حکومت نے ملک میں بڑھتی مہنگائی، ماحولیاتی آلودگی اور پٹرول کی قیمتوں میں بے قابو اضافے سے نمٹنے کے لیے عوام کو سستی اور ماحول دوست سفری سہولت فراہم کرنے کی غرض سے الیکٹرک بائیکس اور رکشوں پر 100 ارب روپے سے زائد کی سبسڈی دینے کا منصوبہ تیار کر لیا ہے۔
وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر کے مطابق الیکٹرک وہیکل پالیسی کی اصولی منظوری دی جا چکی ہے اور ایک ماہ کے اندر کابینہ سے بھی منظوری متوقع ہے۔ پالیسی کے تحت عوام کو 50 ہزار روپے کی سبسڈی دی جائے گی جبکہ بقیہ رقم کے لیے بلاسود قرض کی سہولت دی جائے گی۔

ابتدائی مرحلے میں 116,000 سے زائد الیکٹرک بائیکس اور 3,000 سے زائد رکشوں کو رعایتی نرخوں پر فروخت کیا جائے گا جبکہ چارجنگ اسٹیشنز کے لیے 20 ارب روپے بھی مختص کیے گئے ہیں۔
حکومت کا ہدف ہے کہ 2030 تک تمام گاڑیوں میں سے 30 فیصد الیکٹرک وہیکلز پر مشتمل ہوں۔ نئے نظام کے تحت صارفین کو بائیک کی قیمت کا صرف 20 فیصد ابتدائی طور پر دینا ہوگا، جس میں سے 50 ہزار حکومت ادا کرے گی باقی رقم دو سال میں بلاسود اقساط میں لی جائے گی۔
ادھر ایٹلس ہنڈا نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ حکومت کی پالیسی کے تحت رواں مالی سال کے دوران الیکٹرک سکوٹر متعارف کرائے گی۔ کمپنی کے مطابق یہ ماڈلز چینی شراکت داروں کی مدد سے بنائے جا رہے ہیں کیونکہ ای وی ٹیکنالوجی میں چین سب سے آگے ہے۔
ماہرین کے مطابق سبسڈی کے بغیر الیکٹرک بائیک کی قیمت ڈیڑھ لاکھ روپے کے بجائے ڈھائی لاکھ روپے تک جا پہنچتی ہے، جو عام صارف کی پہنچ سے باہر ہے۔ البتہ نئی پالیسی سے بائیک کی قیمت دو لاکھ تک لائی جا سکتی ہے۔
ماہرین نے حکومت کی اس کوشش کو سراہا ہے لیکن ساتھ ہی خبردار بھی کیا ہے کہ چارجنگ کا انفراسٹرکچر، بیٹری کی قیمت اور شہری علاقوں میں پارکنگ کی سہولت جیسے مسائل کو حل کیے بغیر صارفین کی دلچسپی محدود رہ سکتی ہے۔
ای وی مارکیٹ کے حوالے سے ماہرین کی رائے ہے کہ پاکستان میں اگلے چند برسوں تک گریفین بیٹریاں ہی زیادہ موزوں رہیں گی کیونکہ موجودہ بیٹری ٹیکنالوجی مہنگی اور محدود صارفین کی دسترس میں ہے۔





