مارک کیوبن کا اے آئی کے استعمال پر انتباہ، سیکھنے والے آگے بڑھیں گے اور انحصار کرنے والے ذہنی کمزوری کا شکار ہو سکتے ہیں
واشنگٹن: معروف امریکی کاروباری شخصیت اور ٹیکنالوجی سرمایہ کار مارک کیوبن نے مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اے آئی کا استعمال کرنے والوں کے درمیان ایک واضح فرق پیدا ہو سکتا ہے، جہاں کچھ لوگ اس ٹیکنالوجی سے اپنی صلاحیتیں بڑھائیں گے جبکہ کچھ لوگ اس پر حد سے زیادہ انحصار کر کے اپنی سوچنے اور سیکھنے کی صلاحیت متاثر کر سکتے ہیں۔
انک میگزین کی رپورٹ کے مطابق مارک کیوبن مصنوعی ذہانت کے ابتدائی اور بڑے حامیوں میں شامل رہے ہیں۔ وہ خود بھی اے آئی کے تجربات شیئر کرتے رہے ہیں اور ماضی میں ان لوگوں کو سخت تنبیہ کر چکے ہیں جو اس ٹیکنالوجی کو اپنانے سے گریز کر رہے ہیں۔
تاہم اب کیوبن کا مؤقف زیادہ محتاط ہو گیا ہے۔ ڈلاس ریجنل چیمبر کے ایک اے آئی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت استعمال کرنے والوں کی دو اقسام سامنے آ رہی ہیں۔
ان کے مطابق ایک طبقہ اے آئی کو ایک طاقتور آلے کے طور پر استعمال کرے گا، اپنی معلومات، تخلیقی صلاحیت اور کام کرنے کی رفتار میں اضافہ کرے گا اور مستقبل کی معیشت میں بہتر مقام حاصل کرے گا۔ دوسری جانب وہ لوگ جو سوچنے، تجزیہ کرنے اور سیکھنے کے عمل کو مکمل طور پر اے آئی کے حوالے کر دیں گے، ان کی ذہنی صلاحیتیں کمزور ہو سکتی ہیں اور ان کے کیریئر کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
ماہرین بھی اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کا اصل فائدہ اسی وقت حاصل کیا جا سکتا ہے جب انسان اسے اپنی صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے استعمال کرے، نہ کہ اپنی بنیادی سوچ اور فیصلہ سازی کی جگہ لینے کے لیے۔
کیوبن کے مطابق مستقبل میں کامیابی ان لوگوں کے حصے میں آئے گی جو اے آئی کو سیکھنے، تحقیق اور تخلیق کا ذریعہ بنائیں گے، جبکہ صرف آسان راستہ اختیار کرنے والے افراد اس ٹیکنالوجی کے دور میں پیچھے رہ سکتے ہیں





