی، لیکن بعد میں سڑکوں پر بڑے احتجاج میں تبدیل ہو گئی۔ دہلی میں ہزاروں نوجوانوں نے احتجاج کیا اور تعلیم کے شعبے میں اصلاحات اور حکومتی جواب دہی کا مطالبہ کیا
تحریک کے دوران نوجوانوں کی جانب سے حکومت پر دباؤ بڑھا اور احتجاج نے اتنی شدت اختیار کی کہ تعلیم کے وزیر کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا۔ تاہم تحریک کے رہنماؤں نے واضح کیا ہے کہ ان کی جدوجہد صرف ایک وزیر کے استعفے تک محدود نہیں بلکہ وہ تعلیمی نظام، روزگار اور سرکاری اداروں میں جواب دہی کے مسائل اٹھا رہے ہیں
تحریر میں جنوبی ایشیا کی صورتحال کو لاطینی امریکا میں ہونے والی سیاسی تبدیلیوں سے بھی جوڑا گیا ہے وہاں مہنگائی، سماجی عدم مساوات، بدعنوانی اور وبا کے بعد معاشی سست روی نے کئی حکومتوں کے خلاف عوامی بے چینی میں اضافہ کیا، جس کے نتیجے میں متعدد انتخابات میں سیاسی سمت تبدیل ہوئی
بھارت کے حوالے سے سب سے اہم سوال یہ اٹھایا گیا ہے کہ اگر نوجوانوں کی مزاحمت مزید مضبوط ہوئی تو حکومت کا ردعمل کیا ہوگا۔ تحریر میں موجودہ صورتحال کا موازنہ 1975 کی ہنگامی حالت سے کیا گیا ہے، جب اندرا گاندھی کی حکومت نے سیاسی مخالفین کے خلاف سخت اقدامات کیے تھے
تحریر میں پاکستان کی سیاسی تاریخ کا بھی حوالہ دیا گیا ہے اور یاد دلایا گیا ہے کہ ماضی میں بڑے سیاسی بحرانوں کے باوجود بعض مواقع پر عوامی ردعمل محدود اور احتجاج منتشر رہا اسی لیے موجودہ نوجوان تحریکوں کے لیے صرف جوش اور امید کافی نہیں بلکہ ممکنہ ریاستی دباؤ اور سیاسی نتائج کے لیے تیاری بھی ضروری قرار دی گئی ہے
بھارت میں نوجوانوں کی ’’کاکروچ‘‘ تحریک اب بھی سیاسی جماعت بننے کے بجائے ایک دباؤ کی تحریک کے طور پر آگے بڑھنے پر زور دے رہی ہے۔ اگلے مرحلے میں اس تحریک کی سمت اس بات کا تعین کرے گی کہ یہ وقتی احتجاج ثابت ہوتی ہے یا ملک کی سیاست میں ایک دیرپا نوجوان تحریک بن جاتی ہے۔





