Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

اقتدار کے ایوانوں میں بے چینی، معاشی دعوے ماند پڑ گئے اسلام آباد میں بڑی تبدیلیوں کی سرگوشیاں تیز

اقتدار کے ایوانوں میں بے چینی، معاشی دعوے ماند پڑ گئے: اسلام آباد میں بڑی تبدیلیوں کی سرگوشیاں تیز
رپورٹ آفاق فاروقی
اسلام آباد کے اقتدار کے ایوانوں میں ایک بار پھر غیر یقینی، بے چینی اور خاموش سیاسی نقل و حرکت کی بازگشت سنائی دینے لگی ہے۔ وہ حکومت جسے ملک میں ایک وسیع سیاسی اتحاد کی نمائندہ انتظامیہ قرار دیا جاتا ہے، اور جس میں تحریکِ انصاف کے سوا تقریباً تمام بڑی جماعتیں یا تو براہِ راست شریک ہیں یا پسِ پردہ حمایت فراہم کرتی دکھائی دیتی ہیں، اب شدید معاشی دباؤ، عالمی مالیاتی اداروں کی سخت شرائط اور بڑھتی ہوئی عوامی بے چینی کے نرغے میں آ چکی ہے۔ حکومت کے قیام کے وقت دعویٰ کیا گیا تھا کہ معیشت کو استحکام دیا جائے گا، سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوگا، مہنگائی قابو میں آئے گی اور عالمی اداروں کے ساتھ تعلقات بہتر بنا کر ملک کو دیوالیہ پن کے خطرات سے نکالا جائے گا۔ مگر دو برس گزرنے کے باوجود حالات اس کے برعکس دکھائی دیتے ہیں۔ مہنگائی کی شدت، کاروباری جمود، صنعتی سکڑاؤ اور مسلسل مالی دباؤ نے ان دعوؤں کو کمزور کر دیا ہے، جبکہ اقتدار کے اندر بھی اب یہ سوال اٹھنے لگا ہے کہ آخر اس معاشی حکمتِ عملی نے ملک کو دیا کیا ہے۔
عالمی مالیاتی ادارے کی حالیہ رپورٹ نے بھی حکومتی حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ ملک میں سالانہ تقریباً پچپن ہزار ارب روپے کی بدعنوانی ہوتی ہے، جبکہ تقریباً بیس ارب ڈالر کی مراعات اور سبسڈیز ایسے بااثر طبقات کو فائدہ پہنچاتی ہیں جو پہلے ہی معاشی طاقت رکھتے ہیں۔ رپورٹ میں اصلاحات کی رفتار کو ناکافی قرار دیتے ہوئے دباؤ بڑھایا گیا کہ ٹیکس، توانائی، ریاستی اداروں اور مراعاتی نظام میں فوری اور سخت تبدیلیاں کی جائیں۔
اسی تناظر میں وزیرِ خزانہ کے گرد بھی سوالات تیزی سے گردش کرنے لگے ہیں۔ اقتدار کے قریب سمجھے جانے والے حلقوں میں یہ تاثر بڑھ رہا ہے کہ موجودہ وزیرِ خزانہ، جنہیں ایک بینکاری پس منظر رکھنے والی شخصیت کے طور پر حکومت میں لایا گیا تھا، عالمی مالیاتی ادارے کے ساتھ سخت اور سیاسی نوعیت کے مذاکرات سنبھالنے میں ناکام رہے۔ بعض حلقوں میں یہاں تک کہا جا رہا ہے کہ حکومت نے عالمی مالیاتی دباؤ کے سامنے غیر معمولی حد تک جھکاؤ دکھایا، جس کے نتیجے میں عوام پر ٹیکسوں اور مہنگائی کا بوجھ بڑھتا چلا گیا جبکہ معیشت کے بنیادی ڈھانچے میں کوئی بڑی تبدیلی نہ آ سکی۔
تنقید کا ایک بڑا محور ملک کا بینکاری شعبہ بھی بن گیا ہے۔ معاشی مبصرین اور حکومتی ناقدین کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو برسوں میں بینکوں نے غیر معمولی منافع کمایا۔ الزام یہ ہے کہ بینکاری شعبے نے عوام کی جمع پونجی کو پیداواری شعبوں میں منتقل کرنے کے بجائے حکومتی قرضوں میں لگا کر صرف منافع اور سود کی بنیاد پر اربوں روپے کمائے، جبکہ صنعت، تجارت اور عام کاروبار کو اس دوران شدید مالی دباؤ کا سامنا رہا۔ اسی وجہ سے حکومت پر یہ تنقید بڑھ رہی ہے کہ اس کی معاشی پالیسیوں نے حقیقی معیشت کے بجائے صرف مالیاتی طبقے کو فائدہ پہنچایا۔
ذرائع کے مطابق اقتدار کے اندر اب بڑی تبدیلیوں پر غور شروع ہو چکا ہے، تاہم خطے میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی اور غیر یقینی صورتِ حال کے باعث ان فیصلوں کو وقتی طور پر روکے رکھا گیا ہے۔ باخبر حلقوں کا کہنا ہے کہ جیسے ہی خطے کی صورتحال نسبتاً واضح ہوگی، اسلام آباد میں اہم انتظامی اور سفارتی تبدیلیوں کا آغاز ہو سکتا ہے۔
انہی قیاس آرائیوں کے دوران ایک نام مسلسل گردش کر رہا ہے: ہارون اختر۔ صنعت کار اور تجربہ کار سیاسی شخصیت کے طور پر جانے جانے والے ہارون اختر مختلف ادوار میں مسلم لیگ اور تحریکِ انصاف دونوں کے قریب رہے ہیں۔ وہ ہمایوں اختر کے بھائی اور سابق فوجی و خفیہ پس منظر رکھنے والے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ سیاسی حلقوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ ان کے مختلف جماعتوں اور ریاستی اداروں کے ساتھ تعلقات نسبتاً متوازن ہیں، اسی لیے انہیں ایک ایسے ممکنہ چہرے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو مقتدر حلقوں، حکومتی اتحاد اور بعض ناراض سیاسی قوتوں کے لیے قابلِ قبول ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب واشنگٹن میں پاکستان کے سفارتی حلقوں کے بارے میں بھی چہ مگوئیاں بڑھ رہی ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ امریکہ میں تعینات موجودہ پاکستانی سفیر کی کارکردگی سے حکومت اور مقتدر حلقے مکمل طور پر مطمئن نہیں۔ باخبر حلقوں کے مطابق ان کی تقرری جلد بازی میں کی گئی تھی، جب سابق سفیر کا دور مکمل ہونے کے بعد فوری طور پر نئے نام کی ضرورت محسوس کی گئی۔ اگرچہ انہیں بعض طاقتور حلقوں کی حمایت حاصل رہی، لیکن اب یہ تاثر بڑھ رہا ہے کہ واشنگٹن میں پاکستان کی سفارتی موجودگی مطلوبہ سیاسی اور اہم مطلوبہ نتائج پیدا نہیں کر سکی۔
ذرائع یہ بھی کہتے ہیں کہ اس وقت ان تبدیلیوں کو کھل کر زیرِ بحث نہیں لایا جا رہا تاکہ اقتدار کے ایوانوں میں نئی دوڑ اور اندرونی کشمکش قبل از وقت شروع نہ ہو جائے۔ تاہم اسلام آباد کی سیاسی فضا میں یہ احساس مسلسل گہرا ہو رہا ہے کہ آنے والے مہینے صرف معاشی فیصلوں کے نہیں، بلکہ چہروں، عہدوں اور طاقت کے توازن میں بڑی تبدیلیوں کے بھی پیش خیمہ ثابت ہو سکتے ہیں۔

قومی خبریں سے مزید