سندھ حکومت قائم رہی تو آبادیاں قبرستان میں تبدیل ہو جائیں گی ، لاڑکانہ میں بھی بچوں میں ایڈز کا انکشاف
لاڑکانہ — لاڑکانہ کے چانڈکا میڈیکل کالج چلڈرن اسپتال کے اینٹی ریٹرو وائرل علاج مرکز میں صرف ایک ماہ کے دوران 73بچوں میں ایچ آئی وی وائرس کی تصدیق ہوئی ہے، جس نے صحت کے حکام میں تشویش پیدا کر دی ہے
حکام کے مطابق جون کے دوران سامنے آنے والے زیادہ تر نئے مریضوں کا تعلق ضلع خیرپور کے مختلف علاقوں سے ہے,بچوں میں ایچ آئی وی کے بڑھتے ہوئے کیسز نے نہ صرف علاج کی سہولیات پر دباؤ بڑھا دیا ہے بلکہ طبی عملے کی کمی کا مسئلہ بھی نمایاں کر دیا ہے
اینٹی ریٹرو وائرل علاج مرکز کے حکام کے مطابق روزانہ تقریباً 20ایسے مریض بھی مرکز کا دورہ کرتے ہیں جو پہلے سے علاج اور نگرانی کے مرحلے میں ہیں
مرکز انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بڑھتے ہوئے مریضوں کے باوجود ادارہ ایک فارماسسٹ کے بغیر کام کر رہا ہے، جبکہ مریضوں کی بڑھتی تعداد کو سنبھالنے کے لیے مزید جونیئر ڈاکٹروں کی ضرورت ہے
یہ مرکز متعدی بیماریوں کے کنٹرول کے شعبے کے تحت کام کرتا ہے۔ دورے کے دوران مشاہدہ کیا گیا کہ مرکز کی عمارت بھی خستہ حالی کا شکار ہے، جہاں ایک کمرے کی چھت کا پلستر گر چکا ہے، اسی جگہ ڈاکٹر اور معاون عملہ اپنی ذمہ داریاں انجام دیتے ہیں
چانڈکا میڈیکل کالج چلڈرن اسپتال کے شعبہ اطفال کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر شانتی لال نے بتایا کہ اسپتال کے بیرونی مریضوں کے شعبے میں معمول کے مطابق ایچ آئی وی کی جانچ کا آغاز7 جنوری سے کیا گیا تھا۔
ماہرین صحت کے مطابق بچوں میں ایچ آئی وی کے کیسز میں اضافہ ایک سنجیدہ مسئلہ ہے، جس کے لیے صرف علاج کافی نہیں بلکہ بیماری کی بروقت تشخیص، محفوظ طبی طریقہ کار، عوامی آگاہی اور متاثرہ خاندانوں کی مسلسل نگرانی بھی ضروری ہے
صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر متاثرہ بچوں کو بروقت علاج، مناسب ادویات اور مسلسل طبی نگرانی فراہم کی جائے تو وہ بہتر اور طویل زندگی گزار سکتے ہیں، لیکن اس کے لیے مراکز کو مناسب عملہ، ادویات اور بنیادی سہولیات فراہم کرنا ناگزیر ہے، ادھر سندھ کے شعبہ طب سے تعلق رکھنے والے ذمہ دار ذرائع نے بتایا ہے کراچی سے جیکب آباد تک کے بیشتر ہسپتالوں میں روزانہ کی بنیاد پر درجنوں ایڈز کے مریضوں میں اضافہ ہورہا ہے جسمیں ایک بڑی تعداد بچوں کی ہے اور اس مرض میں اضافے کی وجہ صوبے کے سرکاری ہسپتال ہیں جہاں ایک سرنج درجنوں بار استعمال ہوتی ہے کیونکہ ہسپتال کا عملہ و انتظامیہ دواؤں کے ساتھ سرینج کی بڑی تعداد بیچ کر کھا جاتے ہیں ، یہ ذمہ دار ذرئع کہتے ہیں کتے کے کاٹے کی ویکسین سے سرینجز اور ہر قسم کی ادویات کی بڑی تعداد ہسپتالوں کے اسٹورز سے پہنچنے سے پہلے ہی خرد برد ہوچکی ہوتی ہے یا اسکا آرڈر ہی جعلی بنتا ہے اور اس بدعنوانی میں اوپر سے نیچے تک لوگ ملوث ہیں ، ان ذرائع کا دعویٰ ہے صوبے میں کتے کے کاٹے کی ویکسین ضرورت مند کو تیس سے چالیس ہزار روپے میں فروخت کی جاتی ہے جبکہ سرینجز کا تو یہ حال ہے ایک سرینج کئی کئی ماہ گرم پانی سے دھو کر استعمال کرنا اب معمول بن چکا ہے جبکہ بعض لیب ٹیکنیشن تو دھونے کی زحمت کرنے پر تیار نہیں ، واضع رہے ابھی چند دن پہلے ہی کراچی کے ایک ہسپتال میں استعمال شدہ سرنجز کے باعث سو سے زائد مریض بچوں میں ایڈز کا انکشاف ہوا تھا





