Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

اہم خبریں

حوثی باغیوں کی عدن کی جانب پیش قدمی، سعودی حملوں اور جوابی کارروائیوں سے یمن میں جنگ شدت اختیار کرگئی

یمن میں حوثی باغیوں نے سعودی عرب کی حمایت یافتہ حکومت کے عارضی دارالحکومت عدن کے قریب اپنی پیش قدمی جاری رکھتے ہوئے شہر سے صرف 80 کلومیٹر دور تک رسائی حاصل کرلی ہے، جبکہ سعودی قیادت میں اتحادی افواج اور حوثیوں کے درمیان سرحد پار حملوں کا سلسلہ بھی شدت اختیار کرگیا ہے فوجی ذرائع کے مطابق حوثیوں کی تازہ پیش قدمی انہیں 2015 کے بعد پہلی مرتبہ عدن کے اتنے قریب لے آئی ہے
یمن کے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومتی فوج اور حوثی باغیوں کے درمیان پیر کو طور الباحہ ضلع کے داخلی راستے پر واقع ایک فوجی کیمپ کے قریب شدید لڑائی جاری رہی یہ علاقہ عدن کی جانب پیش قدمی کے لیے اہم راستہ سمجھا جاتا ہے حوثیوں نے 3 روز قبل حکومتی فوجی ٹھکانوں پر حملہ شروع کیا تھا اور اس دوران المقطیرہ ضلع پر قبضہ کرلیا اس پیش رفت کے بعد عدن اور محصور شہر تعز کو ملانے والی مرکزی شاہراہ پر بھی خطرات بڑھ گئے ہیں
دوسری جانب حوثیوں نے پیر کو دعویٰ کیا کہ سعودی عرب کے فضائی حملوں میں بحیرہ احمر کے اہم بندرگاہ راس عیسیٰ اور تیل کی تنصیب کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں 7 افراد زخمی ہوئے حوثی وزارت صحت کے ترجمان کے مطابق راس عیسیٰ بندرگاہ پر حملے میں 4 شہری جبکہ باجل ضلع میں تیل کی تنصیب پر حملے میں 3 افراد زخمی ہوئے
حوثیوں نے ان حملوں کو بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا، جبکہ سعودی قیادت میں اتحادی افواج نے کہا کہ کارروائی کا مقصد حوثیوں کے زیر استعمال اہم وسائل کو غیر مؤثر بنانا تھا
حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے مشرقی علاقے میں دمام ایئرپورٹ پر ڈرون حملوں کا دعویٰ بھی کیا۔ حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع کے مطابق گزشتہ 48 گھنٹوں میں 2 ڈرون حملوں کے ذریعے دمام ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا گیا انہوں نے سعودی عرب کے جنوب مغربی علاقے میں ابتدائی انتباہی ریڈار اور فوجی ٹرانسپورٹ طیارے پر حملے کا بھی دعویٰ کیا
سعودی اتحادی افواج کے ترجمان ترکی المالکی نے کہا کہ ریاض کے علاقے میں 2 ڈرونز کو روک کر تباہ کردیا گیا۔سعودی شہری دفاع کے ادارے نے جنوبی اور مغربی شہروں خمیس مشیط، ابہا، طائف اور نجران میں خطرے کے انتباہات جاری کیے، تاہم بعد میں بتایا گیا کہ خطرہ ٹل گیا ہے
یمن میں جاری لڑائی اب مشرق وسطیٰ کی وسیع تر جنگ کا ایک اہم محاذ بن چکی ہے ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں نے سعودی عرب پر حملوں میں اضافہ کیا ہے، جبکہ سعودی اتحاد نے یمن میں حوثی ٹھکانوں پر فضائی حملے تیز کردیے ہیں اس کشیدگی نے 2022 میں اقوام متحدہ کی ثالثی سے ہونے والی جنگ بندی کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے
یمن کی جنگ 2014 میں اس وقت شروع ہوئی جب حوثیوں نے دارالحکومت صنعاء پر قبضہ کرکے حکومت کو وہاں سے بے دخل کردیا 2015 میں سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد نے حکومت کی حمایت میں فوجی کارروائی شروع کی طویل جنگ کے نتیجے میں ملک شدید انسانی بحران کا شکار ہوگیا، لاکھوں افراد بے گھر ہوئے اور خوراک، ادویات اور ایندھن کی قلت نے عوام کی مشکلات میں اضافہ کردیا
شہر تعز اکتوبر کے آغاز سے محاصرے میں ہے، جب حوثیوں نے اس کی جنوبی شاہراہ عدن کی جانب بند کردی اس صورتحال کے باعث 100,000 سے زیادہ افراد بے گھر ہوچکے ہیں جبکہ خوراک، ایندھن اور ادویات کی قلت مزید سنگین ہوگئی ہے
حوثیوں کی عدن کے قریب پیش قدمی، سعودی عرب کے فضائی حملوں اور دونوں جانب سے جوابی کارروائیوں نے یمن میں جنگ کے مزید پھیلاؤ کے خدشات بڑھا دیے ہیں اگر لڑائی اسی شدت سے جاری رہی تو نہ صرف یمن بلکہ بحیرہ احمر اور باب المندب کے اہم تجارتی راستوں کی سلامتی بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے

قومی خبریں سے مزید