قیمتی معدنیات کی برآمدات کے لئے ریکوڈک سے کراچی پورٹ ریل لنک قائم کیا جائے گا۔
دلبدین بلوچستان میں گرینڈ جرگے کا انعقادہوا جس میں وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی ،گورنر جعفر مندوخیل اور کور کمانڈر کوئٹہ سمیت اعلیٰ افسران اور قبائلی عمائدین نے شرکت کی ۔اس موقع پر وزیر اعلیٰ نے علاقے کی ڈویلپمنٹ کیلئے بھاری پیکیج کا اعلان کیا اور ریکوڈک منصوبے سے 25 فیصد منافع صوبہ بلوچستان کودینے کا اعلان کیا۔

وزیر اعلیٰ نے مزیدکہا کہ منصوبے کی تمام غیر ہنرمند بھرتیاں مقامی افراد سے ہوں گی۔ ریکوڈک جو تانبے اور سونے کے لامحدور ذخائر پر مشتمل ہے اس کی ڈویلپمنٹ اور انفراسٹرکچر کی تعمیر کے لئے عالمی بینک اور آئی ایف سی نے کئی سو ملین ڈالر قرض دیا ہے۔ یہ منصوبہ 2028 میں پیداوار شروع کرے گا۔

پاکستان ریلوے قیمتی معدنیات کی باحفاظت ترسیل کے لئے ریکوڈک منصوبے کی جگہ سے کراچی پورٹ تک کئی سو کلومیٹر ریلوے ٹریک بچھانے کیلئے بیرونی فنڈنگ حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہے۔
واضع رہے حالیہ دنوں میں معدنیات لے جانے والے متعدد ٹرکوں کو شرپسندوں نے نذر آتش کر دیا تھا جس کے بعد ٹرانسپورٹرز نے ٹرکوں کے ذریعے معدنیات کی ملک کے باقی حصوں کو ترسیل روک رکھی ہے۔ بلوچ قوم پرست مرکزی حکومت پر بلوچستان کے وسائل پر قابض ہونے کے الزامات لگاتے رہے ہیں اور صوبے کے عوام کی بدحالی کا ذُمّہ دار وفاق کو قرار دیتے ہیں ۔





