بلوچستان جہاں موت کے فرشتوں کو ملازمت ملتی ہے
بلوچستان جہاں موت کے فرشتوں کو ملازمت ملتی ہے
میر اسلم رند
بلوچستان کا سب سے بڑا مسئلہ شاید وسائل کی کمی نہیں بلکہ گورننس کی کمزوری اقربا پروری اور کرپشن ہے یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ یہاں اکثر فیصلے میرٹ کی بنیاد پر نہیں بلکہ سفارش تعلقات اور سیاسی مفادات کے تحت کیے جاتے ہیں جب یہ روش عام محکموں تک محدود رہے تو نقصان صرف اداروں کا ہوتا ہے لیکن جب یہی کھیل صحت جیسے شعبے میں کھیلا جائے تو اس کی قیمت انسان اپنی جان دے کر ادا کرتا ہے کچھ برس پہلے ایک سیاست دان سے ایک صحافی نے پوچھا کہ آپ نے بی اے کس کالج سے کیا جواب آیا بولان میڈیکل کالج سے اس وقت لوگ اس صاحب پر ہنسے تھے مگر افسوس کہ آج وہی مذاق ایک بھیانک حقیقت کی شکل اختیار کر چکا ہے سننے میں آیا ہے کہ نئے ٹراما سینٹر میں کنٹریکٹ کی بنیاد پر ہونے والی بھرتیوں میں بڑی تعداد ٹیکنیشنز کی ہے مگر حیرت اس وقت ہوئی جب ان میں سے کئی افراد سے متعلقہ کورس کے بارے میں پوچھا تو کوئی پرائمری اسکول کا نام لیتا ہے کوئی کسی عام اسکول کا اور بعض تو ایسی جامعات کا ذکر کرتے ہیں جہاں سرے سے یہ کورس موجود ہی نہیں مطلب سب جعلی ڈگریوں پر بھرتی ہوئے ہیں اگر یہ اطلاعات درست ہیں تو یہ صرف بے ضابطگی نہیں بلکہ عوام کی جانوں سے کھیلنے کے مترادف جرم ہے ہسپتال میں ایک غیر تربیت یافتہ ٹیکنیشن کی ایک غلطی کسی مریض کی جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے یہاں غلطی کی گنجائش نہیں ہوتی کیونکہ ہسپتال تجربہ گاہ نہیں بلکہ امید کی آخری کرن ہوتا ہے اگر اس امید کے چراغ پر بھی سفارش کا دھواں چھا جائے تو پھر عوام کس دروازے پر انصاف ڈھونڈیں وزیراعلیٰ صاحب آپ نے کئی بار عوام سے وعدہ کیا کہ نوکریاں فروخت نہیں ہونے دیں گے اور میرٹ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا اگر واقعی ایسا ہے تو پھر آپ کو کسی رپورٹ کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں بغیر اطلاع کے نئے ٹراما سینٹر کا دورہ کریں ہر ٹیکنیشن سے اس کی قابلیت ڈگری ڈپلومہ اور عملی مہارت کے بارے میں خود سوال کریں اگر سب کچھ میرٹ پر ہوا ہے تو حقیقت سامنے آ جائے گی اور اگر نہیں ہوا تو پھر قوم کو بھی معلوم ہو جائے گا کہ دعووں اور حقیقت میں کتنا فرق ہے اقتدار صرف اختیارات کا نام نہیں بلکہ ذمہ داری کا دوسرا نام ہے ایک غلط تقرری کا نتیجہ اگر کسی بے گناہ مریض کی موت کی صورت میں نکلتا ہے تو اس کا اخلاقی اور قانونی بوجھ صرف اس ملازم پر نہیں بلکہ اس پورے نظام پر ہوتا ہے جس نے نااہل شخص کو اس منصب تک پہنچایا یاد رکھیے تاریخ صرف ترقیاتی منصوبے نہیں لکھتی بلکہ یہ بھی لکھتی ہے کہ کس کے دور میں میرٹ دفن ہوا انصاف بکا اور عوام کی جانیں سفارش کی بھینٹ چڑھ گئیں اگر واقعی بلوچستان کو بدلنا ہے تو سب سے پہلے سفارش کی سیاست کو دفن کرنا ہوگا کیونکہ ہسپتالوں میں سفارش نہیں صلاحیت چاہیے قابلیت چاہیے اور عوام کو تقریروں سے نہیں بلکہ انصاف سے امید ملتی ہے آج اگر خاموشی اختیار کی گئی تو کل ہر وہ معصوم جان جو نااہلی اور اقربا پروری کی وجہ سے ضائع ہوگی اس کا سوال صرف دنیا کی عدالت میں نہیں بلکہ اللہ کی عدالت میں بھی ہوگا وہاں نہ کوئی سفارش چلے گی نہ کوئی سیاسی اثر و رسوخ نہ کوئی منصب کام آئے گا وہاں صرف اعمال کا حساب ہوگا
اب فیصلہ وزیر اعلی اور وزیر صحت کو کرنا ہے کہ وہ تاریخ میں عوام کے محافظ کے طور پر یاد رکھے جائیں گے یا ان لوگوں کے طور پر جن کے دور میں نوکریاں بانٹی گئیں اور زندگیوں کو داو پر لگایا گیا محکمہ صحت کے بارے میں اور بھی کافی انکشافات ہیں ابے بابت مکمل کالم لکھوں گا کیونکہ اس محکمے میں سالانہ اربوں روپے کا کرپشن ہو رہا ہے ینگ ڈاکٹر صاحبان کا رونا بلکل درست ہے وہ عوام کے لئے سہولیات اور اسپتالوں میں ڈسپلن چاہئتے ہیں لیکن محکمہ صحت میں تمام بڑے عہدے سفارش، اقربا ہروری ، اور تربوری پر متعین کئے گئے ہیں


